مقامی کلیسیاؤں میں پاک یوخرست کی روحانیت کو فروغ دیں: پاپائے اعظم لیو چہاردہم

 پوپ لیو چہاردہم
پوپ لیو چہاردہم

پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے ایشیا کی کیتھولک کلیسیا پر زور دیا ہے کہ وہ ہر مقامی کلیسیا میں یوخرستی عبادت کی روحانیت کو فروغ دے، کیونکہ یہی کلیسیائی اتحاد کی بنیاد اور ایشیا بھر میں حقیقی معنوں میں پْل تعمیر کرنے والی کلیسیا بننے کی کلید ہے۔پوپ لیو کا یہ پیغام 25 جولائی کی سہ پہر جکارتہ کے ہوٹل مولیا کے وانڈا روم میں فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کے 12ویں جنرل اسمبلی کے دوران ویڈیو پیغام کے ذریعہ نشر کیا گیا۔ایشیا بھر سے آئے ہوئے بشپ صاحبان، کاہنوں، مذہبی رہنماوں اور عام مومنین سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو چہاردہم نے اجلاس کے شرکاء کو اپنی روحانی قربت کا یقین دلایا اور کہا کہ وہ کلیسیا کے مستقبل کے مشن پر غور و فکر میں اْن کے ساتھ ہیں۔انہوں نے اپنے حالیہ شائع ہونے والی ستاویز ”عظیم الشان انسانیت“کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسیحی یکجہتی کا سرچشمہ مسیح کے بھید میں ہے اور یہ ساکرامنٹس، خصوصاً پاک یوخرست، کے ذریعہ پروان چڑھتی ہے۔پوپ لیو چہاردہم نے بشپ صاحبان سے براہِ راست اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی مقامی کلیسیاؤں میں پاک یوخرست کی روحانیت کو مسلسل فروغ دیں۔انہوں نے اس روحانیت کو ایسی روحانیت قرار دیا جو پاک یوخرست میں مسیح کے فضل سے جاری ہونے والی محبت کے ذریعے کلیسیائی اتحاد کو فروغ دیتی ہے۔پوپ کے مطابق جب مقامی کلیسیاؤں میں پاک یوخرست کی زندگی مضبوط ہوگی تو نہ صرف ہر ڈایوسیس کے اندر بلکہ ایشیا کی مختلف مقامی کلیسیاؤں کے درمیان بھی رفاقت مزید مستحکم ہوگی، جس کے نتیجے میں وہ انجیل کی زیادہ موثر گواہی دے سکیں گی۔
انہوں نے اْمید ظاہر کی کہ مقامی کلیسیاؤں کے درمیان رفاقت کے بندھن مزید مضبوط ہوں گے اور مختلف ممالک میں خدا کی حضوری کی نمایاں علامت بنیں گے، جس سے ایشیا بھر میں مل کر پْل تعمیر کرنے کے مشن کو تقویت ملے گی۔پوپ لیو چہاردہم نے اس پیغام کو ایف اے بی سی کی 12ویں جنرل اسمبلی کے مرکزی موضوع سے جوڑا، جو مسیح یسوع نے نتن ایل سے کہے تھے کہ”تْو اس سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا۔“  انہوں نے کہا کہ یسوع مسیح نہ صرف انسان اور خدا کے درمیان رفاقت کا سرچشمہ ہے بلکہ تمام ایمانداروں کے باہمی اتحاد کا بھی مرکز ہیں۔اپنے پیغام کے اختتام پر پوپ لیو نے اجلاس کو کلیسیا کی ماں، مقدسہ مریم، کی شفاعت کے سپرد کرتے ہوئے دْعا کی کہ وہ شرکاء کی روحانی امتیاز کے سفر میں رہنمائی کریں۔ انہوں نے تمام شرکاء کے لیے حکمت، ثابت قدمی اور خداوند کی برکت کی دْعا بھی کی اور برکت دی۔