مسکرانا ضروری ہے!

غرض اے بھائیو!خْداوند میں خوش رہو۔تمہیں وہی بات بار بار لکھنا میرے لئے تکلیف نہیں۔اور تمہارے لئے مفیدہے۔(فیلپیوں 3:1)تندرستی اور طویل عمر حاصل کرنے کیلئے خوش رہنا اور مسکرانا نہایت ضروری ہے۔بعض لوگ اس لئے نہیں مسکراتے کہ یہ بچوں کاکام ہے اور سنجیدہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں وہ خواہ مخواہ بوڑھے بنتے ہیں۔اْن کا دل انہیں کہتا ہے کہ تم بوڑھے ہو رہے ہو۔قدرت کے سامنے ہمیشہ خود کو بچہ سمجھیں تو آپ میں جوانی کا احساس موجود رہے گا۔غم وغصہ انسان کو کھا جاتے ہیں۔غم کی ایک ایک آہ عمر کو کم کر دیتی ہے۔بلاشبہ دْنیا  میں غم کے موقع آتے ہیں لیکن دْنیاوی سلسلہ کی یہ بھی کڑی ہے اسے برداشت کرنا چاہئے اور تمام حلات میں خوش و خرم رہنا چاہئے۔ہر روز دل کھول کت مسکرانے کے مواقع تلاش کرنے چاہئیں اور نہ ہو تو اپنے کمرے میں شیشہ کے سامنے کھڑے ہو کر ہی مسکرا لیا کریں۔مسکرانا حیات بخش خواص رکھتا ہے۔یقینا اس سے اچھے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔اور انسان کی قوتِ حیات میں اضافہ ہوتا ہے۔اس سے زندگی کے روشن پہلو کھلتے ہیں۔اگر انسان ہر وقت کام میں لگا رہے اور ہنسی کا وقت نہ ملے تو انسان مردہ دل ہو جاتا ہے۔اور مردہ دل لوگ زیادہ دیر زندہ نہیں رہتے۔تفریحات بھی ایسی ہونی چاہئیں جن سے مسکرانے کا موقع ملے۔اور ہاں ہنسی مذاق کا عنصر زیادہ ہو، خوفناک ڈرامے،اندوہناک لٹریچر سے پرہیز کرنا چاہئے۔کیونکہ انسان کی زندگی میں ویسے ہی کافی رنج و غم کے مواقع آتے رہتے ہیں پھر کسی المناک ڈرامے کو دیکھ کر یاخوفناک کہانی پڑھ کر وہ دل سے ہنسنے کی طاقت کھو بیٹھتا ہے۔ جب کوئی آدمی زندگی کے مسائل پر اتنا افسوس کرتا ہے اور رنجیدہ ہوتا ہے کہ بالکل نہیں مسکرا سکتا تو اس کی حالت قابلِ رحم ہوجاتی ہے۔ خوش اور مسرور رہنا جوانی اور صحت کی علامت ہے۔ اس لئے زندہ اور جوان رہنے کا بہترین طریقہ جوانوں جیسی طبیعت رکھنا ہے۔
اس لئے پولوس رسول کہتے ہیں کہ خداوند میں ہر وقت خوش رہو پھر کہتا ہوں خوش رہو۔ اور مقدسہ مدر ٹریضہ کہتی ہیں سب سے بڑی دولت خوشی ہے۔ اگر آپ کسی کو کچھ دینا چاہتے ہیں تو چھوٹی سی مسکراہٹ سے آپ اس کو خوشی دے سکتے ہیں۔ ہماری زندگی میں جب مشکلات آئیں ہمیں ان کو خوش دلی سے قبول کرنا چاہیے۔ یہ خدا کی طرف سے بڑا تحفہ ہے کہ وہ ہمیں جو بھی دیتا ہے یاجو بھی کرنے کو کہتا ہے، اس کو ایک مسکراہٹ کے ساتھ قبول کیا جائے۔ اْس کے لیے مسکرانا جو اْداس ہو،بارش میں کسی کو بچانے کے لئے اپنی چھتری کے نیچے پناہ دینا، کسی نابینا کو کتاب میں سے کچھ پڑھ کر سنانا، یہ سب اور دوسری اس قسم کی باتیں شاید چھوٹی ہو سکتی ہیں مگر ہماری یہی باتیں غریبوں کے لئے خدا کی محبت کے مضبوط اظہار کے لئے موزوں ہیں۔ انسان کبھی بھی نہیں سمجھ سکا کہ سادہ سی مسکراہٹ سے کتنی اچھی چیزیں حاصل ہو سکتی ہیں۔ بعض اوقات یہ انتہائی مشکل معلوم ہوتا ہے کہ اْن کے ساتھ مسکرا کر چلیں جو ہمارے ساتھ رہتے ہیں کیونکہ ہمارے لئے اپنے خاندان کے لوگوں کی نسبت دوسرے لوگوں کو مسکرا کر ملنازیادہ آسان لگتا ہے۔ لیکن ہم یہ کبھی نہ بھولیں کہ محبت گھر سے شروع ہوتی ہے۔ تو آئیں ْدعا کریں کہ یہ مسکراہٹ خدا کے فضل سے اس نئے سال میں ہمیشہ ہمارے خاندانوں میں قائم رہے۔آمین
 

Add new comment

2 + 8 =