فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز نے ایشیا میں سنڈیلٹی طرزِ حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے نظرثانی شدہ آئین کی منظوری دے دی۔
فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC)نے 25 جولائی کو اپنے آئین میں جامع ترامیم کی منظوری دے دی، جس سے فیڈریشن کے انتظامی نظام کو مضبوط بنانے اور اس کے ڈھانچے کو ایشیا کی کلیسیا کے سنڈیلٹی وژن سے ہم آہنگ کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC)نے 25 جولائی کو اپنے آئین میں جامع نظرثانی کی منظوری دی، جو فیڈریشن کے انتظامی نظام کو مضبوط بنانے اور اس کے ڈھانچے کو ایشیا میں کلیسیا کے سنڈیلٹی وژن سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔نظرثانی شدہ آئین کی منظوری جکارتہ میں FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی کے دوران شرکاء کی جانب سے تفصیلی گفتگو، غور و فکر اور روحانی امتیاز کے بعد دی گئی۔ اب نظرثانی شدہ متن کو نافذ العمل ہونے سے قبل منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ہوٹل مولیا کے وانڈا روم میں ہونے والے اجلاس کا آغاز FABC کے صدر کارڈینل فلیپ نری فیراؤ نے کیا۔ پوپ لیو چودہویں کے خصوصی نمائندے کارڈینل اوسوالڈ گراسئیس نے ترامیم کو ایک ایک شق کے حوالے سے پیش کیا، جبکہ FABC کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل فادر ولیم لا روس، نے ان کی معاونت کی۔ ان ترامیم کی تیاری سے قبل فیڈریشن کی مرکزی کمیٹی کی جانب سے ایک سال سے زائد عرصے تک مشاورت اور مسودہ سازی کا عمل جاری رہا۔تجویز پیش کرتے ہوئے کارڈینل فیراؤ نے نشاندہی کی کہ موجودہ آئین کو 2013 میں منظور کیا تھا۔ اس کے بعد FABC میں کلیسیائی و روحانی اور ادارہ جاتی سطح پر نمایاں ترقی ہوئی، بالخصوص سنڈ پر ہونے والے عالمی غور و فکر کے تجربے کے ذریعے۔
انہوں نے کہا کہ نظرثانی شدہ آئین FABC کے انتظامی دستاویز کو آج کی FABC کی حقیقت سے ہم آہنگ کرتا ہے۔کارڈینل گراسئیس نے زور دیا کہ ترامیم فیڈریشن کی شناخت کو تبدیل نہیں کرتیں بلکہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بتدریج سامنے آنے والی پیش رفت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتی ہیں۔انہوں نے اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم بنیادی طور پر کوئی نئی چیز پیش نہیں کر رہے، بلکہ آئین کو صرف آج کی FABC کی حقیقت کی عکاسی کرنے کے لیے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہے ہیں۔اہم تبدیلیوں میں FABC کی نئی وضاحت بھی شامل ہے، جس میں اسے ایشیا کی کلیسیاؤں کے اتحاد اور تنوع کا نمایاں اظہار قرار دیا گیا ہے۔ اس سے FABC کی شناخت کو محض رابطہ کاری کرنے والے ادارہ کی بجائے مقامی کلیسیاؤں کے اشتراک کے طور پر مزید واضح کیا گیا ہے۔نظرثانی شدہ آئین میں فیڈریشن کے مشن کو بھی وسیع کیا گیا ہے۔ اس میں الٰہیاتی اور کلیسیائی و روحانی تحقیق کے فروغ، بشپس کانفرنسز کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے، ویٹی کن کے مختلف اداروں اور دیگر براعظموں کی بشپس کانفرنسز کے ساتھ تعاون میں اضافے اور کلیسیائی و بین الاقوامی فورمز میں ایشیا کی کلیسیا کی نمائندگی کو واضح طور پر شامل کیا گیا ہے۔
ترامیم کے ذریعے فیڈریشن کے انتظامی نظام میں بھی اہم تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔ جنرل اسمبلی کو FABC کی اعلیٰ ترین اتھارٹی کے طور پر برقرار رکھتے ہوئے سابقہ عہدیداروں کے نظام کی جگہ ایک ایگزیکٹو بورڈ قائم کیا گیا ہے، جس میں صدر، نائب صدر اور سیکرٹری جنرل شامل ہوں گے۔نیا ڈھانچہ قیادت کے زیادہ باہمی تعاون پر مبنی ماڈل کی عکاسی کرتا ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ مرکزی کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد اور فیڈریشن کی کلیسیائی و روحانی ترجیحات کے موثر جواب دہ ہونے کا ذمہ دار ہوگا۔
مرکزی سیکرٹریٹ کے کردار کو بھی انتظامی رابطہ کاری سے آگے بڑھاتے ہوئے ایشیا کی کلیسیاؤں کے درمیان ابلاغ، تحقیق، مکالمہ اور تعاون کو شامل کیا گیا ہے۔ نظرثانی شدہ آئین میں ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور اسسٹنٹ سیکرٹری جنرلز کی ذمہ داریوں کو بھی باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے، جس سے فیڈریشن کے بڑھتے ہوئے کام کے لیے ادارہ جاتی وضاحت پیدا ہوگی۔ماحولیاتی نگہداشت کے لیے کلیسیا کے بڑھتے ہوئے عزم کی عکاسی کرتے ہوئے نظرثانی شدہ آئین میں تخلیق کی نگہداشت کو FABC کے مشن کا لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے۔
ترامیم میں دیگر مسیحی کلیسیاؤں کے ساتھ ایکومینیکل تعلقات اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ مکالمہ کے درمیان بھی زیادہ واضح فرق قائم کیا گیا ہے، جس سے دونوں کلیسیائی خدمات کی الگ نوعیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ سابقہ علاقائی اسمبلی کے حوالوں کی جگہ بشپ صاحبان کے گروپس کے زیادہ لچکدار تصور کو شامل کیا گیا ہے، جو فیڈریشن کے اندر علاقائی تعاون کے بدلتے ہوئے انداز کی عکاسی کرتا ہے۔
گفتگو کے دوران شرکاء نے زور دیا کہ زیادہ موثر انتظامی نظام کو ہمیشہ اشتراک، جواب دہی اور مشترکہ روحانی امتیاز کی بنیاد پر قائم رہنا چاہیے۔ آئینی نوعیت کے اہم فیصلوں کے لیے جنرل اسمبلی کی منظوری اور توثیق کا عمل جاری رہے گا۔ شرکا نے مستقبل میں ضابطہ کار کے ذریعے الیکٹرانک ووٹنگ متعارف کرانے کے ممکنہ امکان پر بھی گفتگو کی۔منظوری کا پورا عمل خود بھی اسمبلی میں فروغ دیے جانے والے سنڈیلٹی طریقہ کار کی عکاسی کرتا رہا، جہاں بشپس نے نظرثانی شدہ متن کو منظور کرنے سے قبل ہر شق پر گفتگو کی اور اسے بہتر بنایا۔ توثیق کے بعد نظرثانی شدہ آئین سے توقع ہے کہ یہ FABC کی رہنمائی کرے گا تاکہ وہ باہمی و اجتماعی قیادت کو مزید مضبوط بنائے، سنڈیلٹی طرزِ حکمرانی کو گہرا کرے اور پورے ایشیا میں کلیسیا کے مشن کی حمایت جاری رکھے۔