سنڈیلٹی کو مشن کی طرف لے جانا چاہیے۔ کارڈینل پابلو ورجیلیو ڈیوڈ

فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کے نائب صدر کارڈینل پابلو ورجیلیو ڈیوڈ نے کہا ہے کہ سنڈیلٹی کی تبدیلی اسی وقت بامعنی ہے جب وہ کلیسیا کو مشن کی طرف لے جائے۔ان کے مطابق سنڈیلٹی کا مقصد صرف مذہبی سرگرمیوں کا فروغ نہیں بلکہ تمام انسانوں کو جوڑنے والی مشترکہ انسانیت اور انسانی عظمت کا تحفظ بھی ہے۔جولائی کو جکارتہ میں FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی کے اختتامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کارڈینل ڈیوڈ نے کہا کہ اس اجتماع کو صرف ہونے والی گفتگو اور مباحث کے حوالے سے یاد نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اس بات کے لیے بھی کہ اس نے ایشیا کی مقامی کلیسیاؤں کو پْل اور پْل بنانے والی کلیسیا بننے کی تحریک دی۔یہ پریس کانفرنس کیتھیڈرل آف آور لیڈی آف دی اسمپشن کے مرکز میں منعقد ہوئی۔ اس میں FABC کے ایسوسی ایٹ سیکرٹری جنرل اور دفتر برائے سنڈیلٹی کے ایگزیکٹو سیکرٹری فادر کلارنس دیواداس اور کیتھولک بشپس کانفرنس آف انڈونیشیا کے صدر بشپ انتونیئس سوبیانتو بنجامن نے بھی شرکت کی۔
پریس کانفرنس سے قبل شرکا نے جکارتہ کی فرینڈ شپ ٹنل کے ذریعے قریب واقع استقلال مسجد تک علامتی زیارت کی۔ یہ مسجد دنیا کی بڑی مساجد میں شمار ہوتی ہے۔جب کارڈینل ڈیوڈ سے پوچھا گیا کہ بشپ صاحبان اپنی مقامی کلیسیاؤں میں جنرل اسمبلی کا کون سا عملی نتیجہ لے کر جا سکتے ہیں تو انہوں نے جنرل اسمبلی کے مرکزی موضوع ”تو اس سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا۔“کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہی موضوع پورے ہفتے شرکا کی رہنمائی کرتا رہا۔انہوں نے کہا کہ بشپ صاحبان کے غوروفکر کا مرکز بالآخر دو ایسے مطالبات رہے جو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیے جا سکتے یعنی سنڈیلٹی تبدیلی اور مشنری خدمت۔کارڈینل ڈیوڈ نے کہا کہ سنڈیلٹی صرف طریقہ کار کا نام نہیں بلکہ روحانیت اور طرزِ زندگی ہے، یعنی کلیسیا ہونے کا ایک طریقہ ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ سنڈیلٹی محض کوئی حکمتِ عملی یا انتظامی عمل نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا ایک ایسا طریقہ ہے جو کلیسیا کی شناخت اور اس کے باہمی تعلقات کو تشکیل دیتا ہے۔
اسی لیے ان کے مطابق جنرل اسمبلی میں جس تبدیلی کا تصور پیش کیا گیا، وہ صرف ذاتی ایمان تک محدود نہیں بلکہ تعلقات، طریقہ کار اور کلیسیا کے ڈھانچوں کی تجدید کو بھی شامل کرتی ہے۔تاہم انہوں نے زور دیا کہ یہ تجدید صرف کلیسیا کے اندر تک محدود نہیں رہ سکتی۔انہوں نے کہا کہ یہی مشنری دعوت جنرل اسمبلی کے اس وژن میں نمایاں ہوئی کہ ایشیا میں کلیسی”ا پْل اور پْل بنانے والی کلیسیا“ بنے۔ اس کے ذریعے مقامی کلیسیاؤں کو دنیا کے ان خطوں میں مکالمہ، مفاہمت اور برادرانہ رفاقت کو فروغ دینے کی دعوت دی گئی ہے جو ثقافتی اور مذہبی اعتبار سے دنیا کے سب سے متنوع خطوں میں شمار ہوتے ہیں۔کارڈینل ڈیوڈ کے مطابق اختتامی عشائیہ کے بعد شرکا کا جکارتہ کی استقلال مسجد کا دورہ اس مشن کی ایک مؤثر عملی مثال تھا۔
انہوں نے کہا کہ مسجد اور جکارتہ کیتھیڈرل کو ملانے والی فرینڈ شپ ٹنل سے گزرنا محض ایک علامتی عمل نہیں تھا بلکہ اس بات کا عملی مظاہرہ تھا کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ باہمی احترام اور دوستی کے ساتھ ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔کارڈینل ڈیوڈ نے کہا کہ جنرل اسمبلی کے یادگار ترین تجربات میں سے ایک استقلال مسجد کے امامِ اعظم سے ملاقات اور انڈونیشیا میں بین المذاہب ہم آہنگی کے عزم کا مشاہدہ کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم یہ تجربہ اپنے ساتھ واپس لے کر جائیں گے۔کارڈینل ڈیوڈ نے کہا کہ اس ملاقات نے اس یقین کو مزید مضبوط کیا کہ مسیحی اور مسلمان سب سے بڑھ کر بھائی بہن ہیں اور مشترکہ انسانیت میں شریک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کلیسیا کا مشن صرف اپنے مذہب کو فروغ دینا نہیں ہے۔ جب ہم اپنی مشترکہ انسانیت اور مشترکہ انسانی عظمت کو فروغ دیتے ہیں تو یہی وہ مقام ہے جہاں ہم حقیقی طور پر ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی ملاقاتیں کلیسیا کے وسیع تر مشن کی عکاسی کرتی ہیں، جس کا مقصد ایسی محبت کی تہذیب کی تعمیر میں کردار ادا کرنا ہے جہاں مکالمہ، احترام اور تعاون تقسیم پر غالب آ جائیں۔ایشیا بھر میں اپنی مقامی کلیسیاؤں کی طرف واپس جانے والے بشپ صاحبان کے بارے میں کارڈینل ڈیوڈ نے کہا کہ اب اصل چیلنج یہ ہے کہ جنرل اسمبلی کی روح کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔انہوں نے زور دیا کہ سنڈیلٹی تبدیلی کو ایسا مشنری طرزِ زندگی اپنانا چاہیے جو کلیسیا کے اندر اور پورے ایشیا کی مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان پْل تعمیر کرے۔

Urdu Survey Popup