ایف اے بی سی کی ریٹریٹ میں ”روح میں مکالمہ“ کے ذریعہ سنڈی طرزِ عمل کو فروغ دیا گیا۔

 ڈاکٹر کھینگ
ڈاکٹر کھینگ

 فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی کے شرکاء کے لیے 22 جولائی کو منعقد ہونے والی ایک روزہ ریٹریٹ، جس کی قیادت کارڈینل لوئس انتونیو تاگلے نے کی، روایتی روحانی تعلیم سے آگے بڑھ کر روح میں مکالمہ کے منفرد سنڈی عمل پر مشتمل تھی، جو دْعا، خاموشی، توجہ سے سننے اور روحانی امتیاز کا ایک بامقصد طریقہ ہے۔جکارتہ کے ہولی مولیاکے وانڈا روم میں منعقد ہونے والا یہ ڈیڑھ گھنٹے کا اجلاس کارڈینل تاگلے کی روحانی گفتگو کے بعد ہوا، جس میں انہوں نے شرکاء کو خدا کے کلام سے تشکیل پانے والے شاگرد بننے اور مشن و رفاقت کے لیے پْل بننے کی دعوت دی۔روح میں مکالمہ کی اس نشست کی رہنمائی ڈاکٹر کرسٹینا کھینگ، (رکن،ایف اے بی سی کمیشن برائے سنڈی) نے کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ عمل کسی بحث یا مناظرے کا نہیں بلکہ اجتماعی دْعا کا تجربہ ہے۔
اجلاس کے آغاز ہی میں شرکاء خاموشی میں داخل ہوئے۔ ڈاکٹر کھینگ نے انہیں موسی کی جلتی ہوئی جھاڑی کے واقعے کی یاد دلاتے ہوئے روحانی طور پر ”اپنی جوتیاں اتارنے“ کی دعوت دی۔ اس علامتی عمل کا مقصد یہ تھا کہ ہر شخص خدا اور اپنے ساتھی شرکاء کی موجودگی کو مقدس سمجھے اور روحانی فروتنی کے ساتھ اس تجربے میں شریک ہو۔انہوں نے بتایا کہ ”روح میں مکالمہ“ایک ایسا مشترکہ سفر ہے جس میں شرکاء پہلے سے طے شدہ نتائج یا رائے لے کر نہیں آتے بلکہ دْعا، غوروفکر اور ایک دوسرے کو سننے کے ذریعے روح القدس کی رہنمائی کے لیے خود کو کھلا رکھتے ہیں۔یہ نشست براہِ راست کارڈینل تاگلے کی روحانی تعلیم سے جڑی ہوئی تھی۔ شرکاء کو دو سوالات پر غور کرنے کی دعوت دی گئی۔
۱۔ انہوں نے اپنی زندگی میں پْل بننے کے سفر میں کن چیلنجز اور مواقع کا تجربہ کیا؟
۲۔ وہ مشن اور رفاقت کے لیے پْل بننے کے بارے میں مسیح یسوع سے کیا سیکھنے کی اْمید رکھتے ہیں؟
یہ پورا عمل تین مراحل میں مکمل کیا گیا۔پہلے مرحلے میں ہر شریک نے اپنی ذاتی دْعا سے حاصل ہونے والے روحانی تجربات دوسروں کے ساتھ شیئر کیے، جبکہ باقی تمام افراد نے بغیر کسی مداخلت، تبصرے یا جواب کے پوری توجہ سے انہیں سنا۔ مقصد دلائل دینا نہیں بلکہ دْعا میں حاصل ہونے والے تجربات کو دیانتداری سے بیان کرنا تھا۔اس پورے عمل کا مرکز ”سننا“ تھا۔ شرکاء کو ترغیب دی گئ کہ وہ صرف الفاظ ہی نہیں بلکہ بولنے والے کے جذبات اور روحانی احساسات کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر مختلف آراء سے اختلاف یا تناؤ پیدا بھی ہو تو انہیں کشادہ دلی، محبت، تجسس اور سیکھنے کے جذبہ کے ساتھ قبول کیا جائے۔ہر مرحلے کے بعد خاموشی اختیار کی گئی تاکہ شرکاء اس بات پر غور کریں کہ کس بات نے ان کے دل کو چھوا، کس چیز نے انہیں متاثر یا چیلنج کیا، اور وہ دوسروں کو کس حد تک توجہ سے سن سکے۔

کارڈینل تاگل
کارڈینل تاگل

دوسرے مرحلے میں شرکاء نے اپنی بات دْہرانے یا اس میں اضافہ کرنے کے بجائے یہ بیان کیا کہ دوسروں کی گفتگو سن کر وہ کس طرح روحانی طور پر متاثر ہوئے۔ اس مرحلے میں ذاتی رائے کے اظہار کی بجائے اس بات پر توجہ دی گئی کہ روح القدس دوسروں کے تجربات کے ذریعے کس طرح کام کر رہا ہے۔مزید خاموش دْعا اور غوروفکر کے بعد تیسرے اور آخری مرحلہ میں شرکاء نے اْن روحانی تحریکات کی نشاندہی کی جنہیں وہ سمجھتے تھے کہ روح القدس پوری جماعت کے اندر ظاہر کر رہا ہے۔ بعد ازاں سب نے مل کر اس تجربے کا جائزہ لیا اور ان مشترکہ بصیرتوں کو سامنے لایا جو اس عمل کے دوران ابھر کر سامنے آئیں۔
اس طریقہئ کار کا مقصد ایسی کلیسیائی ثقافت کو فروغ دینا ہے جس کی بنیاد ”سننے“ پر ہو اور جو ایک سنڈی کلیسیا کی نمایاں خصوصیت ہے۔ اس میں اکثریتی رائے یا بحث کے ذریعے اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی بجائے دعا، خاموشی، باہمی احترام اور گہری سماعت کے ذریعے مل کر خدا کی مرضی کو پہچاننے کی کوشش کی جاتی ہے۔
کارڈینل تاگلے کی ریٹریٹ کے فوراً بعد ”روح میں مکالمہ“ کو شامل کرنے سے منتظمین نے شرکاء کو صبح کے پیغام پر عملی طور پر عمل کرنے کا موقع فراہم کیا۔ مشن اور رفاقت کے لیے پْل بننے کی دعوت پر غور کرنے کے بعد بشپ صاحبان، کاہن، مذہبی افراد اور مومنین نے ایک دوسرے کو دْعا کے ماحول میں گہرائی سے سن کر اس دعوت کو عملی شکل دی اور روح القدس کی رہنمائی میں مشترکہ روحانی امتیاز کے سفر کو جاری رکھا، جبکہ ایف اے بی سی کی جنرل اسمبلی اپنے اگلے مراحل کی طرف بڑھ رہی ہے۔