سخت الفاظ اور جلد بازی میں فیصلوں سے پرہیز کریں۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم

مورخہ 13فروری2026کو پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے روزوں کے بابرکت ایام کے آغاز سے قبل اپنے پیغام میں مومنین سے کہا کہ میں آپ سب کو ایک نہایت عملی مگر اکثر نظرانداز کی جانے والی پرہیزگاری کی دعوت دینا چاہتا ہوں: ایسے الفاظ سے پرہیز کریں جو ہمارے پڑوسی کو دْکھ پہنچاتے اور زخمی کرتے ہیں۔ تاکہ اْمید اور امن کے الفاظ کے لیے جگہ پیدا ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ جب راکھ کے بدھ یعنی 18 فروری سے روزوں کا آغاز ہوگا تو یہ عبادتی موسم مسیحیوں کو موقع دیتا ہے کہ توبہ اور تبدیلی کایہ سفر ہمیں خفا کے کلام کو سمجھنے کی توفیق دے تاکہ ہم مسیح کی نجات بخش مصیبت، موت اور قیامت کے بھید میں اُس کی پیروی کے عہد کو تازہ کر سکیں۔
پوپ لیو نے خدا اور اپنے اردگرد لوگوں کو سننے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہماری ذاتی زندگی اور معاشرے میں موجود بے شمار آوازوں کے درمیان، مقدس کلام ہمیں دْکھ اور تکلیف میں مبتلا لوگوں کی فریاد کو پہچاننے اور اس کا جواب دینے میں مدد دیتا ہے۔
پوپ لیو کے مطابق مومنین خدا کی طرح دوسروں کو سننے کے لیے اپنے دل کو کھلا رکھ سکتے ہیں، خاص طور پر اس شعور کے ذریعے کہ غریب لوگ ہماری زندگیوں، معاشی نظام اور کلیسیا کے لیے ایک چیلنج ہیں۔انہوں نے روزے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ روزہ ہمیں انصاف کی گہری خواہش کی طرف لے جاتا اور بے حسی سے آزاد کرتا ہے۔انہوں نے کہاچونکہ روزہ جسم سے تعلق رکھتا ہے، اس لیے یہ ہمیں سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ ہم دراصل کس چیز کے بھوکے ہیں اور اپنی بقا کے لیے کس چیز کو ضروری سمجھتے ہیں۔ یہ ہماری خواہشات کو پہچاننے اور ترتیب دینے میں بھی مدد دیتا ہے تاکہ انصاف کی پیاس زندہ رہے۔
پوپ لیو نے مزید کہا کہ روزہ ہماری خواہشات کو پاک، آزاد اور وسیع بناتا ہے تاکہ وہ خدا اور نیک اعمال کی طرف متوجہ ہوں۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ روزہ غرور کا سبب بننے کے لیے نہیں بلکہ  ایمان، فروتنی اور خداوند کے ساتھ رفاقت میں ہونا چاہیے۔
انہوں نے ایک کم سمجھی جانے والی پرہیزگاری کی طرف بھی توجہ دلائی یعنی دْکھ دینے والے الفاظ سے پرہیز۔
انہوں نے کہا کہ آئیں ہم اپنی زبان کو غیر مسلح کریں، سخت الفاظ اور جلد بازی میں فیصلوں سے بچیں، غیبت اور ان لوگوں کے خلاف بات کرنے سے پرہیز کریں جو موجود نہیں اور اپنا دفاع نہیں کر سکتے۔ اس کے بجائے اپنے الفاظ کو ناپ تول کر بولیں نیز خاندان، دوستوں، کام کی جگہ، سوشل میڈیا، سیاسی مباحثوں، میڈیا،مسیحی برادریوں میں مہربانی اور احترام کو فروغ دیں۔اگر ہم ایسا کریں تو نفرت کے الفاظ اْمید اور امن میں بدل جائیں گے۔
پوپ لیو نے روزوں کے ایام 2026 کے اپنے پیغام کے اختتام پر مسیحیوں کو دعوت دی کہ وہ ایسے مقامات بنیں جہاں دْکھ اٹھانے والے لوگ خوش آمدید محسوس کریں۔
انہوں نے کہاکہ آئیں ہم اُس قوت کے لیے دْعا کریں جو ایسے روزے سے ملتی ہے جو ہماری زبان کے استعمال کو بھی موئژ بناتی ہے تاکہ تکلیف دہ الفاظ کم ہوں اور دوسروں کو سننے کے لیے زیادہ جگہ پیدا ہو سکے۔