ٹیکنالوجی کو انسان کی خدمت کرنی چاہیے، اُس کی جگہ نہیں لینی چاہیے۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 24جنوری 2026کو پاپائے اعظم لیوچہاردہم نے 60ویں عالمی یومِ سماجی ابلاغیات کے لیے اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ تکنیکی جدت، خصوصاً مصنوعی ذہانت کو انسان کی خدمت کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ انسانی وقار کو کمزور کرنے یا انسان کی جگہ لینے کے لیے۔
چہرہ اور آواز ہر انسان کی منفرد پہچان ہیں جو انسانی شناخت اور باہمی تعلقات کی بنیاد تشکیل دیتے ہیں۔ اسی حقیقت پر غور کرتے ہوئے پوپ لیو نے 60ویں عالمی یومِ سماجی ابلا غیات کے لیے اپنے پیغام کا آغاز کیا، جو 17 مئی 2026 کو منایا جائے گا۔ اس پیغام میں ڈیجیٹل ابلاغیات اور مصنوعی ذہانت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور ایک ایسے دور میں انسانی وقار کے تحفظ کی ضرورت کو اْجاگر کیا گیا ہے جو تیزی سے ٹیکنالوجی کے سانچے میں ڈھل رہا ہے۔
پوپ لیو یاد دلاتے ہیں کہ انسان خدا کی صورت اور مشابہت پر پیدا کیا گیا اور کلام کے ذریعے رابطہ کے لیے بلایا گیا ہے۔ لہٰذا چہرے اور آواز کا تحفظ دراصل ہر انسان میں موجود خدائی نقش کے تحفظ اور ہر انسانی زندگی کی ناقابلِ تبدیل حیثیت کو برقرار رکھنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، بالخصوص وہ مصنوعی ذہانت کے نظام جو آواز، چہرے اور جذبات کی نقل کر سکتے ہیں، انسانی ابلاغیات کے بنیادی پہلوؤں کو متاثر کرنے کا خطرہ رکھتے ہیں۔
وہ زور دیتے ہیں کہ اصل چیلنج تکنیکی نہیں بلکہ انسان شناسی (Anthropological) ہے یعنی انسانی شناخت اور حقیقی تعلقات کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔وہ سوشل میڈیا الگورتھم کے اثرات کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں جو غور و فکر کے بجائے فوری جذباتی ردِعمل کو ترجیح دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں تنقیدی سوچ کمزور ہوتی اور سماجی تقسیم بڑھتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ معلومات، تخلیقی صلاحیت اور فیصلہ سازی میں مصنوعی ذہانت پر بڑھتا ہوا انحصار تجزیاتی صلاحیت، تخیل اور ذاتی ذمہ داری کو کمزور کر سکتا ہے۔
پوپ لیو ڈیجیٹل ماحول میں حقیقت اور نقل کے درمیان فرق کو پہچاننے کی مشکل کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں خودکار نظام اور چیٹ بوٹس عوامی مباحثے اور انفرادی فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، جذباتی ردِعمل اور ذاتی روابط کو شکل دے سکتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ایسے عوامل نہ صرف افراد بلکہ سماجی اور ثقافتی زندگی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
اپنے پیغا م کے اختتام پر پوپ لیو نے میڈیا، معلومات اور مصنوعی ذہانت سے متعلق تعلیم کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ تنقیدی شعور کو فروغ دیا جا سکے، ذاتی شناخت کا تحفظ ہو اور ذمہ دار ابلاغیاتی ثقافت کو تقویت ملے۔