کلیسیا کو بابل کے معمار نہیں بلکہ اتحاد و یگانگت کے معمار بننا چاہیے۔کارڈینل ڈیوڈ
جکارتہ میں فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC)کی بارہویں جنرل اسمبلی کے آغاز سے قبل، کارڈینل پابلو ورجیلیو ڈیوڈ، نائب صدر FABC، نے کہا ہے کہ کلیسیا کو بابِل کے معمار بننے کے بجائے اتحاد و یگانگت کے معمار بننے کی دعوت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیغام پوپ لیو چہاردہم کی جانب سے ایشیا کی کلیسیاؤں کے لیے دیے گئے پیغام کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔جنرل اسمبلی سے قبل جاری کیے گئے اپنے پیغام میں کارڈینل ڈیوڈ نے پاپائے اعظم کے پیغام اور کارڈینل اوسوالڈ گریسیاس کی بطور پوپ کے خصوصی نمائندے تقرری کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوپ کا یہ پیغام اس فکر و تمیز سے مکمل ہم آہنگ ہے جو FABC کی سنڈیلیٹی کمیٹی نے اسمبلی کے موضوع سنڈی تبدیلی کے انتخاب کے دوران اختیار کی۔
کارڈینل ڈیوڈ نے یاد دلایا کہ کمیٹی نے سنڈی سفر کی علامت کے طور پر انجیل کی دو شخصیات پر غور کیا تھا: زکائی، جسے مسیح یسوع نے درخت سے نیچے اترنے کی دعوت دی، اور نتن ایل، جس کی مسیح سے ملاقات نے اْسے اس سے بھی بڑی باتیں دیکھنے کے قابل بنایا۔ اگرچہ مرکزی کمیٹی نے نتن ایل کو اسمبلی کے رہنما علامت کے طور پر منتخب کیا، لیکن کارڈینل ڈیوڈ کے مطابق یہ دونوں شخصیات تبدیلی کے ایک ہی روحانی سفر کے دو تکمیلی مراحل کی نمائندگی کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ زکائی فروتنی کی علامت ہے؛ یعنی غرور، مراعات اور خود پسندی کے درختوں سے نیچے اْترنا، جبکہ نتن ایل بلندی کی علامت ہے؛ یعنی مسیح سے ذاتی ملاقات کے ذریعے اس سے بھی بڑی حقیقتوں کو دیکھنے کے لیے آنکھوں کا کھل جانا۔
کارڈینل ڈیوڈ نے کہا کہ پوپ کی یہ دعوت کہ کلیسیا تقسیم کی علامت برجِ بابل کو دہرانے کے بجائے اتحاد کی تعمیر کرے، دراصل سنڈی تبدیلی کے سفر کااظہار ہے۔ ان کے مطابق کلیسیا کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ ہر فیصلے میں خدا کو اپنی نگاہ کا افق بنائے، جبکہ انسان کو اپنی توجہ کا مرکز رکھے، اور جدید دنیا کے حقائق اور چیلنجز کا سامنا کرنے سے ہرگز خوفزدہ نہ ہو۔یشیا کے مذہبی، ثقافتی اور سماجی تنوع پر غور کرتے ہوئے کارڈینل ڈیوڈ نے کہا کہ یہ براعظم عالمگیر کلیسیا کے لیے ایک منفرد اور قیمتی عطیہ رکھتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایشیا کی کلیسیاؤں کو یکسانیت پیدا کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے مکالمے، باہمی ملاقات اور ایک دوسرے کے احترام کے ذریعے حقیقی اتحاد کی گواہی دینی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسیح خدا اور انسان کے درمیان حقیقی پل ہے، اور حقیقی سنڈی تبدیلی کا مطلب یہی ہے کہ ہم خود کو مسیح کے اس عمل کے سپرد کریں جو لوگوں، ثقافتوں، مذاہب، غریبوں اور پوری تخلیق کے درمیان پْل تعمیر کرتا ہے۔
آخر میں کارڈینل ڈیوڈ نے اْمید ظاہر کی کہ FABC کی بارہویں جنرل اسمبلی نتن ایل کی روح کے مطابق کلیسیا کو اس سے بھی بڑی حقیقتیں دیکھنے میں مدد دے گی، تاکہ بشپ صاحبان، مذہبی رہنما اور تمام مومنین اتحاد، شراکت اور مشن کے جذبے کے ساتھ ایک ساتھ سفر جاری رکھ سکیں۔ انہوں نے اس اہم اجتماع کو روح القدس کی رہنمائی کے سپرد کیا۔