ارسطو اوناسس۔۔۔ دولت، طاقت اور ایک ادھوری خواہش

ارسطو اوناسس یونان کا وہ شہری تھا جسے ایک زمانے میں دنیا کا امیر ترین آدمی کہا جاتا تھا۔ اْس کے تجارتی جہاز سمندروں پر حکومت کرتے تھے۔ تیل، مال برداری اور عالمی تجارت میں اْس کا نام ایک سلطنت کی طرح گونجتا تھا۔ وہ صرف ایک بزنس مین نہیں بلکہ ایک عہد تھا۔
کہا جاتا ہے کہ امریکہ کے صدر جان ایف کینیڈی کی بیوہ جیکولین کینیڈی نے بھی دولت کے سحر میں اْس سے شادی کی، حالانکہ وہ عمر میں اْس سے کہیں چھوٹی تھیں۔ یہ شادی دنیا بھر میں خبروں کا مرکز بنی، مگر اس رشتے میں سکون کم اور مفاد زیادہ تھا۔
اوناسس کے پاس دولت، شہرت اورطاقت تھی مگر سکون نہ تھا۔ عمر کے آخری حصے میں وہ شدید بیماریوں میں گھِر گیا۔ اْس کی زندگی کا سب سے دردناک پہلو وہ عجیب بیماری تھی جس نے اْسے اپنی ہی آنکھوں پر اختیار سے محروم کر دیا۔
اْس کی پلکوں کے مسلز کام کرنا چھوڑ گئے تھے۔وہ خود اپنی آنکھیں جھپکا نہیں سکتا تھا۔ہر صبح ڈاکٹر آتا، اْس کے پپوٹے کھولتا اور ٹیپ لگا دیتا تاکہ آنکھیں کھلی رہیں۔رات کو ٹیپ اْتاری جاتی تو آنکھیں بند ہو جاتیں اور وہ سو جاتا۔
وہ انسان جس کے پاس دنیا کے سمندر، جہاز، شہر اور خزانے تھے وہ اپنی آنکھیں خود نہیں کھول سکتا تھا۔زندگی کے آخری دنوں میں جب اس سے پوچھا گیا:اس وقت آپ کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟
تو اْس نے جواب دیا:میں اپنی آنکھیں اپنی مرضی سے صرف ایک بار کھول لینا چاہتا ہوں۔اس کے لئے میں اپنی ساری دولت دینے کو تیار ہوں۔
یہ جملہ صرف ایک خواہش نہیں تھا بلکہ دولت ہونے کے باوجود بے بسی کا اعلان تھا۔
ارسطو اوناسس کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
دولت جسم کو نہیں خرید سکتی،طاقت تقدیر کو نہیں بدل سکتی،اور شہرت صحت کی ضمانت نہیں بنتی۔انسان جب تک صحت، سکون اور اختیار رکھتا ہے،تب تک وہ امیر ہے چاہے اس کے پاس ایک سکہ ہی کیوں نہ ہو۔
اوناسس دنیا کے امیر ترین انسانوں میں شامل تھا،مگر آخری لمحوں میں وہ دنیا کے بے بس ترین انسانوں میں شمار ہوتا تھا۔کیونکہ انسان کی اصل دولت آنکھوں کا کھلنا نہیں،بلکہ آنکھوں کا اختیار ہے

Daily Program

Livesteam thumbnail