خیالی پلاؤ مت بنائیے!

کسی زمانے میں ایک سوداگر گھی کی خریدوفروخت کرتا تھا۔اس کے پڑوس میں ایک سادہ لوح شخص رہتا تھا۔جس کو دنیا کے مال واسباب سے کوئی غرض نہیں تھی۔ چونکہ اس کا کوئی ذریعہ آمدن نہ تھا اس لیے قناعت سے زندگی بسر کرتا۔اس سوداگر کو اس شخص سے بڑی عقیدت تھی۔ وہ جب کوئی خرید وفروخت کرتا اور اس میں فائدہ حاصل کرتا تو گھی کا ایک پیالہ اس شخص کو بھیج دیتا۔ لیکن وہ تو قناعت پسند تھا اس لیے اسے جو گھی ملتا اس کا کچھ حصہ خرچ کرتا اور باقی ایک بڑے مرتبان میں رکھ دیتا۔ایک دن جب مرتبان گھی سے بھر گیا تو وہ شخص اپنے آپ سے کہنے لگا،مجھے اس گھی کی ضرورت نہیں ہے۔پس اسے کہاں لے جاؤں اور کس کو دوں؟اس کے بعد کہنے لگا کسی کو گھی سے بھرا ہوا مرتبان دے دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔وہ تو چند دن میں کھا لیں گے اور اسے ختم کر دیں گے۔پس بہترہے اسے فروخت کردوں اور رقم تجارت میں لگا دوں تاکہ روزانہ کچھ نہ کچھ آمدن ہوتی رہے اور دوسروں کی مدد بھی کروں۔پس وہ اسی طرح سوچتا رہا اور کہتا،اب میں دیکھتا ہوں کہ اس کا وزن کتنا ہو گا؟فرض کرتاہوں یہ پانچ من ہو گا،پانچ من گھی کی قیمت کتنی ہو گی؟اگر یہ گھی فروخت کر دوں تو اس رقم سے پانچ بھینسیں خرید سکتاہوں۔اگر چھ ماہ بعد ہر ایک نے بچہ دیا تو بھینسوں کی تعداد زیادہ ہو جائے گی۔پھر جلد ہی بھینسوں کا گلہ بن جائے گا اس لیے ان کے دودھ،دہی،پنیر،بالائی،گھی اور چمڑے سے جو رقم حاصل ہو گی اْس سے گھر کا کافی سامان خریدلوں گا اور صاحب حیثیت بن جاؤں گا۔ جب میرا شمار با حیثیت لوگوں میں ہو گا۔اس وقت میں کسی امیر خاندان سے رشتہ طلب کروں گا اور شادی کے کچھ عرصہ بعدبچوں کا باپ بن جاؤں گا۔لیکن اہم بات تو یہ ہے کہ بچوں کی تعلیم وتربیت اچھے طریقے سے ہونی چاہیے۔میری ساری توجہ اپنے بچوں پر ہو گی اور زیادہ بڑی ذمہ داری کی وجہ سے بھینسوں کی دیکھ بھال نہیں کر سکوں گا تو اس وقت میں ایک دونوکر رکھ لوں گا تاکہ بھینسوں کی دیکھ بھال کریں۔پھر مزید سوچنے لگا کہ بچے تو شرارتی ہوتے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ کھیل کھیل میں اپنی بھینسوں کو اذیت دیں لیکن وہ تو بچے ہو ں گے اس لیے پیار سے منع کروں گا۔لیکن نوکر تو بچے سے نرمی سے پیش نہیں آئیں گے اور ممکن ہے کسی دن بچے کو تھپڑ دے ماریں اور اسے کہیں کہ ایسی حرکتوں سے بازرہو لیکن میں نہ چاہوں گا کہ میرا بچہ غمگین ہویہ تو نوکر کی غلطی ہو گی کہ بچے کو تھپڑ مارے۔اگر ایسا اتفاق ہوا تو اسی لاٹھی سے جو میرے ہاتھ میں ہے ایسے زور سے نوکر کے سر پر رسید کروں گا۔انھیں خیالات میں ڈوبا ہوا تھا کہ اس کے ہاتھ میں جو لاٹھی تھی وہ گھی والے مرتبان پر دے ماری۔مرتبان ٹوٹ گیا اور سارا گھی زمین پر بہہ گیا۔ کچھ دیر کے بعد اسے کچھ ہوش آیا اور سمجھ گیا کہ خیالی پلاؤ پکانا اور بے فائدہ سوچ بچار کرنا بیہودہ کام ہے۔جبکہ دور اندیشی اور درست نقشہ بنانا عمدہ کام ہے۔
 

Add new comment

8 + 5 =