انڈونیشیا کے ثقافتی ورثہ نے FABC جنرل اسمبلی کے افتتاح میں سنڈی روح کو اْجاگر کیا۔
فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کی12ویں جنرل اسمبلی کے افتتاح کے موقع پر 21 جولائی کو ہوٹل مولیا، جکارتہ میں انڈونیشیا نے ایشیا بھر سے آنے والے بشپ صاحبان، کلیسیائی رہنماؤں اور شرکاء کا اپنے بھرپور ثقافتی ورثہ کے ذریعے استقبال کیا۔ روایتی موسیقی، علاقائی رقص اور مقامی ثقافتی مظاہروں نے جنرل اسمبلی کے اِس پیغام کو عملی شکل دی کہ کلیسیا ایک سنڈی برادری کے طور پر مل کر سفر کرے۔
FABC 2026 ایونٹس کمیٹی کے چیئرمین”فادر ہانس جیہاروٹ“ نے کہا کہ یہ ثقافتی پروگرام محض تفریح کے لیے نہیں بلکہ انڈونیشیا کی کلیسیا کی شناخت اور روح کی نمائندگی کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہر بڑے کلیسیائی اجتماع میں ہماری کوشش ہوتی ہے کہ انڈونیشیا کی کلیسیا کی وسعت، خوبصورتی اور ثقافتی تنوع کو نمایاں کیا جائے، تاکہ ملک کے مختلف علاقوں کی نمائندگی ممکن ہو سکے۔فادر ہانس نے بتایا کہ افتتاحی تقریب میں ”شمالی سماٹرا“کی ثقافت پیش کی گئی، جبکہ اختتامی تقریب میں فلوریس کے مشہور”جائی رقص“ کو شامل کیا جائے گا۔ اسی طرح”جاوا“ کی روایات نذرانوں کی پیشکش کے جلوس اور جکارتہ کیتھیڈرل میں ہونے والی عبادت کا بھی حصہ ہوں گی۔
افتتاحی تقریب میں گریٹر جکارتہ نارتھ سماٹرا کیتھولک فیملی ایسوسی ایشن (IKKSU) کی شرکت صرف ثقافتی مظاہرے تک محدود نہیں تھی بلکہ اس نے برسوں سے جاری کلیسیائی خدمت اور ضرورت مند برادریوں کے ساتھ یکجہتی کی بھی عکاسی کی۔یہ تنظیم شمالی سماٹرا کے مختلف نسلی گروہوں، جن میں ٹوبا باتاک، کارو، سیمالنگن، نیاس، پاک پاک اور دیگر برادریوں سے تعلق رکھنے والے کیتھولک شامل ہیں، کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے۔لوڈووک سیہیٹے، جو گریٹر جکارتہ IKKSU کے چیئرمین ہیں، نے بتایا کہ یہ تنظیم خاموشی سے کلیسیا کی خدمت انجام دیتی رہی ہے۔ وہ سوگوار خاندانوں کی دلجوئی، مالی مشکلات کا شکار طلبہ کی مدد، کاہن بننے کی تربیت حاصل کرنے والے طلبہ اور مذہبی راہب و راہبات کی معاونت کے ساتھ ساتھ مختلف پاسبانی ضروریات میں بھی تعاون کرتی ہے، خواہ کسی کا نسلی پس منظر کچھ بھی ہو۔
انہوں نے کہا کہ شاید ہم نے کوئی غیر معمولی کام نہیں کیا، لیکن ہم نے ہمیشہ وہاں موجود رہنے کی کوشش کی جہاں کلیسیا کو ہماری ضرورت محسوس ہوئی۔یہ جذبہ ِخدمت اس وقت نمایاں طور پر سامنے آیا جب شمالی سماٹرا کے ”ڈایوسیس آف سیبولگا“ میں قدرتی آفات آئیں۔ اس موقع پر IKKSU نے مقامی کلیسیا کے ساتھ مل کر امدادی اور بحالی کی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔ انہی خدمات کے اعتراف میں FABC کی انتظامیہ نے اس تنظیم کو افتتاحی تقریب میں شمالی سماٹرا کی نمائندگی کی دعوت دی۔فادر ہانس کے مطابق اس انتخاب کے پیچھے ایک گہرا روحانی مفہوم بھی تھا۔انہوں نے کہا کہ شمالی سماٹرا کے کئی علاقے حالیہ عرصے میں شدید قدرتی آفات سے متاثر ہوئے، اور آج تقریب میں شریک بہت سے افراد انہی بحالی کی سرگرمیوں میں شامل رہے تھے۔ اس لیے شفا، تجدید اور شکرگزاری کو افتتاحی عبادت کا حصہ بنانا نہایت موزوں تھا۔
IKKSU نے نوجوان نسل کی شرکت کو بھی خصوصی اہمیت دی۔ تنظیم نے صرف بزرگ ارکان پر انحصار کرنے کی بجائے نوجوانوں اور بچوں کو نمایاں ذمہ داریاں سونپیں، جن میں دو بچوں کی نذرانوں کے جلوس میں شرکت بھی شامل تھی۔لوڈووک سیہیٹے نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نئی نسل کو آگے آنے اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیں۔افتتاحی تقریب میں IKKSU کے 34 ارکان نے حصہ لیا، جن میں 10 ٹورٹور (Tortor) رقاص، تین تربیت کار، نذرانوں کے جلوس میں شریک چھ افراد، جبکہ دیگر ارکان نے دعاؤں اور موسیقی میں خدمات انجام دیں۔تقریب میں ”نوسانتارا ڈانسرز“ نے بھی انڈونیشیا کے مختلف علاقوں، خصوصاً ”سماٹرا، جاوا اور نوسا ٹینگارا“ کی روایتی رقص پیش کیے۔ رنگا رنگ ملبوسات، مقامی موسیقی اور روایتی اندازِ رقص نے ایشیا بھر سے آنے والے شرکاء کو انڈونیشیا کے ثقافتی حسن سے روشناس کرایا۔ثقافتی پروگرام کے دوران”ٹومی بولی لاکاوولو“نے معروف حمدیہ گیت پیش کیا، جو خدا کی تخلیق اور ایشیائی اقوام کے مشترکہ ثقافتی ورثہ پر شکرگزاری کا اظہار ہے۔
تقریب کا ایک نہایت جذباتی لمحہ اْس وقت آیا جب خصوصی صلاحیتوں کی حامل گلوکارہ ”کرسٹینا سانتوسو“ نے
Make Me a Channel of Your Peace پیش کیا،جو مقدس فرانسس آف اسیسی سے منسوب دْعا ہے۔ اْن کی اِس دلنشین پیشکش نے جنرل اسمبلی کے اِس پیغام کو مزید موثر بنایا کہ کلیسیا کو اَمن اور مفاہمت کے پْل تعمیر کرنے والے افراد کی ضرورت ہے، اور ہر انسان کلیسیا کے مشن میں اپنا منفرد کردار ادا کر سکتا ہے۔یہ تمام ثقافتی پرفارمنسزجنرل اسمبلی کے مرکزی موضوع ”سنڈی تبدیلی کی دعوت اور ایشیا میں پْل اور پْل تعمیر کرے والے بننے کا مشن“کی عملی تصویر تھیں۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ سنڈیلٹی صرف مکالمہ اور تنوع تک محدود نہیں بلکہ مقامی کلیسیاؤں کے ایمان، خدمت اور ثقافتی روایات کے ذریعے بھی بھرپور انداز میں ظاہر ہوتی ہے۔