سسلی کی مقدسہ اگاتھا(نرسز اور بریسٹ کینسر سے لڑنے والی عورتوں کی مربیہ)

ایک اَندازے کے مطابق مقدسہ اگاتھا کٹانیا،سسلی میں پیدا ہوئیں۔ اگر چہ آپ کی تاریخ پیدائش نامعلوم ہے لیکن یہ کہا جاتا ہے کہ آپ کی وفات 251خ س کے لگ بھگ ہوئی تھی۔ ایک روایت کے مطابق آپ کا جنم ایک امیر اور طاقتور گھرانے میں ہوا تھا۔ آپ ایک نہایت خوبصورت دوشیزہ تھیں اور آپ نے ساری زِندگی کنوار پن میں گزارنے کاپختہ ارادہ کیا تھا۔کم عمری میں ہی آپ نے خود کو خدا کے لئے وقف کر دِیا۔ آپ کنواری، پاکیزہ بدن اورشفاف دل کی مالک اور اچھائیوں سے بھر پور تھیں۔ آپ کو مسیحی عقیدے پر مضبوطی سے کاربند رہنے کی وجہ سے اِذیت کا سامنا کرنا پڑا اور آج اِسی وجہ سے آپ پوری دُنیا میں ایک مقدسہ اور کم سن شہیدہ کے طور پر جانی اور پہچانی جاتی ہیں۔آپ نرسز اور بریسٹ کینسر سے لڑنے والی عورتوں کی مربیہ ہیں۔ آپ خدا کے لئے اپنی جان دینے کے لئے آمادہ اور اِیمان کی طاقت سے بھر پور تھیں اور اِسی وجہ سے آپ آزمائشوں اور مشکلات سے لڑنے والوں ے لئے ایک خوبصورت اور حوصلہ افزا مثال ہیں۔ جب صدر کوئنٹیانس نے اگاتھا کواُس کے مقصد میں پختہ دیکھا تو اُس نے اُسے افرودیسیا نامی عورت کے پاس رکھا جس کی نو بیٹیاں تھیں اور بیٹیاں بھی ماں کی طرح بد فعلی کے کام اِ نجام دیتی تھیں۔کوئنٹیانس نے تیس دِن کے لئے اگاتھا کو فحاش عورتوں کے حوالے کر دِیا تاکہ وہ اُس کا دِل و دماغ تبدیل کر کے کوئنٹیانس کی مرضی پوری کرنے کے لئے تیار کر سکیں۔ افرودیسیا اور اُس کی بیٹیاں ایسا کرنے سے قاصر رہیں۔ آخر کاربتوں کی پوجا نہ کرنے پر صدر کوئنٹیانس نے اگاتھا کو قید خانہ میں ڈال دیا۔کوئنٹیانس نے اگاتھا سے کہاکہ”دو میں سے ایک کا انتخاب کرو۔ ہمارے معبودوں کے لئے قربانی کرو یا پھر تمہیں اذیتوں کا سامنا کرنا پڑے گا“۔ مقدسہ اگاتھا ایمان میں مضبوط اور مستحکم رہیں۔
دوسری بار اِنکار پر صدر کوئنٹیانس نے مقدسہ اگاتھا کے پستان کاٹنے کا حُکم دِیااور جب ظالم لوگوں نے اگاتھا کے پستان کھینچ کر کاٹ ڈالے تو اگاتھا نے کہا کہ”ظالم اورجابر لوگو! کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تُم نے عورت کے اُس حصے کو کاٹ ڈالا ہے جہاں سے تمہاری اپنی ماں نے تمہیں دودھ پلایا اور جس سے تم نے پرورش پائی؟ اِس کے بعدکوئنٹیانس نے مقدسہ اگاتھا کو قید خانے میں ڈال دیا، اور حکم دیا کہ کوئی بھی اُسے طبی مرہم پٹی کے لئے قید خانے میں داخل نہ ہو اور نہ ہی کوئی اُسے کھانے یا پینے کی چیزیں دے۔ جب اُسے قید خانے میں بند کیا گیا تو وہاں ایک بزرگ آیا، اُس کے ہاتھ میں طرح طرح کے مرہم تھے۔ اُس بزرگ نے کہا کہ”وہ ایک سرجن ہے“ اور اُسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ”مَیں وہاں موجود تھا جب ظالموں نے آپ کے پستان کاٹ ڈالے اور دیکھوکہ مَیں اِنہیں ٹھیک کر سکتا ہوں“۔
 پھر اگاتھا نے کہا کہ ”مَیں طبی دوا کے بارے میں نہیں جانتی تھی۔مَیں نے جو وعدہ اپنے بچپن میں خدا کے ساتھ کیا تھا،اب تک اُس پر قائم ہوں گی۔بزرگ نے جواب دیا کہ”مَیں بھی مسیحی ہوں اور ایک اچھا استاد اور طبیب(معالج) ہوں،تم مجھے کیوں نہیں کہتی کہ مَیں تمہیں شفا بخشوں؟“اگاتھا نے جواباً کہا ”کیونکہ میرے پاس یسوع مسیح ہے، میرا نجات دہندہ، جو ایک لفظ سے سب کو شفا دیتا ہے۔ بزرگ آدمی نے مسکراتے ہوئے کہا اور اُس نے مجھے یہاں بھیجا ہے کہ آپ کو شفا دوں۔ مَیں اُس کا رسول ہوں اور مَیں جانتا ہوں کہ آپ اُس کے نام سے ہی تندرست ہو گئی ہیں اور اِس کے ساتھ رسول وہاں سے غائب ہو گیا۔ تب اگاتھا دُعا میں مگن ہوگی اور کہا کہ”خداوند یسوع مسیح، مَیں آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ نے اپنے رسول،مقدس پطرس کو میرے پاس بھیجا، جس نے مجھے تسلی دی، اور میرے زخموں کو ٹھیک کیا“۔اوررویا کے بعد اگاتھا نے دیکھا کہ اُس کے پستان پھر سے بحال ہو گئے اور اُس کے تمام زخم بھی ٹھیک ہو گئے ہیں۔ اُس رات قید خانہ بڑی شفاف روشنی کے ساتھ بھر گیا اور داروغہ خوف سے قید خانے کو کھلا چھوڑ بھاگ گیا۔ چار دن کے بعد کوئنٹیانس اگاتھا کو عدالت میں اپنے سامنے لایا اور اُس سے پوچھا کہ ”وہ کون ہے جس نے تمہیں شفا دی؟ا گا تھا نے کہا کہ”یسوع المسیح نے مُجھے شفا بخشی ہے“۔ کوئنٹیانس نے کہا کہ پھر اب تم دیکھو گی کہ آیا وہ آپ کی مدد کر تا ہے یا نہیں؟ اور پھر کوئنٹیانس نے اگاتھا کو سر سے پاؤں تک برہنہ کر دیا، تاکہ جلتے ہوئے کوئلوں پر لڑھک جائے، اور اُس زمین پر جہاں مقدسہ کنواری کو لڑھکایا گیا تھا، زلزلے کی طرح کانپنے لگی، اور دیوار کا ایک حصہ کوئنٹیانس کے مشیر سلوین پر گرا، اور دوسرا اُس کے دوست فاسٹن پر گرا، جس کے مشورے سے اگاتھا کو اتنا عذاب دیا گیا۔ اور پھر کٹانیاکا سارا شہر شرمندہ ہو گیا، اور لوگ دوڑتے ہوئے کوئنٹیانس کے گھر پہنچے اور بڑے زور و شور سے کہنے لگے کہ”یہ شہر اِن عذابوں کی وجہ سے بڑے خطرے میں ہے جوتم نے اگاتھا کو دیئے ہیں“۔ کوئنٹیانس نے لوگوں کے درد کو دوگنا کر دیا، اور حکم دیا کہ اگاتھا کوقید خانہ میں ڈال دیا جائے۔ جب وہ قید خانہ میں آئی تو اُس نے اپنے ہاتھ جوڑ کر اُنہیں آسمان کی طرف اُٹھا لیا اور دُعا کرتے ہوئے کہا کہ ”اَے میرے خالق خدا! تُو نے بچپن ہی سے میری حفاظت کی ہے۔تُو نے مُجھے اپنی محبت کی خاطر یہ قوت بخشی کہ مَیں تیرے نام پر ہر دُکھ سہہ جاؤں۔اَب میری رُوح کو قبول کر“۔اِس دُعا کے بہت بعد مقدسہ اگاتھا نے اپنی رُوح خدا کے سپرد کر دِی۔ اور کوئنٹیانس جب مقدسہ اگاتھا کے والدین کو قید کرنے کے لئے جارہا تھا توراستے میں ہی وہ ایک بری موت سے مر گیا اور اس کے بعد ابھی تک پتہ نہیں چل سکا کہ اُس کی لاش کہاں ہے۔ آج ہم بھی مقدسہ اگاتھا سے دُعا کرتے ہیں کہ وہ خدا باپ سے ہماری شفاعت کرے تاکہ ہم بھی اُس کی مانند مسیحی اِیمان میں مضبوط اور ثابت قدم رہیں۔آمین!

 

Add new comment

1 + 5 =