ورلڈ یوتھ ڈے سیول نے ایشیائی ڈیجیٹل مشنریوں سے نوجوانوں تک پہنچنے میں مدد کی اپیل کردی
آئندہ سال منعقد ہونے والے عالمی یومِ نوجوان سیول 2027 کے منتظمین نے ایشیا کے ڈیجیٹل مشنریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس عالمی اجتماع کا پیغام لاکھوں ایسے نوجوانوں تک پہنچانے میں مدد کریں جو جنوبی کوریا کا سفر کرنے سے قاصر ہوں گے۔عالمی یومِ نوجوان سیول 2027 کی مقامی آرگنائزنگ کمیٹی کی عالمی ابلاغی امور کی سربراہ اسٹیفنی سن نے کہا کہ چیلنج صرف زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو سیول لانا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ عالمی یومِ نوجوان کا تجربہ ان نوجوانوں تک پہنچے جو اپنے اپنے ممالک اور گھروں میں رہیں گے۔
12 ستمبر کو کوئزون سٹی، میٹرو منیلا میں منعقدہ پہلی ایشین کیتھولک ڈیجیٹل مشنری اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اسٹیفنی سن نے کہا کہ فاصلہ، اخراجات اور دیگر رکاوٹوں کے باعث بہت سے نوجوان 3 تا8 اگست 2027 تک ہونے والے اس عالمی اجتماع میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ سوال صرف یہ نہیں کہ ہم کتنے نوجوانوں کو کوریا لا سکتے ہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ WYD کا تجربہ ان لوگوں تک کتنی دور تک پہنچ سکتا ہے جو پہلے ہی اپنے مقامات پر موجود ہیں۔
انہوں نے ڈیجیٹل مشنریوں کو چیلنج کیا کہ وہ خود کو محض ایسے سامعین نہ سمجھیں جن تک سیول کو پہنچنا ہے بلکہ ایسے افراد کے طور پر دیکھیں جو اپنی زبانوں، ثقافتوں اور برادریوں کے ذریعے عالمی یومِ نوجوان کا پیغام دوسروں تک پہنچانے میں مدد کرسکتے ہیں۔اسٹیفنی سن نے کہا کہ براہِ راست آن لائن نشریات بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچ سکتی ہیں، لیکن وہ کسی پریشان حال نوجوان کے ساتھ بیٹھ کر اس کی بات نہیں سن سکتیں، مقامی زبان میں اس کے سوال کا جواب نہیں دے سکتیں اور نہ ہی کسی مخصوص پیرش یا برادری کے حالات کو پوری طرح سمجھ سکتی ہیں۔ مقامی ڈیجیٹل مشنری یہ کام اس لیے کرسکتے ہیں کیونکہ جن لوگوں کی وہ خدمت کرتے ہیں، ان کے درمیان پہلے ہی اعتماد رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوریا کے لیے امن کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ ملک اب بھی منقسم ہے۔ جزیرہ نما کوریا میں جنگ 1953 کی جنگ بندی کے بعد رک گئی تھی، تاہم کسی امن معاہدے کے ذریعے اس تنازعے کا باضابطہ خاتمہ نہیں ہوا۔
اسٹیفنی سن نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سیول 2027 ایسا پہلا عالمی یومِ نوجوانان ہوگا جو ایک ایسی ثقافت میں منعقد ہوگا جہاں مسیحیت کبھی اکثریتی مذہب نہیں رہی۔ ایشیا میں اس سے قبل 1995 میں منیلا عالمی یومِ نوجوان کی میزبانی کر چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل مشنریوں کا کردار نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے۔ لزبن میں 2023 کے عالمی یومِ نوجوان کے دوران پہلی مرتبہ کیتھولک انفلوئنسرز اور ڈیجیٹل مشنریوں کے لیے خصوصی اجتماع منعقد کیا گیا، جبکہ روم میں 2025 کے جوبلی سال کے دوران ڈیجیٹل مشن کے موضوع کے تحت کیتھولک انفلوئنسرز کو اکٹھا کیا گیا۔سیول 2027 کے لیے منتظمین عالمی یومِ نوجوان کے ہفتے کے دوران ڈیجیٹل مشنریوں کے لیے ایک خصوصی اجتماع اور فیسٹیول منعقد کرنے کی منصوبہ سازی کر رہے ہیں۔ رجسٹریشن اکتوبر 2026 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔
اسٹیفنی سن نے ایشیائی ڈیجیٹل مشنریوں پر زور دیا کہ وہ محض سیول سے مواد حاصل کرنے کی بجائے ابلاغی حکمتِ عملی کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔ منتظمین مختلف ممالک اور زبانوں میں قابلِ اعتماد آوازوں کی نشاندہی کرنا، مقامی سطح پر موثر طریقوں کو سمجھنا اور ایسا مواد مشترکہ طور پر تیار کرنا چاہتے ہیں موضوعاتی گیت بھی اسی طرزِ عمل کی مثال ہے۔ اس گیت کی رسائی اس وقت بڑھی جب نوجوانوں نے اسے ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیا، سیکھا اور اسے اپنا بنا لیا۔
اسی طرح WYD کی صلیب اور آئیکون بھی 2024 سے ایشیا اور جنوبی کوریا کے مختلف حصوں کا سفر کر رہے ہیں اور ایک ڈایوسیس سے دوسرے ڈایوسیس تک پہنچ رہے ہیں۔اسٹیفنی سن نے کہا کہ صلیب سیول میں آنے والوں کا انتظار نہیں کرتی بلکہ خود ان تک پہنچتی ہے۔انہوں نے ڈیجیٹل مشنریوں سے اپیل کی کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ کون سے لوگ اب بھی ان کی رسائی سے باہر ہیں، کون سے کام صرف مقامی سطح پر کیے جاسکتے ہیں اور انہیں سیول کی جانب سے کس قسم کی معاونت درکار ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر شخص سیول کا سفر کرنے کے قابل نہیں ہوگا، لیکن سب کو اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔
