ابن انشا نے شعرگوئی کا آغاز باقاعدہ اسکول کے زمانے ہی سے شروع کردیا تھا۔وہ اپنے تخلص سے متعلق بتاتے ہیں کہ سب سے پہلا تخلص اصغرتھا، پھر مایوس، عدم آبادی پسند آیا۔ مزید بتاتے ہیں کہ ہائی اسکول کے ایک استاد مولوی برکت علی لائق نے جو فارسی پڑھاتے تھے فرمایا کہ مایوس اچھا تخلص نہیں توقیصر کا دم چھلالگالیا۔ قیصر یا قیصرصحرائی بھی رہے لیکن چھپے تو ابن انشاکے نام سے۔ابن انشا اپنے اسکول کے ذہین ترین طلبا میں شمار ہوتے تھے۔