مادام کیوری کا اصل نام ماریا اسکودوفسکا تھا۔ وہ 7 نومبر 1867کو پولینڈ کے ایک شہر میں پیدا ہوئیں۔ اس کے والدین تدریس کے شعبے سے منسلک تھے۔ اْن کے والد فزکس اور ریاضی کے استاد تھے۔ ان کی ایک لیبارٹری تھی جس کے مختلف کمروں میں ننھی
موجودہ دور میں بہت سے نوجوان زندگی کے بے شمار کام بِنا سوچے سمجھے کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ ان کی محنت رائیگاں چلی گئی۔ یہ زندگی آپ کی اپنی ہے اور معیار زندگی کو بہترین بنانا آپ کا فرض ہے۔ اپنے حالات کو بہتربنانے کی
ایک اَندازے کے مطابق مقدسہ اگاتھا کٹانیا،سسلی میں پیدا ہوئیں۔ اگر چہ آپ کی تاریخ پیدائش نامعلوم ہے لیکن یہ کہا جاتا ہے کہ آپ کی وفات 251خ س کے لگ بھگ ہوئی تھی۔ ایک روایت کے مطابق آپ کا جنم ایک امیر اور طاقتور گھرانے میں ہوا تھا۔ آپ ایک نہایت
کسی زمانے میں ایک سوداگر گھی کی خریدوفروخت کرتا تھا۔اس کے پڑوس میں ایک سادہ لوح شخص رہتا تھا۔جس کو دنیا کے مال واسباب سے کوئی غرض نہیں تھی۔ چونکہ اس کا کوئی ذریعہ آمدن نہ تھا اس لیے قناعت سے زندگی بسر کرتا۔اس سوداگر کو اس
ممتاز میلسی یکم فروری 1953 کو میلسی پنجاب میں پیدا ہوئے تھے اور 2013 میں ریڈیو سے وہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے بعد ریٹائرڈ ہوئے۔ انہوں نے 16 جون 1979 میں ریڈیو پاکستان سے وابستگی اختیار کی اور 15مارچ 1987کو سینئر پروڈیوسر بنے۔ممتاز
علامہ اقبال نے اپنی نظم ”ایک مکڑ اورمکھی“میں ایک کہانی بیان کی ہے کہ مکڑے نے کس مکاری سے مکھی کو اپنی باتوں سے ورغلایا اور مکڑے کی خوشامد سے کس طرح وہ موت کے منہ میں چلی گئی۔
غرض اے بھائیو!خْداوند میں خوش رہو۔تمہیں وہی بات بار بار لکھنا میرے لئے تکلیف نہیں۔اور تمہارے لئے مفیدہے۔(فیلپیوں 3:1)تندرستی اور طویل عمر حاصل کرنے کیلئے خوش رہنا اور مسکرانا نہایت ضروری ہے۔بعض لوگ اس لئے نہیں مسکراتے کہ یہ بچوں کاکام
ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔ وہ بہت محنتی اور دیانتدار تھا۔لوگ اس کی خوش اخلاقی اور ملنساری سے بہت متاثر تھے۔ وہ اپنا کام لگن سے کرتا۔ صبح سویرے کھیتوں میں چلا جاتا اور شام کے وقت گھر واپس آ جاتا۔ اس کی بیوی دوپہر کا
عزیزو!آج پاک کیتھولک کلیسیا ایمانی شادمانی کے ساتھ مقدسہ مریم مادر ِخدا کی عید مناتی ہے۔ یہ ایک قدیم عید ہے۔ پہلے پہل یہ عید 11 اکتوبر کو منائی جاتی تھی بعد ازاں یہ نئے سال کے آغاز پر منانے کا طے ہوا۔تاکہ سال کے آغاز ہی سے کلیسیا اْس فضل سے
نئے سال نے ایک بار پھر نئی اْمیدوں کے ساتھ ہماری زندگیوں میں قدم رکھاہے۔صرف سوچنے کی بات یہ نہیں کہ اس نئے سال میں ہم کیا کریں گے بلکہ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ ہم نے گزرے سال میں کیا کھویا اور کیا پایا؟کیاکسی غریب کی مدد کی؟ کیادوسروں