جکارتہ کیتھیڈرل میں اختتامی پاک ماس اور سنڈیلٹی مشن کے عزم کے ساتھ فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز کی 12ویں جنرل اسمبلی کا اختتام

فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی 26 جولائی کو جکارتہ کے کیتھیڈرل آف آور لیڈی آف دی اسمپشن میں منعقدہ پُروقار پاک ماس کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر ایشیا بھر سے آئے بشپ صاحبان اور شرکاء اپنی مقامی کلیسیاؤں کی طرف سنڈیلٹی اور پْل بنانے کے نئے عزم کے ساتھ واپس روانہ ہوئے۔اختتامی عشائیہ کی صدارت جکارتہ کے آرچ بشپ کارڈینل اگناشیئس سُہاریو نے کی، جبکہ کیتھولک بشپس کانفرنس آف انڈونیشیا کے صدر بشپ انتونیئس سوبیانتو بنجامن OSC، FABC کے صدر کارڈینل فلیپ نری فیراؤ اور ایشیا بھر سے آئے بشپ صاحبان اور  کاہنوں نے عشائیہ میں شرکت کی۔ایک ہفتے تک جاری رہنے والی جنرل اسمبلی میں ایشیا بھر سے کارڈینلز، بشپ صاحبان، کاہن صاحبان، مذہبی رہنماوں اورمومنین نے شرکت کی۔ جنرل اسمبلی کا موضوع ”ایشیا میں سنڈیلٹی تبدیلی اور پْل اور پْل بنانے والے بننے کا مشن“ تھا۔
عبادت کے آغاز سے قبل شرکا نے کیتھیڈرل کے باہر اجتماعی یادگاری تصویر بنوائی۔ اس موقع پر مشرقی نوسا تنگارا کے علاقے نگادا کا روایتی جائی رقص پیش کیا گیا، جو مہمان نوازی اور اتحاد کی علامت تھا۔ عبادتی تقریب کے دوران انڈونیشیا کی ثقافتی روایات کا سلسلہ جاری رہا۔ داخلہ کے جلوس کے موقع پر تیموری رقص پیش کیا گیا جبکہ نذر و نیاز کے جلوس کے دوران کالیمانتان کا برڈ رقص پیش کیا گیا۔انڈونیشیا کی کلیسیا کے کثیر الثقافتی کردار کی عکاسی دعائے مومنین میں بھی ہوئی، جسے سندانی، نیاس، توراجا اور لاماہولوت زبانوں میں پیش کیا گیا۔ اس طرح ملک کی بھرپور لسانی اور ثقافتی گوناگونی نمایاں ہوئی۔
اپنے وعظ میں کارڈینل فیراؤ نے یاد دلایا کہ کلیسیا کا مستقبل اس بات سے وابستہ ہے کہ وہ اپنی روحانی میراث میں مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے سنڈیلٹی کے ذریعے تجدید کو قبول کرے۔انہوں نے کلیسیا پر زور دیا کہ وہ نسلوں کے درمیان پْل تعمیر کرے اور بزرگوں کی دانائی کو نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ جوڑے۔ ان کے مطابق ہر کلیسیائی و روحانی فیصلے کو اس بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے کہ آیا وہ اشتراک کو فروغ دیتا، شرکت اور مشن کو مضبوط بناتا، امن کو آگے بڑھاتا اور غریبوں اور معاشرے کے حاشیے پر موجود افراد کی خدمت کرتا ہے۔
عبادت کا اختتام ”ایشیا کے عوام کے نام جنرل اسمبلی کے پیغام“کی باقاعدہ منظوری اور اجرا کے ساتھ ہوا، جس کا عنوان ’تْو اس سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا۔“ (یوحنا 1:50)۔تھا۔ اس پیغام پر فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز کے صدر کارڈینل فلیپ نری فیراؤ نے دستخط کیے جبکہ ڈرافٹنگ کمیٹی کے چیئرمین آرچ بشپ گلبرٹ گارسیرا نے اسے پیش کیا۔
ایشیا کے عوام کے نام اس پیغام میں کلیسیا کو دعوت دی گئی کہ وہ اپنے سنڈ کے سفر کو مزید گہرا کرے اور پورے براعظم میں مکالمہ، مفاہمت، اْمید اور امن کے پْل اور پْل بنانے والی کلیسیا بنے۔عشائیہ کے بعد شرکا نے جکارتہ کی ”ٹنل آف فرینڈشپ“کے ذریعے علامتی زیارت کی۔ یہ سرنگ کیتھیڈرل آف آور لیڈی آف دی اسمپشن کو قریب واقع استقلال مسجد سے ملاتی ہے، جو جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد ہے۔
اس دورے نے جنرل اسمبلی کے ایک مرکزی موضوع کو مزید نمایاں کیا کہ ایشیا کی کلیسیا کو ایسی معاشروں میں مکالمہ، مفاہمت اور باہمی احترام کو فروغ دینے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے جہاں ثقافتی اور مذہبی گوناگونی نمایاں ہے۔پورے ہفتے کے دوران شرکا نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ سنڈیلٹی محض انتظام و حکمرانی کا کوئی طریقہ نہیں بلکہ کلیسیا کے طور پر زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے، جس کی بنیاد سننے، شرکت اور مشترکہ مشن پر ہے۔جنرل اسمبلی کے اختتام پر بشپ صاحبان اور شرکا جکارتہ سے اپنے اپنے علاقوں کی طرف روانہ ہوئے، اس مشترکہ عزم کے ساتھ کہ ایشیا کی کلیسیاؤں کے درمیان اشتراک کو مزید مضبوط بنایا جائے اور اپنی مقامی برادریوں میں اْمید، امن اور مفاہمت کے حقیقی پْل بنانے والے بن کر خدمت کی جائے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup