لائبریری آف اسکندریہ
انسانی تاریخ میں علم ہمیشہ ترقی، تہذیب اور شعور کی بنیاد رہا ہے، اور جب بھی دنیا کی عظیم ترین علمی درسگاہوں کا ذکر ہوتا ہے تو لائبریری آف اسکندریہ کا نام سب سے پہلے لیا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک لائبریری نہیں تھی بلکہ قدیم دنیا کا سب سے بڑا تحقیقی اور تعلیمی مرکز بھی تھی، جہاں مختلف ممالک کے علماء، فلسفی، سائنس دان، ریاضی دان، ادیب اور مترجم علم کی تلاش میں جمع ہوتے تھے۔ اس عظیم علمی ادارے نے صدیوں تک انسانی تہذیب کی فکری ترقی میں اہم کردار ادا کیا، لیکن افسوس کہ یہ عظیم خزانہِ علم وقت کے ساتھ تاریخ کے صفحات میں گم ہو گیا۔ آج بھی اس کی تباہی کے بارے میں مختلف نظریات موجود ہیں، اور یہی اسرار اسے دنیا کی سب سے دلچسپ تاریخی کہانیوں میں شامل کرتا ہے۔
لائبریری آف اسکندریہ کی بنیاد تیسری صدی قبل مسیح میں مصر کے شہر اسکندریہ میں رکھی گئی۔ اس شہر کی بنیاد سکندر اعظم نے 331 قبل مسیح میں رکھی تھی، جبکہ لائبریری کے قیام کا سہرا بطلیموس اول سوٹر اور اس کے بیٹے بطلیموس دوم فیلڈیلفس کے سر جاتا ہے۔ ان حکمرانوں کا خواب تھا کہ اسکندریہ کو دنیا کا سب سے بڑا علمی مرکز بنایا جائے، جہاں دنیا بھر کا علم ایک جگہ جمع ہو۔ اسی مقصد کے تحت مختلف ممالک سے کتابیں، مخطوطات اور علمی دستاویزات خریدی گئیں، جبکہ اسکندریہ آنے والے بحری جہازوں سے بھی کتابیں عارضی طور پر لے کر ان کی نقول تیار کی جاتی تھیں۔
تاریخی روایات کے مطابق اس عظیم لائبریری میں چار لاکھ سے سات لاکھ تک مخطوطات موجود تھے، اگرچہ جدید مورخین ان اعداد و شمار کو یقینی نہیں مانتے۔ ان مخطوطات میں فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات،جغرافیہ، ادب، تاریخ اور مذہب سمیت تقریباً ہر شعبہ ِعلم سے متعلق تحریریں شامل تھیں۔ یہاں یونان، مصر، فارس، ہندوستان اور دیگر تہذیبوں کے علمی ذخائر محفوظ کیے جاتے تھے۔ اسی لائبریری میں اقلیدس (Euclid) نے جیومیٹری پر تحقیق کی، جبکہ ایراٹوس تھینیز (Eratosthenes) نے پہلی مرتبہ زمین کے محیط کا حیرت انگیز طور پر درست اندازہ لگایا۔ یہ ادارہ صرف کتابوں کا ذخیرہ نہیں بلکہ تحقیق، تدریس اور علمی مباحث کا مرکز تھا۔
لائبریری آف اسکندریہ کی تباہی تاریخ کے سب سے بڑے رازوں میں شمار ہوتی ہے۔ عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ یہ ایک ہی آگ میں مکمل طور پر تباہ ہوگئی، لیکن بیشتر جدید مورخین اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق لائبریری مختلف ادوار میں ہونے والی جنگوں، سیاسی کشمکش، مذہبی تنازعات اور حکومتی غفلت کے باعث بتدریج نقصان کا شکار ہوئی۔ ایک مشہور روایت کے مطابق 48 قبل مسیح میں رومی جرنیل جولیس سیزر کی فوج نے اسکندریہ کی بندرگاہ میں آگ لگائی، جس کے نتیجے میں لائبریری کے کچھ حصے متاثر ہوئے۔ بعد کے ادوار میں رومی سلطنت کے داخلی تنازعات، شہنشاہ اوریلیان کی فوجی کارروائیاں اور چوتھی صدی عیسوی میں مذہبی کشیدگی نے بھی اس علمی مرکز کو شدید نقصان پہنچایا۔
صدیوں سے ایک اور مشہور روایت بیان کی جاتی ہے کہ 642ء میں مصر کی فتح کے بعد مسلمانوں نے خلیفہ حضرت عمر بن خطاب کے حکم پر لائبریری کو جلا دیا تھا، لیکن جدید تحقیق اس دعوے کی تائید نہیں کرتی۔ بیشتر مورخین کے مطابق یہ روایت کئی صدیوں بعد لکھی گئی اور اس کے حق میں قابلِ اعتماد تاریخی شواہد موجود نہیں ہیں۔ اسی لیے آج زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ لائبریری اسلامی فتح سے بہت پہلے ہی اپنی اصل حیثیت کھو چکی تھی۔
اگر لائبریری آف اسکندریہ محفوظ رہتی تو ممکن ہے کہ دنیا کی سائنسی اور فکری ترقی کی رفتار مختلف ہوتی۔ اس میں موجود ہزاروں نایاب مخطوطات ہمیشہ کے لیے ضائع ہوگئے، جن میں سے بہت سی کتابیں آج دنیا میں کہیں بھی موجود نہیں۔ ان کے ضائع ہونے سے قدیم تہذیبوں کے بے شمار علمی راز بھی تاریخ کی دھند میں گم ہوگئے۔اگرچہ قدیم لائبریری اب موجود نہیں، لیکن اس کی یاد آج بھی زندہ ہے۔ 2002ء میں مصر کے شہر اسکندریہ میں ”ببلیوتھیکا الیگزینڈرینا“(Bibliotheca Alexandrina) کے نام سے ایک جدید عالمی لائبریری قائم کی گئی، جس کا مقصد قدیم علمی روایت کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔ اس جدید ادارے میں لاکھوں کتابیں، تحقیقی مراکز، عجائب گھر، نمائش گاہیں اور ڈیجیٹل آرکائیوز موجود ہیں، جہاں دنیا بھر کے محققین علم کی جستجو میں آتے ہیں۔
لائبریری آف اسکندریہ کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔ جب معاشرے علم، تحقیق اور کتابوں کی حفاظت کرتے ہیں تو تہذیبیں ترقی کرتی ہیں، اور جب علمی ورثہ جنگوں، تعصب یا غفلت کی نذر ہو جائے تو اس کا نقصان صرف ایک قوم نہیں بلکہ پوری انسانیت کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اسی لیے لائبریری آف اسکندریہ آج بھی صرف ایک تاریخی عمارت نہیں بلکہ علم، تحقیق اور انسانی تہذیب کی عظمت کی ایک لازوال علامت سمجھی جاتی ہے۔
