پاکستان کے پہلے کیپوچن کاہن ریورنڈ فادر محبوب ایورسٹ( او۔ایف۔ایم کیپ) نے ابدی زندگی کیلئے اپنا زمینی سفر مکمل کر لیا۔


یہ خبر نہایت افسوس کے ساتھ بیان کی جاتی ہے کہ 27جولائی 2026کوریورنڈ فادر محبوب ایورسٹ (او۔ایف۔ایم کیپ) پاکستان کے پہلے کیپوچن کاہن نے ابدی زندگی کیلئے اپنا زمینی سفر مکمل کر لیا۔پاک ماس کی اقدس قربانی فضیلت مآب آرچ بشپ خالد رحمت نے فرمائی جبکہ معاونت فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے فرمائی۔فضیلت مآب آرچ بشپ خالد رحمت نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ فادر محبوب کی ساری خدمات پاشکائی بھید سے تقویت حاصل کرتی ہیں اور اب پاشکائی بھید میں کاملیت کو پہنچی ہیں۔ اْن کی حکمت،خدمات اور تعاون ساری مشنری کلیسیاوں کے لیے تھی۔انہوں نے بیلجئیم اور مقامی کلیساوں کو ملانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داری، وفاداری،ثابت قدمی اور ایمانداری اْن کی شخصیت کا خاصہ تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ مقدسہ مریم کی پہاڑی کی تعمیر فادر محبوب کے فنِ تعمیر، روحانیت اور مقدسہ ماں مریم سے عقیدت کا لازوال شاہکار ہے، جو آئندہ نسلوں کے لیے ایمان اور عقیدت کی علامت بنا رہے گا۔
اسلام آباد۔راولپنڈی ڈایوسیس کے فضیلت ما ٓ ب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے مرحوم فادر محبوب کے ساتھ اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے انہیں ایک مخلص ساتھی اور خداکا وفادار خادم قرار دیا۔آرچ بشپ جوزف ارشد نے کہا کہ فادر محبوب ایورسٹ کی رگوں میں مشنری جذبہ بچپن ہی سے دوڑ رہا تھا، کیونکہ وہ ایک مناد کے فرزند تھے۔ ایمان کی خدمت انہیں اپنے خاندان سے ورثہ میں ملی تھی۔ وہ زندگی بھر اپنے کاہنانہ لباس کو محبت اور فخر کے ساتھ زیبِ تن کرتے رہے۔ ان کے لیے یہ لباس محض ایک مذہبی پوشاک نہیں بلکہ مسیح سے وفاداری، عاجزی، خدمت اور اپنی کاہنانہ شناخت کا زندہ اظہار تھا۔ ان کی شخصیت ہر لمحہ خدا کے لیے وقف زندگی کی گواہی دیتی تھی۔
 پاکستان کیپوچن کسٹڈی آف مریم صدیقہ کے کسٹس فادر اعجاز بشیر،او۔ایف۔ایم۔کیپ نے انہیں ایک حقیقی روحانی باپ اور برادری کے محبوب بزرگ بھائی کے طور پر یاد کیا۔
 ان کے انتقال کی خبر نے نہ صرف کیپوچن برادری بلکہ پاکستان بھر کی کیتھولک کلیسیا کو غمزدہ کر دیا۔ریورنڈ فادر محبوب ایورسٹ  18 جنوری 1951 کو پیدا ہوئے۔ نوجوانی ہی میں انہوں نے خدا کی آواز پر لبیک کہا اور فرانسسکن کیپوچن برادری میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے 18 مئی 1979 کو اپنی دائمی عہد بندی کی اور پاکستان کے پہلے کیپوچن کاہن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس سے قبل پاکستان میں کیپوچن مشن کی خدمات زیادہ تر بیرونِ ملک سے آنے والے مشنری سرانجام دیتے تھے، اس لیے فادر محبوب کی تقرری صرف ایک ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کی کلیسیا کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز بنی۔فرانسسکن روحانیت کی سادگی، غربت، عاجزی اور خدمت کو انہوں نے اپنی زندگی کا شعار بنایا۔ وہ ہمیشہ یہ یقین رکھتے تھے کہ ایک کاہن کی اصل پہچان اس کے عہدے سے نہیں بلکہ اس کی خدمت، محبت اور دْعا سے ہوتی ہے۔اپنی طویل خدمت کے دوران فادر محبوب ایورسٹ نے مختلف پیرشز میں بطور پیرش پریسٹ خدمات انجام دیں۔ وہ قومی زیارت گاہ مریم آبادکے ریکٹر رہے اور بعد ازاں پاکستان میں کیپوچن برادری کے سردارِ اعلیٰ کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں نبھائیں۔ جہاں بھی انہوں نے خدمت انجام دی، وہاں لوگوں نے انہیں ایک اچھا چرواہا، شفیق باپ،رحمدل کاہن اور عاجز رہنما کے طور پر پایا۔ پاکستان کی کیتھولک کلیسیا اپنے اس عظیم فرزند کو الوداع کہتے ہوئے خدا کا شکر ادا کرتی ہے کہ اس نے فادر محبوب ایورسٹ جیسی شخصیت اس کلیسیا کو عطا کی۔ان کی آخری رسومات کی مقدس عبادت 28 جولائی کو لاہور کے سینٹ میریزفرائری گلبرگ۔لاہور میں ادا کی گئی۔ان کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خدمت کبھی رائیگاں نہیں جاتی، محبت کبھی ختم نہیں ہوتی اور خدا کے وفادار خادم ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔اور خداوند یسوع مسیح کے یہ الفاظ یقیناً فادر محبوب ایورسٹ کی زندگی پر صادق آتے ہیں۔
 اے نیک اور دیانت دار غْلام۔شاباش۔تْو تھوڑے میں دیانت دار نکلا۔میں تجھے کشرت کا مختار بناوں گا۔(متی 25:21)
فادر محبوب ایورسٹ کو ساہووالہ کے تاریخی کیپوچن قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں بیلجیم سے تعلق رکھنے والے ابتدائی کیپوچن مشنریوں سمیت متعدد پاکستانی اور غیر ملکی مذہبی شخصیات مدفون ہیں جنہوں نے پنجاب میں انجیل کی منادی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیں۔
اگرچہ آج ریورنڈ فادر محبوب ایورسٹ ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی روحانی میراث ہمیشہ زندہ رہے گی۔

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup