فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز نے ایشیائی کلیسیا سے پْل اور پْل بنانے والی کلیسیا بننے کی اپیل کی۔
فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز FABC نے 26 جولائی کو اپنی 12ویں جنرل اسمبلی کا اختتام ایشیا کی عوام کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے کیا، جس کا عنوان’’تْو اس سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا۔“ (یوحنا 1:50) ہے۔فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز FABC نے 26 جولائی کو اپنی2 1ویں جنرل اسمبلی کا اختتام ایشیا کے عوام کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے کیا۔ اس پیغام میں پورے براعظم کی کلیسیا سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تقسیم، عدم مساوات اور تیز رفتار تبدیلیوں سے دوچار معاشروں میں پْل اور پْل بنانے والی کلیسیا بن کر اپنے سنڈ کے سفر کو مزید گہرا کرے۔
’تْو اس سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا۔“ (یوحنا 1:50)۔ کے عنوان سے یہ پیغام جکارتہ کے کیتھیڈرل آف آور لیڈی آف دی اسمپشن میں اختتامی عشائیہ کے اختتام پر آرچ بشپ گلبرٹ ارمیہ گارسرا نے پڑھ کر سنایا۔ اس پر FABC کے صدر اور گوا و دمن کے آرچ بشپ کارڈینل فلیپ نری فیراؤ نے اسمبلی کے ارکان کی جانب سے دستخط کیے۔ایشیا کے تمام نیک نیت لوگوں کے نام مخاطب کیے گئے اس پیغام میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی جنرل اسمبلی کے روحانی ثمرات کی عکاسی کی گئی ہے، جس میں ایشیا اور دنیا کے دیگر حصوں سے بشپ صاحبان، شرکا، شراکت دار اور دوستایک ایسے موضوع کے تحت جمع ہوئے جس کا عنوان ایشیا میں سنڈی تبدیلی اور پْل اور پْل بنانے والے بننے کا مشن تھا۔
یسوع مسیح کے نتن ایل سے کہے گئے الفاظ کہ ’تْو اس سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا۔“ (یوحنا 1:50)سے تحریک لیتے ہوئے بشپ صاحبان نے کہا کہ جنرل اسمبلی نے شرکا ء کو ان کے خوف سے آگے بڑھتے ہوئے خدا کی بادشاہی کے ایک نئے وژن کی طرف لے جانے میں مدد دی۔پیغام میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سنڈیلٹی محض مل کر کام کرنے کا ایک طریقہ نہیں بلکہ تبدیلی کا ایسا راستہ ہے جو مشن کی جانب لے جاتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ حقیقی تجدید کلیسیا کے ڈھانچوں اور اداروں تک پہنچنے سے پہلے دلوں اور باہمی تعلقات کی تبدیلی سے شروع ہوتی ہے۔
دْعا، ایک دوسرے کی بات سننے، خاموشی اور روح میں گفتگو کے دنوں پر غور کرتے ہوئے بشپ صاحبان نے کہا کہ وہ اس وسیع اتفاقِ رائے تک پہنچے کہ ایشیا کی کلیسیا کو مسلسل سنڈیلٹی تبدیلی کے ذریعے براعظم کے بھرپور ثقافتی، مذہبی اور سماجی تنوع کو قبول کرتے ہوئے پْل تعمیر کرنے کے لیے بلایا گیا ہے۔پیغام میں آج ایشیا کو درپیش متعدد چیلنجز کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں معاشرتی تقسیم، عالمی اداروں کی کمزوری، نقل مکانی، ماحولیاتی تباہی، بڑھتی ہوئی سماجی و معاشی ناہمواری، جمہوری مواقع میں کمی اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی شامل ہیں۔
بشپ صاحبان ان حالات کو محض رکاوٹوں کے طور پر دیکھنے کی بجائے تعلیم، بین المذاہب مکالمہ، مہمان نوازی، تخلیق کی نگہداشت اور انسانی وقار و یکجہتی کے لیے مضبوط عزم کے ذریعے نئے مشنری گواہی کے مواقع قرار دیتے ہیں۔بشپ صاحبان نے کلیرکل ازم کو بھی کلیسیا کے اندر ایک جاری چیلنج کے طور پر تسلیم کیا، جو کلیسیا میں اشتراک، شرکت اور مشترکہ ذمہ داری کو کمزور کرتا ہے۔ انہوں نے سننے، مشترکہ روحانی امتیاز اور خادم قیادت کے ذریعے مسلسل کلیسیائی و روحانی اور سنڈیلٹی تبدیلی کی اپیل کی۔
پیغام میں مسیح کو خدا اور انسانیت کے درمیان اور مختلف اقوام کے درمیان زندہ پْل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ بشپ صاحبان کے مطابق مسیح کی پیروی کرنے کا مطلب ہر مقامی ماحول میں پْل بنانے والے بننا ہے۔اس وژن کو شرکا کے جکارتہ میں واقع ٹنل آف فرینڈشپ کے دورے سے بھی تقویت ملی، جو کیتھیڈرل آف آور لیڈی آف دی اسمپشن اور استقلال مسجد کو آپس میں ملاتا ہے۔ بشپ صاحبان نے اس تجربہ کو اس بات کی موثر یاد دہانی قرار دیا کہ ایمان مسیحیوں کو رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے پْل تعمیر کرنے کے لیے بلاتا ہے۔
پیغام میں پوپ لیوچہاردہم کی اس اپیل کی بھی بازگشت سنائی دیتی ہے کہ مقامی کلیسیاؤں کے درمیان اشتراک کو مضبوط بنایا جائے تاکہ ایشیا کی کلیسیا براعظم کے ثقافتی اور مذہبی طور پر متنوع معاشروں میں اپنے مشن کو زیادہ موثر انداز میں پورا کر سکے۔جنرل اسمبلی کے اختتام پر بشپ صاحبان نے عہد کیا کہ وہ اپنی مقامی کلیسیاؤں میں ایک ایسی مشنری سنڈیلٹی کلیسیا کے طور پر واپس جائیں گے جو گہری توجہ سے سنتی ہے، حدود کو عبور کرتی ہے، غریبوں اور کمزور افراد کے ساتھ چلتی ہے، ماحولیاتی تبدیلی کو فروغ دیتی ہے اور سچائی، انصاف، امن اور مشترکہ گھر کی نگہداشت کے لیے مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔
انہوں نے اس مشن کو مقدسہ مریم، ایشیا کی ماں، کی شفاعت کے سپرد کرتے ہوئے دْعا کی کہ مسیح، زندہ پْل، انہیں تمام اقوام کے لیے مفاہمت اور اْمید کا وسیلہ بنائے۔