ایف اے بی سی کی بارہویں جنرل اسمبلی کے دوران ایشیائی بشپ صاحبان جکارتہ کی”ٹنل آف فرینڈشپ“کا دورہ کریں گے۔

ایف اے بی سی کی بارہویں جنرل اسمبلی کے دوران ایشیائی بشپ صاحبان جکارتہ کی”ٹنل آف فرینڈشپ“کا دورہ کریں گے۔
ایف اے بی سی کی بارہویں جنرل اسمبلی کے دوران ایشیائی بشپ صاحبان جکارتہ کی”ٹنل آف فرینڈشپ“کا دورہ کریں گے۔

جکارتہ میں منعقد ہونے والی فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز (FABC) کی بارہویں جنرل اسمبلی کے دوران انڈونیشیا کی بین المذاہب ہم آہنگی کی دیرینہ روایت نمایاں طور پر اْجاگر کی جائے گی، جہاں ایشیا بھر سے آنے والے بشپ صاحبان ”ٹنل آف فرینڈشپ“ اور استقلال مسجد کا دورہ کریں گے۔فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز (FABC) کے بارہویں اجلاس کے موقع پر سینکڑوں کیتھولک بشپ صاحبان جکارتہ میں جمع ہوں گے اور ان کے پروگرام میں ٹنل آف فرینڈشپ اور جکارتہ کی استقلال مسجد کا دورہ شامل ہے۔ یہ دونوں مقامات انڈونیشیا میں مذہبی ہم آہنگی اور پراْمن بقائے باہمی کی نمایاں علامتیں سمجھے جاتے ہیں۔
26 جولائی کو اختتامی تقریبات کے سلسلے میں بشپ صاحبان پہلے جکارتہ کیتھیڈ رل میں جائیں گے، جس کے بعد وہ پیدل ٹنل آف فرینڈشپ کے ذریعے جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد، استقلال مسجد، جائیں گے۔”ٹنل آف فرینڈشپ“ محض ایک زیرِ زمین راستہ نہیں بلکہ انڈونیشیا میں مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان مکالمہ، باہمی احترام اور پُرامن بقائے باہمی کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ علامت بن چکی ہے۔اس سرنگ کا تصور پہلی بار اُس وقت کے صدر جوکو ویدودو نے 2020 میں استقلال مسجد کی تزئین و مرمت کے دوران پیش کیا تھا۔ جنوری 2021 میں مسجد کی بحالی کے منصوبے کے تحت اس کی تعمیر شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں استقلال مسجد اور جکارتہ کیتھیڈرل کے درمیان ایک براہِ راست زیرِ زمین راستہ قائم کیا گیا۔ یہ دونوں عبادت گاہیں انڈونیشیا کے بانی صدر سوئیکارنو کے دور سے ایک دوسرے کے ساتھ واقع ہیں۔ اس سرنگ کو صرف سہولت کے لیے نہیں بلکہ بین المذاہب دوستی کی نمایاں علامت کے طور پر تعمیر کیا گیا۔ ستمبر 2024 میں پوپ فرانسس کے انڈونیشیا کے رسولی دورے کے دوران، جب انہوں نے استقلال مسجد میں بین المذاہب اجلاس کے موقع پر اس مقام کا دورہ کیا، تو اس سرنگ کو عالمی توجہ حاصل ہوئی۔ دسمبر 2024 میں اِسے باضابطہ طور پر عوام کے لیے کھول دیا گیا۔

ایف اے بی سی کی بارہویں جنرل اسمبلی کے دوران ایشیائی بشپ صاحبان جکارتہ کی”ٹنل آف فرینڈشپ“کا دورہ کریں گے۔
ایف اے بی سی کی بارہویں جنرل اسمبلی کے دوران ایشیائی بشپ صاحبان جکارتہ کی”ٹنل آف فرینڈشپ“کا دورہ کریں گے۔

انڈونیشیا کے وزیر برائے مذہبی امور، نصرالدین عمر نے کہا کہ مختلف مذاہب، قوموں اور ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کا انڈونیشیا کا تجربہ بین الاقوامی برادری، خصوصاً ایف اے بی سی اجلاس کے شرکا کے لیے ایک اہم مثال پیش کرتا ہے۔انہوں نے کہا، ”انڈونیشیا کے پاس ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے مضبوط سماجی سرمایہ موجود ہے۔ ایشیا بھر سے بشپ صاحبان کی موجودگی اس بات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ایک بہترین موقع ہے کہ اختلافات رکاوٹ نہیں بلکہ ایسی قوت ہیں جو ہمیں مل کر امن قائم کرنے کے قابل بناتی ہیں۔“
انہوں نے زور دیا کہ ٹنل آف فرینڈشپ اور استقلال مسجد دونوں انڈونیشیا کی قومی اقدار کی نمائندگی کرتے ہیں، جہاں مکالمہ، باہمی احترام اور یکجہتی مذہبی زندگی کی بنیاد ہیں۔انہوں نے مزید کہا، ہم چاہتے ہیں کہ شرکا صرف ان علامتوں کو ہی نہ دیکھیں بلکہ خود اس بات کا تجربہ بھی کریں کہ انڈونیشیا کی عوام اپنی روزمرہ زندگی میں مذہبی ہم آہنگی کو کس طرح عملی شکل دیتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے ایف اے بی سی اجلاس کی تیاریوں کے سلسلے میں انڈونیشیا کی کیتھولک بشپ کانفرنس (KWI) کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں کہی۔
بانڈونگ کے بشپ اور انڈونیشیا کی کیتھولک بشپ کانفرنس کے صدر، بشپ انتونیوس سوبیانتو بونیامین نے تصدیق کی کہ ٹنل آف فرینڈشپ اور استقلال مسجد کا دورہ اجلاس کے سرکاری اختتامی پروگرام کا حصہ ہے۔توقع ہے کہ ایشیا بھر سے تقریباً 110 بشپ صاحبان اس اجلاس میں شرکت کریں گے، جبکہ امریکہ، افریقہ، اوشیانا اور یورپ سے بھی نمائندے شریک ہوں گے۔ استقلال مسجد میں اِن کا استقبال وزیر برائے مذہبی امور نصرا لدین عمر، بطور گرینڈ امام، کریں گے۔
بشپ انتونیوس نے کہا کہ وزیر نے تصدیق کی ہے کہ بشپ صاحبان اور مندوبین اختتامی پروگرام کے دوران ٹنل آف فرینڈشپ کا دورہ کریں گے اور استقلال مسجد میں ان کا باضابطہ استقبال کیا جائے گا۔جکارتہ کے آرچ بشپ، کارڈینل اگنیشیئس سوہاریو نے کہا کہ یہ دورہ ایف اے بی سی کے بارہویں جنرل اسمبلی کے مرکزی موضوع”تْو اس سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا۔“ (یوحنا 1:50): ”سنڈی تبدیلی اور ایشیا میں پْل اور پْل بنانے والے بننے کا مشن“ کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا، ہم مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگوں سے ملاقاتوں کے ذریعے عظیم تر حقیقتوں کا مشاہدہ کریں گے۔ خدا ہمیں دکھاتا ہے کہ جب ہم مکالمے کے پل تعمیر کرتے ہیں تو اس سے کہیں زیادہ عظیم امکانات جنم لیتے ہیں۔ اسی لیے ٹنل آف فرینڈشپ کا دورہ تنوع کے درمیان ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزارنے کی انڈونیشیا کی آرزو کی علامت ہے۔