جاپانی نئے سال کی 11 روایات
نیا سال خوراک، سجاوٹ اور خاندان کے ساتھ خاص وقت ہوتا ہے، خاص طور پر جاپانی ثقافت میں۔ جاپان میں نئے سال کی تقریبات کو اوشوگاتسو (Oshogatsu) کہا جاتا ہے، جو دسمبر کے آخری ہفتوں اور جنوری کے ابتدائی دنوں میں منائی جاتی ہیں۔ یہ تقریبات شنتو، بدھ مت اور جدید تصورات کا ایک مرکب ہیں۔
یہاں کچھ مشہور اوشوگاتسو روایات بیان کی گئی ہیں
۱۔سوسو ہارائی (Susuharai)
اوشوگاتسو سے پہلے گھر کی صفائی ایک اہم روایت ہے۔ یہ عموماً دسمبر کے آخر میں کی جاتی ہے، جس میں تاتامی چٹائیوں کی دھول صاف کرنا اور پرانے یا ٹوٹے ہوئے سامان کو نکالنا شامل ہے۔ مقصد یہ ہے کہ پچھلے سال کی گرد اور میل کو نئے سال میں نہ لے جایا جائے۔
۲۔شیمیکازاری (Shimekazari)
گھر کی صفائی کے بعد سجاوٹ لگانے کا وقت آتا ہے۔ کرسمس کی طرح جاپانی نئے سال کی سجاوٹ دوبارہ استعمال نہیں ہوتی بلکہ ہر سال نئی سجاوٹ لگانی پڑتی ہے تاکہ ماضی کو چھوڑنے کی علامت ہو۔ شیمیکازاری ایک خاص سجاوٹ ہے جو مقدس شنتو چاول، بھوسے کی رسی، صنوبر کی ٹہنیاں اور زیگ زیگ کاغذی پٹیاں (shide) سے بنتی ہے۔ یہ عام طور پر کرسمس کے بعد گھر، دکان یا ریستوراں کے دروازے پر لٹکائی جاتی ہے تاکہ بری روحیں دور رہیں۔
۳۔کادوماسو (Kadomatsu)
گھروں کے باہر لگائی جانے والی ایک اور روایتی چیز کادوماسو ہے۔ یہ صنوبر، بانس اور آلوبخارا کے درختوں سے بنتی ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دیوتاؤں کا عارضی رہائش گاہ ہے جو آ کر گھر والوں کو برکت دیتے ہیں۔ یہ سجاوٹ 7 جنوری تک باہر رہتی ہے اور 15 جنوری کے بعد جلا دی جاتی ہے تاکہ دیوتاؤں کو آزاد کیا جا سکے۔
۴۔کاگامی موچی (Kagami Mochi)
ایک اور اوشوگاتسو سجاوٹ، کاگامی موچی دو گول جاپانی چاول کا کیک (Mochi) سے بنتی ہے، جس میں چھوٹا کیک بڑے کیک کے اوپر رکھا جاتاہے اور اس کے اوپر کڑوا سنگترہ (daidai) رکھا جاتا ہے۔ دو کیک پچھلے سال اور نئے سال کی علامت ہیں اور سنگترہ نسل در نسل خاندان کی بقا کی نمائندگی کرتا ہے۔ موچی نئے سال کے دوسرے ہفتے کے آخر میں توڑ کر پکایا اور کھایا جاتا ہے۔
۵۔نینگاجو (Nengajo)
خاندان جاپانی نئے سال کی تقریبات کا اہم حصہ ہوتا ہے، اس لیے رشتہ دار ایک دوسرے کو نئے سال کے دن کارڈ (Nengajo) بھیجتے ہیں۔ یہ عام طور پر یکم جنوری کو پہنچنے کے لیے بھیجے جاتے ہیں اور اکثر نئے سال کے حیوانی زودیاک نشان سے مزین ہوتے ہیں۔ کارڈ میں عام طور پر مبارکباد اور گزشتہ سال کے لیے خاندان کی شکرگزاری کے الفاظ لکھے ہوتے ہیں۔ لیکن جن خاندان میں پچھلے سال موت ہوئی ہو، وہاں یہ کارڈ نہیں بھیجے جاتے۔
۶۔توشیکوشی سوبا (Toshikoshi Soba)
رات کے کھانے میں گندم کی لمبی اور پتلی نوڈلز (Toshikoshi Soba) کھائی جاتی ہیں، اس یقین کے ساتھ کہ لمبی نوڈلز کھانے سے طویل اور صحت مند زندگی ملے گی۔ گندم سخت حالات میں بھی اْگتی ہے، اس لیے یہ نئے سال میں مضبوطی کی علامت ہے۔ نوڈلز کو آدھی رات سے پہلے ختم کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ خوش قسمتی آئے۔
۷۔ہاتسومودے (Hatsumode)
جاپانی لوگ نئے سال کا استقبال عبادت گاہ یا مندر جا کر دْعا اور نیک خواہشات کے ساتھ کرتے ہیں۔ اسےHatsumodeکہتے ہیں، یعنی سال میں پہلی بار مندر یا عبادت گاہ جانا۔ یہ عام طور پر نئے سال کے پہلے تین دنوں میں کیا جاتا ہے۔ لوگ عموماًsaisenیا چندہ ڈال کر دعا کرتے ہیں۔
۸۔اوسیچی ریوری (Osechi Ryori)
نئے سال کے آغاز میں خاص کھانے بھی کھائے جاتے ہیں۔ اوسیچی ریوری خاص تین سے چار تہہ والے بِنٹو بکس (jubako) میں پیش کیے جاتے ہیں اور خاندان کے ساتھ بانٹے جاتے ہیں۔ ان میں مختلف کھانے شامل ہوتے ہیں، جیسے اُبلے ہوئے سمندری گھاس (konbu)، مچھلی کے کیک (kamaboko)، گوڑ بھورک (kinpira gobo) اور میٹھے کالے بینز (kuromame)، جن کے ہر ایک کا خاص مطلب ہوتا ہے۔ مثلاً، کالے بینز صحت کی علامت ہیں، جو ہر خاندان نئے سال میں چاہتا ہے۔
۹۔اوتوشیداما (Otoshidama)
نوجوانوں کے لیے سب سے دلچسپ روایت، اوتوشیداما ہے۔ والدین، دادا دادی یا رشتہ داروں کی طرف سے بچوں کو دی جانے والی رقم ہے۔ یہ بچوں کی پچھلے سال کی کوششوں کی تعریف کے لیے دی جاتی ہے۔ رقم عام طور پر 5,000 ین ($50-$60) ہوتی ہے اور بچے کے بڑھنے کے ساتھ بڑھتی ہے۔
۰۱۔جویا نو کانے (Joya no Kane)
یہ پرانے سال کو الوداع کہنے کی روایت ہے۔ جاپان کے بدھ مت مندروں میں آدھی رات سے کچھ منٹ پہلے بڑی گھنٹی (kane) 108 بار بجائی جاتی ہے۔ یہ سال کے سب سے اہم رسومات میں سے ایک ہے۔ 108 بار بجانے کی وجہ یہ ہے کہ بدھ مت کے مطابق انسانوں میں 108 قسم کی خواہشات اور جذبات ہوتے ہیں جیسے غصہ اور حسد، اور ہر گھنٹی ان پریشان کن خواہشات کو دور کرتی ہے۔
۱۱۔ڈونڈو یاکی (Dondo Yaki)
نئے سال کی تقریبات کے آخر میں، 15 جنوری کو، تمام سجاوٹ اور پچھلے سال کے تعویذ مندر میں جلا دیے جاتے ہیں۔ اس عمل کو Dondo Yaki کہا جاتا ہے تاکہ ”توشگا می دیوتا“وہ دیوتا جو سجاوٹ کے ذریعے بلایا گیا تھا۔اْسے الوداع کہا جا سکے۔