ایف اے بی سی کے دفتر برائے کلرجی کا عزم: ایشیا بھر میں کاہنوں کی سنڈی تربیت کی ترجیح

 دفتر برائے کلرجی
دفتر برائے کلرجی

 فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کے دفتر برائے کلرجی نے 21 جولائی کو منعقدہ 12ویں ایف اے بی سی جنرل اسمبلی میں اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایشیا میں ایسی کلیسیا کی خدمت کے لیے کاہنوں کی تربیت جاری رکھی جائے گی جو زیادہ سنڈی اور مشنری روح کی حامل ہو۔آرچ بشپ اُدومالا بالا، چیئرمین دفتر برائے کاہنانہ اُمور، نے جکارتہ کے ہوٹل مولیا میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے ایشیائی کلیسیا کے بدلتے ہوئے پاسبانی حالات کے تناظر میں کاہنانہ تربیت کو مضبوط بنانے کے لیے گزشتہ دو دہائیوں سے جاری اقدامات کا جائزہ پیش کیا۔
اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اچھے چرواہے، یسوع مسیح کے نام میں آپ سب کو سلام۔
جون 2004 میں قائم ہونے والا ایف اے بی سی دفتر برائے کلرجی ایشیا بھر کے بشپ صاحبان، کاہنوں اور سیمنری کے تربیت کاروں کی معاونت سیمینارز، مشاورتی اجلاسوں اور کانفرنسز کے ذریعہ کرتا ہے۔ اس کا مقصد ایسے کاہن تیار کرنا ہے جو گہری روحانی زندگی، مشنری بصیرت اور خدمت گزار قیادت کے جذبے سے سرشار ہوں۔آرچ بشپ بالا نے کہا کہ کاہنوں کو اپنے بشپ صاحبان کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کرتے ہوئے ایسی کلیسیا کی تعمیر کرنی چاہیے جو عوامی شمولیت پر مبنی، ایشیائی ثقافتوں سے ہم آہنگ اور کلیسیا کے ”تین سہ مکالمہ“یعنی غریبوں، دیگر مذاہب کے ماننے والوں اور مقامی ثقافتوں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایشیا کی کلیسیا کو ایک ”چھوٹا ریوڑ“ سمجھتے ہیں، مگر ایسا ریوڑ جو زندہ، تبدیلی لانے والا اور اْمید سے بھرپور ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ کاہنوں کی مسلسل حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ سنڈی روح سے سرشارپاسبانی اور مشنری تجدید کی طرف بڑھتے رہیں۔
رپورٹ میں گزشتہ 22 برسوں کے تربیتی پروگراموں کا جائزہ بھی پیش کیا گیا۔ اس سلسلے کا آغاز 2006 میں تھائی لینڈ کے شہر ہُوا ہِن میں منعقد ہونے والے ایک سیمینار سے ہوا، جس میں ایشیائی تناظر میں کاہنوں کی انسانی تشکیل پر غور کیا گیا۔جوں جوں پاسبانی چیلنجز میں اضافہ ہوا، دفتر نے ان کاہنوں کی معاونت پر بھی توجہ دی جو ذاتی یا خدمتی مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔ 2008 میں ایک سیمینار ”بحران سے دوچار کاہنوں کی نگہداشت“ پر منعقد کیا گیا، جبکہ ایک اور اجلاس میں کاہنانہ شناخت اور بلاہٹ کی خوشی جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے۔اس کے بعد کے برسوں میں دفتر نے بچوں اور کمزور افراد کے تحفظ، کاہنانہ تجرد، جامع کاہنانہ تربیت اور بشارتی خدمت جیسے موضوعات پر مختلف پروگرام منعقد کیے۔ کرونا وبا کے بعد دفتر نے خاص طور پرتحفظ، سنڈی طرزِ زندگی اور سیمنریوں کی تجدید پر زیادہ توجہ مرکوز کی۔

 دفتر برائے کلرجی
دفتر برائے کلرجی


2022 میں دفتر نے”کیتھولک سیف گارڈنگ انسٹی ٹیوٹ، منیلا“ کے ساتھ شراکت داری قائم کی تاکہ بچوں اور دیگر کمزور افراد کے تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ اس کے بعد 2023 اور 2024 میں کاہنوں اور سیمنری کے تربیت کاروں کے لیے سنڈی موضوع پر خصوصی تربیتی پروگرام منعقد کیے گئے۔
آرچ بشپ بالا نے کہا کہ آج سنڈی دفتر کے تمام تربیتی منصوبوں کی بنیادی رہنما سوچ بن چکی ہے۔ 2025 میں ایشیا بھر کے بڑے سیمنریوں کے ریکٹروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا تاکہ FABC 50 دستاویز سے رہنمائی لیتے ہوئے مشترکہ تربیتی وسائل تیار کیے جا سکیں، جو مستقبل کے کاہنوں کو”سنڈ“ کو نہ صرف ایک طرزِ زندگی بلکہ خدمت کے نمونے کے طور پر اپنانے میں مدد دیں۔رپورٹ کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ کاہنانہ تربیت صرف سیمنری کے دور تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ایک کاہن کی پوری خدمتی زندگی پر محیط ہونی چاہیے تاکہ وہ خدا کے لوگوں کے ساتھ قریب سے چل سکیں اور ایشیا میں ایک زیادہ سنڈی اور مشنری کلیسیا کی قیادت کر سکیں۔