صرف خدا کی محبت ہی ہمیں حقیقی اور کامل خوشی عطا کر سکتی ہے۔پوپ لیو چہاردہم
مورخہ 20جون 2026کو پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے امریکہ کی ریاست اوہائیو میں واقع فرانسسکن یونیورسٹی آف اسٹیوبن وِل کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی اسٹیوبن وِل سمر یوتھ کانفرنس پچا سویں سالگرہ نے موقع پر شرکاء کے لیے اپنے ویڈیو پیغام میں نوجوانوں کو بتایا کہ مشکل حالات میں بھی مسکراتے رہنے کا راز کیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگر ہمیں اس بات کا گہرا یقین ہو کہ خدا ہمیں اپنی محبوب اولاد کی طرح چاہتا اور ہماری فکر کرتا ہے، تو ہم مشکلات کے درمیان بھی نہ گھبرائیں گے اور نہ ہی مایوس ہوں گے کیونکہ صرف خدا کی محبت ہی ہمیں حقیقی اور کامل خوشی عطا کر سکتی ہے۔
پوپ لیو نے دنیا کے مختلف مقامات پر منعقد ہونے والی اس کانفرنس کے تمام شرکاء کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس سال مقدس فرانسس آف اسیسی کے کو آٹھ سو سال مکمل ہو رہے ہیں۔ چونکہ یہ اجتماع فرانسسکن یونیورسٹی کے زیرِ انتظام منعقد کیا جاتا ہے، اس لیے پوپ نے مناسب سمجھا کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ آج کے نوجوانوں کے لیے مقدس فرانسس کا پیغام کیا ہو سکتا ہے، خاص طور پر حقیقی امن اور کامل خوشی کے بارے میں۔
پوپ لیو نے کہا کہ اگر تیرہویں صدی میں کوئی شخص اسیسی کی گلیوں میں مقدس فرانسس سے ملا ہوتا، تو وہ غالباً ایک پُرسکون اور محبت بھری مسکراہٹ کے ساتھ اْسے کہتے: پاسے ای بینے یعنی امن اور بھلائی۔ انہوں نے نوجوانوں کو دعوت دی کہ وہ اپنے آپ سے پوچھیں: کیا میں واقعی اُن لوگوں کے لیے حقیقی امن چاہتا ہوں جو میرے رابطے میں آتے ہیں؟
انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، لیکن یاد دلایا کہ مقدس فرانسس اپنی قوت سے نہیں بلکہ اس لیے امن بانٹ سکتے تھے کیونکہ اْن کے اندر حقیقی امن کا سرچشمہ موجود تھا۔
پوپ لیو نے کہا کہ امن خدا کا ایک تحفہ ہے جو اُس وقت حاصل ہوتا ہے جب ہم خداوند کو اپنے دل میں جگہ دیتے ہیں۔ اْس کے بعد ایمان داروں کو بلایا جاتا ہے کہ وہ خدا کے امن کے آلہ کار بنیں اور اْسے اپنے خاندانوں، برادریوں، قوموں اور پوری دنیا تک پہنچائیں۔
انہوں نے نوجوانوں کو ترغیب دی کہ کانفرنس کے دوران خاموشی کے لمحات سے فائدہ اْٹھائیں تاکہ وہ مسیح کے اُس امن کو دریافت کر سکیں جس کا وعدہ اُس نے اپنے شاگردوں سے کیا تھا (یوحنا 14:27)۔
پوپ لیونے سوال کیا کہ کیا واقعی بہت مشکل حالات میں بھی خوش رہا جا سکتا ہے؟
اور پھر اس کے جواب میں بتایا کہ ہاں، اگر ہماری زندگی خدا کے ساتھ گہرے طور پر جْڑی ہوئی ہو۔
انہوں نے کہا کہ مقدس فرانسس جس خوشی کی بات کرتے ہیں، وہ الیکٹرانک آلات، اسکرینوں کے سامنے گھنٹوں گزارنے یا روزانہ سوشل میڈیا پر مسلسل اسکرول کرتے رہنے سے حاصل نہیں ہوتی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ سرگرمیاں اکثر قیمتی وقت ضائع کر دیتی ہیں، جسے دْعا، حقیقی دوستیوں، خاندانی زندگی، ایمان کی تعلیم، مطالعے یا کھیلوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خوشی منشیات، شراب نوشی، بے راہ روی، سطحی تعلقات، ظاہری شکل کے جنون یا کسی بھی نقصان دہ رویے میں بھی نہیں مل سکتی۔اسی طرح دولت، حسن، شہرت یا حتیٰ کہ صحت میں بھی حقیقی خوشی نہیں ملتی، کیونکہ ایک دن یہ سب کچھ پیچھے رہ جائے گا۔
پوپ لیو نے اس حقیقت کو دہرایا کہ صرف خدا کی محبت ہی انسانی دل کو حقیقی خوشی سے بھر سکتی ہے۔اگر ہمیں اس بات کا گہرا یقین ہو کہ خدا ہمیں اپنی محبوب اولاد کی طرح چاہتا اور ہماری فکر کرتا ہے، تو ہم مشکلات میں نہ گھبرائیں گے اور نہ ہی مایوس ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپ میں سے سب نے بچپن سے سنا ہے کہ خدا آپ سے محبت کرتا ہے، لیکن کیا آپ واقعی اس پر ایمان رکھتے ہیں؟ آپ خدا کی نظر میں قیمتی ہیں (اشعیا 43:4)۔ وہ آپ سے غیر مشروط محبت کرتا ہے!
پوپ لیو نے نوجوانوں کو اس سچائی پر دل سے ایمان رکھنے کی دعوت دی۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ دْعا اور مقدس اسرار میں باقاعدگی سے شریک ہو کر خدا کے ساتھ اعتماد بھرا تعلق قائم کریں، اور اپنے آپ کو اُس کے ہاتھوں میں سونپ دیں، تو بے چینی، غم اور تنہائی آہستہ آہستہ ختم ہو جائیں گے، کیونکہ اُس کا فضل آپ کو بھر دے گا اور اُس کی محبت آپ کے دل کو روشن کر دے گی۔پو پ لیو کے مطابق یہی وہ ”بھید“ہے جو انسان کو مشکل حالات میں بھی مسکراتے ہوئے آگے بڑھنے کی قوت دیتا ہے۔انہوں نے نوجوانوں کو دعوت دی کہ اپنے دل خدا کے لیے کھولیں اور اُس کی تبدیلی بخش قدرت پر بھروسہ کریں۔
پوپ لیو نے سوال کیا کہ اتنی عظیم محبت اور اتنے فراخ دلانہ تحفوں کے بدلے ہم خدا کو کیا دے سکتے ہیں؟
پھر خود ہی جواب دیا:اپنے آپ کو۔پوپ لیو نے کہا کہ خدا کو ایسے مبلغین کی ضرورت ہے جو اُس کا کلام اُن لوگوں تک پہنچائیں جو ابھی تک اُسے نہیں جانتے۔ وہ مقدس مردوں اور عورتوں، وفادار کیتھولک خاندانوں، روحانی باپ بننے والے کاہنوں، اور مذہبی زندگی گزارنے والے مردوں اور عورتوں کو بلا رہا ہے تاکہ وہ اُس کی بادشاہی کی حقیقی خوشی کے گواہ بن سکیں۔
انہوں نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ خدا آپ کو ان میں سے کسی بلاہٹ کی طرف دعوت دے رہا ہے، تو خوف کے باعث خود کو بند نہ کریں اور نہ ہی پیچھے ہٹیں، بلکہ ایک قدم آگے بڑھائیں اور خداوند سے کہیں: میں حاضر ہوں، مجھے بھیج!(اشعیا 6:8)
انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ اگر کوئی ایسی بلاہٹ محسوس کرے تو کسی قابلِ اعتماد دوست، کاہن یا سسٹر سے اس بارے میں ضرور بات کرے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر پوپ لیو چہاردہم نے تمام شرکاء کے لیے دْعا کی کہ کانفرنس کے ان دنوں کے دوران وہ مسیح کی محبت سے معمور ہوں، ایسے دوسرے نوجوانوں سے ملیں جو اپنی زندگیاں مکمل طور پر خدا کے سپرد کرنا چاہتے ہیں، اور اْسی راستے پر چلتے ہوئے حقیقی خوشی اور دائمی مسرت کو دریافت کریں۔