فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسزکے شرکا ء نے حتمی پیغام اور رہنما کتابچہ کے خاکے کا جائزہ لیا۔
FABC کے ایسوسی ایٹ سیکرٹری جنرل اور دفتر برائے سنڈیلٹی کے ایگزیکٹو سیکرٹری فادر کلارنس دیواداس نے رہنما کتابچہ کا خاکہ پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک طویل تر عمل کا آغاز ہے۔فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC)کی 12ویں جنرل اسمبلی کے شرکا نے 25 جولائی کو اپنے آخری عملی اجلاس میں دو اہم دستاویزات کا جائزہ لیا جو جنرل اسمبلی کی آئندہ میراث کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گی۔ ان میں ایشیا کے عوام کے نام پیغام اور سنڈیلٹی رہنما کتابچہ کاخاکہ شامل ہیں۔اگرچہ دونوں دستاویزات ایک ہفتے تک جاری رہنے والی جنرل اسمبلی کے دوران سامنے آئیں، تاہم ان کے مقاصد مختلف ہیں۔ ایشیا کے عوام کے نام پیغام ایک کلیسیائی و روحانی بیان ہے جو جنرل اسمبلی کے بعد بشپس کے غور و فکر اور عہد و ذمہ داریوں کا اظہار کرتا ہے، جبکہ رہنما کتابچہ کو ایک عملی رہنما کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے تاکہ مقامی کلیسیائیں پورے ایشیا میں سنڈیلٹی کو عملی طور پر نافذ کر سکیں۔شرکاء نے دستاویزات کے متن پر گفتگو کی اور سفارشات پیش کیں، جنہیں 26 جولائی کو جنرل اسمبلی کے آخری روز باضابطہ طور پر جاری کیا جائے گا۔
FABC کے ایسوسی ایٹ سیکرٹری جنرل اور دفتر برائے سنڈیلٹی کے ایگزیکٹو سیکرٹری فادر کلارنس دیواداس نے رہنما کتابچہ کا خاکہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ کوئی مکمل دستاویز نہیں بلکہ ایک طویل تر عمل کا آغاز ہے۔انہوں نے رہنما کتابچہ کو ایک ایسے عملی وسیلے کے طور پر بیان کیا جو مقامی کلیسیاؤں کو جنرل اسمبلی کے وژن کو کلیسیائی و روحانی عمل میں ڈھالنے میں مدد دے گا۔ یہ محض ایک اور الٰہیاتی دستاویز کے طور پر نہیں بلکہ بشپ صاحبان، کاہنوں، مذہبی رہنما اور عام مومنین کے لیے ایک عملی رہنما بننے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنے مقامی حالات میں سنڈیلٹی کی زندگی گزار سکیں۔
فادر دیواداس نے کہا کہ جکارتہ میں ہونے والی جنرل اسمبلی کے بعد بھی اس دستاویز کی تیاری جاری رہے گی اور فیڈریشن بھر میں مزید مشاورت کی جائے گی۔ توقع ہے کہ مکمل رہنما کتابچہ کو اگلے سال حتمی شکل دے دی جائے گی۔اس کے بعد جنرل اسمبلی نے ایشیا کے عوام کے نام پیغام پر غور کیا، جس کا مقصد براعظم بھر کے کیتھولک مسیحیوں اور نیک نیت لوگوں تک جنرل اسمبلی کے روحانی غور و فکر اور کلیسیائی و روحانی عہد و ذمہ داریوں کو پہنچانا ہے۔
ڈرافٹنگ کمیٹی کے چیئرمین آرچ بشپ گلبرٹ گارسرا نے مسودہ پیش کرتے ہوئے وضاحت کی کہ اس پیغام کا مقصد ایشیا کے عوام کے لیے امید کا پیغام پیش کرنا اور ان عہد و ذمہ داریوں کا اظہار کرنا ہے جنہیں بشپ صاحبان اپنی مقامی کلیسیاؤں تک واپس لے کر جائیں گے۔ توقع ہے کہ اس دستاویز کو تراجم، ویڈیوز، پوڈکاسٹس، معلوماتی گرافکس اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے وسیع پیمانے پر شیئر کیا جائے گا۔شرکا نے مسودے کے ہر پیراگراف کا جائزہ لیا اور اداریاتی تبدیلیوں، الٰہیاتی وضاحتوں اور بائبل کے مزید مضبوط حوالوں کی تجاویز پیش کیں۔ گفتگو میں اس بات کو بھی یقینی بنانے پر توجہ دی گئی کہ زبان جنرل اسمبلی کے مرکزی موضوعات، یعنی سنڈیلٹی، اشتراک، شرکت اور مشن کی عکاسی کرے۔
کئی بشپ صاحبان نے مکالمہ، قیامِ امن، تخلیق کی نگہداشت، نوجوانوں اور معاشرے کے حاشیے پر زندگی گزارنے والے افراد کے ساتھ کلیسیا کی رفاقت کے عزم سے متعلق حوالوں کو مزید مضبوط بنانے کی سفارش کی۔ اس میں ایشیا کی کلیسیا کو ایسے معاشروں میں پْل بنانے والی کلیسیا کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو تقسیم، تنازعات، عدم مساوات، ماحولیاتی چیلنجز اور تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ دونوں دستاویزات مل کر جنرل اسمبلی کی فوری اور طویل المدتی ترجیحات کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایشیا کے عوام کے نام پیغام ایمانداروں کے سامنے جنرل اسمبلی کے کلیسیائی و روحانی وژن کو پیش کرتا ہے، جبکہ سنڈیلٹی رہنما کتابچہ مقامی کلیسیاؤں کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرنے کا مقصد رکھتا ہے تاکہ وہ جکارتہ کے بعد بھی سنڈ کے سفر کو جاری رکھ سکیں۔