جلد بازی میں فیصلہ مت کیجئے!

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔ وہ بہت محنتی اور دیانتدار تھا۔لوگ اس کی خوش اخلاقی اور ملنساری سے بہت متاثر تھے۔ وہ اپنا کام لگن سے کرتا۔ صبح سویرے کھیتوں میں چلا جاتا اور شام کے وقت گھر واپس آ جاتا۔ اس کی بیوی دوپہر کا کھانا اسے خود کھیتوں میں دینے جاتی تھی۔ ایک دن دوپہر کا وقت تھا اس کی بیوی اسے کھانا دینے جا رہی تھی کہ شدید گرمی کی وجہ سے اسے پیاس لگی۔اس نے روٹیوں والا برتن ایک درخت کے نیچے رکھ دیا اور خود کنویں پر پانی پینے چلی گئی۔جب وہ پانی پی کر واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ روٹیوں پر چیونٹیا ں پھر رہی تھیں۔ اس نے روٹیوں کو اْٹھا کر جھاڑا اور کھیتوں میں اپنے شوہر کو کھانا دینے چلی گئی۔ کسان نے روٹی کھائی اور دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔ابھی اسے کھانا کھائے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ اچانک اسے قے آگئی اور وہ اسی وقت تڑپ تڑپ کر مر گیا۔اتفاق سے کسان کی بیوی ابھی کھیتوں میں ہی تھی کہ لوگوں نے کسان کو اس طرح مرتے دیکھا تو شور مچا دیا کہ اس کی بیوی نے اپنے شوہر کو مار دیا ہے۔ اسے پولیس کے حوالے کر دیا جائے۔عورت بہت پریشان ہوئی اتنے میں لوگوں نے پولیس کو اطلاع دے دی۔ جس کے بعد ایک انسپکٹر کھیتوں میں پہنچ گیا۔اس نے انصاف اور حکمت سے کام لیتے ہوئے تفتیش کا آغاز کیا اور عورت سے کہا کہ سچ سچ بتاؤ کیا ہوا تھا؟ عورت نے ساری تفصیل بتا دی۔پولیس انسپکٹر نے کہا کہ دوبارہ ویسا ہی کرو۔ کسان کی بیوی نے دوبارہ روٹیاں پکائیں اور اسی درخت کے نیچے رکھ دیں۔ کچھ دیر بعد اس پر بھی بہت ساری چیونٹیاں آ گئی۔ عورت نے روٹیوں کو جھاڑ کر انسپکٹر کے کہنے پر ایک کتے کو روٹی کھلا دی۔ کچھ ہی دیر بعد وہ کتا بھی مر گیا۔ انسپکٹر نے کہا اس درخت کو جڑ سے کٹواؤ۔جب درخت کاٹا گیا تو اس میں سے ایک مردہ زہریلا سانپ نکلا۔
اس پر بہت سے چونٹیاں پھر رہی تھی۔ اصل میں چیونٹیاں اس زہریلے مردہ سانپ کا گوشت کھا کر خود بھی زہریلی ہوگئی تھی اور کھانے والی چیز کو بھی انہوں نے ہی زہریلا کر دیا تھا۔جس کی وجہ سے کسان اور کتے کی موت ہوئی تھی۔ اس طرح انسپکٹر کی ذہانت کی وجہ سے نا صرف اس عورت کی بلکہ اس کے بچوں کی زندگیاں بھی تباہ ہونے سے بچ گئیں۔
عزیز دوستو! اس کہانی سے ہمیں دو سبق ملتے ہیں ایک یہ کہ ہمیں کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے جلدبازی نہیں کرنی چاہئے اورانصاف سے کام لینا چاہیے کیونکہ اگر فیصلہ کرتے ہوئے آپ سے ناانصافی ہو جائے تو اس کا سخت گناہ ملتا ہے اور انسان خود کو کبھی معاف بھی نہیں کر پاتا، اور دوسرا سبق یہ ہے کہ کسی بھی کھانے والی چیز کو کبھی بھی کھلا نہ رکھیں بلکہ ہمیشہ ڈھانپ کر رکھیں اور اگر کسی کھانے پینے والی چیز پر کیڑے مکوڑے یا حشرات جمع ہوجائیں تو اسے نہ کھایا جائے۔
 

Add new comment

5 + 8 =