ایشیا کا تنوع مشن کی طاقت بننا چاہیے۔فادر می شین
ریڈیو ویریتاس ایشیا 2027 میں جنوبی کوریا کے شہر سیول میں منعقد ہونے والے عالمی یومِ نوجوان میں ایشیا کے 40 ڈیجیٹل انفلوئنسرز کو لے جانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ ان 40 افراد کو 40 جوڑی آنکھوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو نوجوانوں اور مختلف برادریوں کے تجربات کو قریب سے دیکھیں گے اور انہیں ایشیا بھر کے کیتھولک افراد تک پہنچائیں گے۔ یہ بات آر۔ وی۔ اے کے پروگرام ڈائریکٹر فادر جان می شین نے کہی۔فادر می شین، جو فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز کے دفتر برائے سماجی ابلاغ کے ایگزیکٹو سیکریٹری بھی ہیں، نے 12 ستمبر کو کوئزون سٹی، میٹرو منیلا میں آر۔وی۔اے کے کیمپس میں واقع پوپ جان پال دوم آڈیٹوریم میں پہلی ایشیائی کیتھولک ڈیجیٹل مشنری اسمبلی کے صبح کے اجلاس میں اس منصوبے کا خاکہ پیش کیا۔
10 تا 13 ستمبر تک جاری رہنے والی چار روزہ اسمبلی میں ایشیا بھر سے 100 سے زائد کیتھولک ڈیجیٹل مشنری، ابلاغی ماہرین اور انفلوئنسرز شریک ہیں۔ اس اسمبلی کا موضوع انفلوئنسرز سے گواہان تک: ایشیا میں ڈیجیٹل مشن کے لیے سنڈی راستہ ہے۔ اس کا انعقاد فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز کے دفتر برائے سماجی ابلاغ اور آر وی اے نے ویٹی کن کے ڈیکاسٹری برائے ابلاغ کے اشتراک سے کیا ہے۔فادر می شین نے بتایا کہ سیول کا یہ منصوبہ ایشیائی ڈیجیٹل مشنریوں کے اْبھرتے ہوئے نیٹ ورک کا پہلا عملی مشن ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ایک غیر معمولی منصوبہ ہے کہ 2027 کے عالمی یومِ نوجوان میں 40 ڈیجیٹل انفلوئنسرز کو لے کر جائیں، اور مزید کہا کہ اسمبلی میں شریک بعض افراد اس گروپ کا حصہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ 40 افراد صرف روایتی میڈیا کی طرح عالمی یومِ نوجوان کی بڑی تقریبات، عبادات اور تقاریر کی کوریج کے لیے سیول نہیں جائیں گے۔بلکہ انہوں نے انہیں 40 جوڑی آنکھوں کے طور پر تصور کیا جو اْن مختلف مقامات پر جائیں گی جہاں نوجوان اس عالمی اجتماع کا تجربہ کر رہے ہوں گے۔ ان میں مقامی برادریاں، کلاس رومز، رہائش گاہیں، سڑکیں، وہ مقامات جہاں زائرین کھانا کھانے کے لیے جمع ہوں گے، فٹ بال کے میدان اور کوریائی خاندانوں کے گھر شامل ہوں گے، جو دنیا بھر سے آنے والے نوجوانوں کی میزبانی کریں گے۔انہوں نے کہا کہاس کا مقصد ان لوگوں اور تجربات کو دیکھنا اور دوسروں تک پہنچانا ہے یہ اقدام مختلف ثقافتوں، مذاہب اور غریبوں کے ساتھ مکالمے کے ایف اے بی سی کے وژن کا بھی اظہار ہوگا، جس میں ان لوگوں کو بھی شامل کیا جائے گا جو معاشرے میں سب سے کم نظر آتے ہیں یا جنہیں فراموش کر دیا جاتا ہے۔
40 ڈیجیٹل مشنری اپنے اپنے ممالک اور برادریوں میں یہ تجربات واپس لے کر جائیں گے، تاکہ وہ نوجوان جو سیول کا سفر نہیں کر سکتے، عالمی یومِ نوجوان کی تقریبات، کہانیوں، مشکلات اور خوشی کے لمحات میں شریک ہو سکیں۔اسی دوران فادر می شین نے ان 40 ڈیجیٹل مشنریوں کو 40 جوڑی کھڑکیوں سے بھی تشبیہ دی، جن کے ذریعے کوریائی کلیسیا ایشیا کے دیگر حصوں سے آنے والے نوجوان کیتھولک افراد کی حقیقتوں کو دیکھ سکے گی۔انہوں نے میانمار، کمبوڈیا، تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور چین جیسے ممالک کی مثال دی، جہاں سے آنے والے نوجوان کیتھولک مختلف زبانیں، ثقافتیں اور تجربات عالمی یومِ نوجوان کے اجتماع میں لے کر آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ 40 جوڑی کھڑکیاں 400، 4 اور پھر 40 ہزار جوڑی کھڑکیوں میں تبدیل ہو سکتی ہیں جنہیں ہم ایک دوسرے کے لیے کھول سکتے ہیں۔فادر می شین نے کہا کہ یہ وژن پوپ فرانسس کے فروغ دیے گئے سنڈی طریقہ کار کی عکاسی کرتا ہے، جس میں کلیسیا کو مل کر چلنے اور مل کر کام کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے۔تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایشیائی ڈیجیٹل مشنریوں کا مشن 2027 کے اجتماع سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مشنری وہ شخص ہے جسے بھیجے جانے سے پہلے ہی بلایا جا چکا ہوتا ہے۔ان کے مطابق، ڈیجیٹل مشنریوں کو انجیل کا پیغام دوسروں تک پہنچانے سے پہلے خداوند کے ساتھ وقت گزارنا اور خدا کے کلام میں اپنی بنیاد مضبوط کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایشیائی ڈیجیٹل مشنری اسمبلی صرف ایک مرتبہ منعقد ہونے والی تقریب نہیں بننی چاہیے۔ اس کی بجائے یہ ایک ایسے نیٹ ورک کے طور پر جاری رہنی چاہیے جس میں ڈیجیٹل مشنری اپنے اپنے ممالک واپس جائیں، عملی اقدامات کریں، اپنے تجربات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں اور بالآخر دوبارہ جمع ہو کر ایک دوسرے سے سیکھیں اور اپنے مشن کے بارے میں باہمی غوروفکر کریں۔
فادر می شین کے نزدیک ایشیا کا تنوع اس مشن کی طاقت بننا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ زبانوں، ثقافتوں اور پس منظر کے اختلافات کے باوجود ایشیا کے ڈیجیٹل مشنری ایک ہی ایمان رکھتے ہیں، ایک ہی کلیسیا سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک ہی خداوند، یسوع مسیح کی پیروی کرتے ہیں۔انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے گھروں کو واپس جائیں اور اسمبلی کے دوران جو کچھ انہوں نے دیکھا، سنا اور تجربہ کیا ہے اسے دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔انہوں نے کہا کہ مشن حقیقت میں اگلے سال عالمی یومِ نوجوان کے دوران شروع نہیں ہوگا، بلکہ مشن یہیں اور ابھی سے شروع ہوتا ہے۔
