مقدس جان کرائسسٹم
کچھ آوازیں وقت گزرنے کے ساتھ خاموش نہیں ہوتیں، بلکہ صدیوں بعد بھی انسانوں کے دلوں میں گونجتی رہتی ہیں۔ کچھ الفاظ صرف کانوں تک نہیں پہنچتے بلکہ ضمیر کو جھنجھوڑتے، اْمید پیدا کرتے اور زندگی کا رخ بدلنے کی دعوت دیتے ہیں۔ مقدس جان کرائسسٹم بھی ایسی ہی ایک آواز تھے، جنہیں کلیسیا نے اْن کی غیر معمولی فصاحت و بلاغت کے باعث کرائسسٹم یعنی ”سنہری زبان والا“ کا لقب دیا گیا۔وہ چوتھی اور پانچویں صدی کے عظیم آبائے کلیسیا، مبلغ، بشپ اور کلیسیا کے معلّمین میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی زندگی خدا کے کلام سے محبت، غریبوں کے لیے ہمدردی، سچائی کے لیے جرأت اور خدمت کے جذبے کی گواہی دیتی ہے۔ کلیسیا ہر سال 13 ستمبر کو ان کی یاد مناتی ہے۔
مقدس جان تقریباً 349ء میں انطاکیہ میں پیدا ہوئے۔ کم عمری ہی میں والد کے سائے سے محروم ہوگئے، چنانچہ ان کی پرورش ان کی والدہ انتوسا نے کی۔ ایک بیوہ ماں کے لیے اس دور میں بیٹے کی تربیت آسان نہ تھی، لیکن انتوسا نے جان کی زندگی میں ایمان، دعا، نظم و ضبط اور دوسروں کے لیے ہمدردی کی ایسی بنیاد رکھی جس کے اثرات پوری زندگی ان کے ساتھ رہے۔ مقدس جان کی زندگی اس حقیقت کی خوبصورت مثال بن گئی کہ گھر بچے کی پہلی درسگاہ ہوتا ہے۔ والدین صرف اپنی باتوں سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے بچوں کی شخصیت تشکیل دیتے ہیں۔ انتوسا نے اپنے بیٹے کو تعلیم کے ساتھ ایمان اور خدمت کا راستہ بھی دکھایا۔
مقدس جان نے فلسفہ، ادب اور خطابت کی تعلیم حاصل کی اور اپنے زمانے کے معروف استاد لیبانیوس سے تعلیم حاصل کیا۔ ان کی ذہانت اور خطابت نے انہیں ابتدا ہی میں ممتاز کر دیا تھا۔ وہ چاہتے تو دنیاوی شہرت اور کامیابی کو اپنا مقصد بنا سکتے تھے، لیکن ان کے دل میں خدا کے کلام کی محبت بڑھتی گئی۔انہوں نے مقدس صحائف کا گہرا مطالعہ کیا اور اپنی زندگی کو خدا کی خدمت کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔ 368ء میں انہوں نے بپتسمہ حاصل کیا اور بعد ازاں کلیسیا کی خدمت کے لئے خود کو مخصوص کر دیا۔ان کی خطابت کا کمال یہ تھا کہ وہ پیچیدہ روحانی اور اخلاقی موضوعات کو عام لوگوں کی زندگی سے جوڑ کر بیان کرتے تھے۔ ان کے وعظ صرف سننے کے لیے نہیں ہوتے تھے بلکہ سننے والوں کو اپنی زندگی کا جائزہ لینے کی دعوت دیتے تھے۔
مقدس جان کی شہرت ان کی فصاحت سے زیادہ ان کے پیغام کی گہرائی کے باعث ہوئی۔ وہ سمجھتے تھے کہ خدا کا کلام صرف عبادت گاہ میں سننے کے لیے نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں عمل کرنے کے لیے ہے۔وہ لوگوں کو یاد دلاتے تھے کہ مسیحی ایمان کا مطلب صرف عبادت اور مذہبی رسومات ادا کرنا نہیں بلکہ ضرورت مند انسان کے ساتھ کھڑا ہونا بھی ہے۔ ان کے نزدیک غریب، بھوکا اور بے سہارا انسان محض معاشرتی مسئلہ نہیں بلکہ محبت اور خدمت کا مستحق انسان ہے۔اسی لیے انہوں نے دولت مند طبقے کو اپنی ذمہ داریوں کی یاد دلائی اور انہیں ترغیب دی کہ اپنی دولت اور وسائل کو صرف ذاتی آسائش کے لیے جمع نہ کریں بلکہ ضرورت مندوں کے ساتھ بانٹیں۔
397ء میں مقدس جان کو قسطنطنیہ کا بشپ مقرر کیا گیا۔ یہ ذمہ داری ان کے لیے اعزاز سے زیادہ خدمت کا موقع تھی۔ انہوں نے کلیسیا میں اصلاح، غریبوں کی مدد اور مسیحی زندگی کے عملی فروغ پر زور دیا۔وہ معاشرے میں موجود ناانصافیوں کے خلاف بھی آواز اٹھاتے تھے۔ طاقتور افراد کے سامنے سچ کہنا ان کے لیے آسان نہیں تھا، لیکن وہ اپنے منصب کو خاموش رہنے کا ذریعہ نہیں سمجھتے تھے۔ان کی یہی بے باکی بعض بااثر حلقوں کے لیے باعثِ ناراضگی بنی۔ مخالفت بڑھی اور بالآخر انہیں اپنے منصب سے محروم کرکے جلاوطن کردیا گیا۔مقدس جان کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچ بولنے کی ہمیشہ آسان قیمت نہیں ہوتی۔ انہوں نے دولت کے غلط استعمال، غرور اور سماجی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی۔ ان کا مقصد کسی فرد کی تحقیر نہیں بلکہ معاشرے کو اس کی اخلاقی ذمہ داری یاد دلانا تھا۔جلاوطنی اور مشکلات کے باوجود انہوں نے اپنے ایمان اور خدا کے کلام سے وابستگی نہیں چھوڑی۔ 14 ستمبر 407ء کو جلاوطنی کے دوران ان کا انتقال ہوا۔ان کے آخری ایام اس بات کی گواہی تھے کہ انسان کے ظاہری حالات بدل سکتے ہیں، مگر مضبوط ایمان اسے مشکلات میں بھی ثابت قدم رکھ سکتا ہے۔
مقدس جان کرائسسٹم کی وفات کے بعد بھی ان کی آواز خاموش نہ ہوئی۔ ان کے وعظ، تفسیری تحریریں اور روحانی تعلیمات آج بھی کلیسیا کے لیے اہم خزانہ ہیں۔ وہ کلیسیا کے عظیم آبائے کلیسیا میں شمار ہوتے ہیں اور انہیں ڈاکٹر آف دی چرچ کا مقام حاصل ہے۔خصوصاً مشرقی کلیسیا کی عبادتی روایت پر ان کا گہرا اثر ہے۔ آج بھی مقدس جان کرائسسٹم کی تعلیمات مسیحی ایمان کو سمجھنے، مقدس صحائف پر غور کرنے اور ایمان کو عملی زندگی سے جوڑنے میں مدد دیتی ہیں۔
مقدس جان کرائسسٹم کی زندگی صدیوں پرانی ضرور ہے، مگر ان کا پیغام آج بھی غیر معمولی طور پر متعلقہ محسوس ہوتا ہے۔ایک ایسے دور میں جب الفاظ لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں، ان کی زندگی ہمیں اپنی زبان کی ذمہ داری یاد دلاتی ہے۔ ہماری زبان کسی زخمی دل کو مزید زخمی بھی کر سکتی ہے اور کسی مایوس انسان کے لیے اْمید کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ہم اپنے الفاظ سے نفرت پھیلا سکتے ہیں یا محبت بانٹ سکتے ہیں۔ ہم کسی کو توڑ سکتے ہیں یا اس کا حوصلہ بڑھا سکتے ہیں۔ ہم سچائی کو چھپا سکتے ہیں یا اسے حکمت، محبت اور احترام کے ساتھ بیان کرسکتے ہیں۔یہی مقدس جان کرائسسٹم کی زندگی کا ایک خوبصورت سبق ہے:”زبان صرف بولنے کی صلاحیت نہیں، ایک ذمہ داری بھی ہے۔“ان کی زندگی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ایمان کا حقیقی حسن خدمت میں ظاہر ہوتا ہے۔ عبادت انسان کو دوسروں سے دور نہیں کرتی بلکہ اسے ضرورت مندوں کے قریب لے جاتی ہے۔ خدا سے محبت کا ایک راستہ انسان سے محبت اور اس کی خدمت بھی ہے۔
مقدس جان کرائسسٹم کی زندگی کو اگر چند الفاظ میں بیان کیا جائے تو وہ الفا ظ ”ایمان، سچائی، خدمت اور جرأت“ہوں گے۔
وہ ایک عظیم خطیب تھے، لیکن ان کی عظمت صرف خوبصورت الفاظ میں نہیں تھی۔ ان کے الفاظ ان کے عمل سے جڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے جو تعلیم دی، اسے اپنی زندگی میں جینے کی کوشش بھی کی۔آج ان کی یاد ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے الفاظ کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں، اپنے گھروں میں ایمان اور محبت کو فروغ دیں، غریبوں اور ضرورت مندوں کو نظر انداز نہ کریں اور مشکل حالات میں بھی سچائی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔مقدس جان کرائسسٹم کی سنہری زبان کا اصل حسن شاید یہی تھا کہ وہ صرف بولتی نہیں تھی، بلکہ انسان کو بہتر زندگی کی طرف بلاتی تھی۔ ان کی آواز صدیوں کا سفر طے کرکے آج بھی یہی پیغام دیتی ہے کہ سچائی محبت کے ساتھ کہی جائے، ایمان خدمت میں ڈھلے اور ہمارے الفاظ کسی کے لیے اْمید کا سبب بنیں۔
اے مقدس جان کرائسسٹم،
ہمارے لیے شفاعت کر
تاکہ ہم اپنی زبان کو سچائی، محبت اور خدمت کے لیے استعمال کریں
اور اپنی زندگی کو خدا اور انسانوں کی خدمت کا ذریعہ بنائیں۔ آمین۔
