ڈیجیٹل مشن صرف مواد نہیں، رفاقت اور تعلقات کا نام ہے۔ ڈاکٹر نتاشا گوویکر
ڈیجیٹل بشارت کو صرف مواد تیار کرنے یا آن لائن رسائی اور سرگرمی بڑھانے تک محدود نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کا مقصد باہمی رفاقت اور تعلقات کو مضبوط بنانا بھی ہونا چاہیے۔ یہ بات ڈاکٹر نتاشا گوویکر، ویٹی کن ڈکاسٹری فار کمیونیکیشن کے شعبہ الٰہیات و پاسبانی امور کی ڈائریکٹر نے کہی۔ریڈیو ویریتاس ایشیا کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر گوویکر نے کہا کہ ڈیجیٹل دنیا میں کلیسیا کی موجودگی کا حتمی مقصد لوگوں کو حقیقی انسانی ملاقاتوں اور برادری کی طرف لے جانا ہونا چاہیے، اگرچہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم تنہائی، انحصار اور معاشرتی تقسیم کو بھی فروغ دے سکتے ہیں۔ڈاکٹر گوویکر نے کوئزون سٹی، میٹرو منیلا، فلپائن میں منعقدہ پہلی ایشین کیتھولک ڈیجیٹل مشنری اسمبلی میں معاونت اور رہنمائی کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا اور اسمبلی کے تین روزہ پروگرام میں شرکت کی۔ انہوں نے ڈیجیٹل دنیا میں کلیسیا کے ابلاغی وژن کے موضوع پر ایک نشست کی قیادت بھی کی۔
10 تا 13 ستمبر تک جاری رہنے والی اس اسمبلی میں ایشیا بھر سے 100 سے زائد کیتھولک ڈیجیٹل مشنری، ابلاغی ماہرین، مواد تیار کرنے والے اور مذہبی اثر رکھنے والی شخصیات شریک ہوئیں۔ اس کا انعقاد فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز کے دفتر برائے سماجی ابلاغیات اور ریڈیو ویریتاس ایشیا نے ویٹیکن ڈکاسٹری فار کمیونیکیشن کے اشتراک سے کیا۔ڈاکٹر گوویکر نے کہا کہ کلیسیا کو سب سے پہلے ان خطرات کو تسلیم کرنا ہوگا جو ڈیجیٹل دنیا کی ان راہداریوں میں موجود ہیں جنہیں انہوں نے ڈیجیٹل شاہراہیں قرار دیا۔ انہوں نے 2023 میں جاری ہونے والی پاسبانی دستاویز Towards Full Presence کا حوالہ دیا، جس میں ڈیجیٹل ابلاغ کے مواقع اور چیلنجز پر روشنی ڈالی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس دستاویز کی اشاعت کے بعد سے سوشل میڈیا کے حوالے سے خدشات مزید نمایاں ہوئے ہیں۔ اس بات کا شعور بھی بڑھا ہے کہ صارفین کی آن لائن سرگرمی زیادہ سے زیادہ رکھنے کے لیے بنائے گئے پلیٹ فارم کس طرح عادت بن جانے والے رویوں، مسلسل اسکرولنگ اور معاشرتی تقسیم کو بڑھا سکتے ہیں۔ڈاکٹر گوویکر نے کہا کہ کلیسیا بھی اس خطرے سے باہر نہیں ہے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے پیدا ہونے والی تقسیم مسیحی برادریوں کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ چیلنج یہ ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں موجودگی کا ایک مختلف انداز اپنایا جائے، ایسا انداز جو حقیقی انسانی ملاقاتوں کو فروغ دے اور بالآخر حقیقی برادریوں کی تعمیر اور باہمی رفاقت کو ممکن بنائے۔
ڈاکٹر گوویکر نے ڈیجیٹل دنیا میں ایمانی ابلاغ پروگرام پر بھی گفتگو کی۔ یہ اقدام سوشل میڈیا اور تربیت کے حوالے سے رہنمائی کی متعدد درخواستوں کے جواب میں شروع ہوا۔ابتدائی طور پر اسے ایک تجرباتی پروگرام کے طور پر ترتیب دیا گیا تھا، جس میں ہر سال مختلف ممالک سے منتخب کیے گئے 16 نوجوان پیشہ ور افراد شریک ہوتے تھے۔ مختلف ممالک، پس منظر اور شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے یہ شرکاء مل کر غوروفکر کرتے اور کلیسیا کے مخصوص اداروں کے لیے عملی ابلاغی منصوبوں پر کام کرتے تھے۔
پانچ سال کے بعد یہ پروگرام Fully Present Network کے نام سے ایک سابق شرکا کے فعال نیٹ ورک میں تبدیل ہوگیا ہے۔یہ نیٹ ورک آن لائن گروپس اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے اب بھی فعال ہے۔ اس کے سابق شرکا نے کلیسیا کے ابلاغی اقدامات میں تربیت کار، سہولت کار اور معاونین کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔ بعض افراد کو ویب سائٹس اور دیگر منصوبوں پر کام کرنے کے لیے بھی مدعو کیا گیا، جہاں ان کی مخصوص مہارتیں موثر ثابت ہوسکتی تھیں۔
تاہم ڈاکٹر گوویکر کے نزدیک اس پروگرام کا سب سے اہم سبق پیشہ ورانہ مہارتوں سے آگے بڑھ کر ہے۔ انہوں نے شاگردی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ لوگوں کے اپنے مشن میں آگے بڑھنے کے دوران ان کے ساتھ رہنمائی اور رفاقت کے ساتھ چلنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف مواد پہنچانے یا کسی پروگرام کو دوبارہ پیش کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک گہرے تجربے میں داخل ہونے کا عمل ہے، اور جب کوئی ایسا شخص ساتھ ہو جو پہلے ہی اسی طرح کے سفر سے گزر چکا ہو تو یہ سفر زیادہ آسان ہوجاتا ہے۔ان کا یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایشیا بھر میں کیتھولک برادریاں نوجوانوں تک پہنچنے اور ایمان کا پیغام عام کرنے کے لیے تیزی سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا رخ کر رہی ہیں۔ڈاکٹر گوویکر کے مطابق مقصد صرف بڑے سامعین پیدا کرنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ڈیجیٹل ابلاغ لوگوں کو حقیقی تعلق، باہمی وابستگی اور برادری کے احساس کی طرف لے جائے۔
