اذیت کے باوجود ایمان پر قائم رہنے والی ملیشیائی کیتھولک نرس کی جنگی قربانی کی داستان
جاپانی قبضے کے دوران مزاحمتی کارکنوں کو دھوکا دینے سے انکار کرتے ہوئے تشدد اور اذیتیں برداشت کرنے والی کیتھولک نرس سِبل کتھیگاسو (Sybil Kathigasu)کی جنگی زندگی اور گواہی کو ایک بار پھر نمایاں کیا جا رہا ہے۔ یہ کوشش ان کو مبارک قرار دیے جانے اور اْن کی (Beatification and Canonization)کی راہ کو آگے بڑھانے کے لیے کی جا رہی ہے۔بریگیڈیئر جنرل (ریٹائرڈ) فِٹزجیرالڈ آگسٹن نے 15 اگست کو آرچ ڈایوسیس آف کوالالمپور کے علاقے پیٹلنگ جایا میں واقع سینٹ اگنیشئیس چرچ میں سِبل کی زندگی کی داستان پیش کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسیح پر سِبل کے ایمان نے انہیں قید، تشدد اور اپنے خاندان کو لاحق خطرات کے باوجود ثابت قدم رہنے کی طاقت عطا کی۔یہ پیرش فارمیشن پروگرام آگسٹین کی جانب سے سِبل کی زندگی اور روحانیت کے بارے میں جاری آگاہی مہم کا اگست میں آٹھواں اجلاس تھا۔ وہ کاہنوں کی روحانی نشستوں کے دوران بھی ان کی زندگی اور گواہی پیش کر چکے ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سِبل کی تقدیس کی کوششوں سے آگاہ کیا جا سکے۔
کوالالمپور کے آرچ بشپ جولیان لیونے آگسٹین کو یہ آگاہی مہم جاری رکھنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ انہوں نے ان سے مزید معلومات، گواہیاں اور ممکنہ معجزات کے بارے میں شواہد جمع کرنے کو بھی کہا ہے جو سِبل کی شفاعت سے منسوب ہوں اور ان کی تقدیس کی درخواست میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔پینانگ کے کارڈینل سبیسٹین فرانسس جنہوں نے جولائی 2024 میں باضابطہ طور پر سِبل کی تقدیس کا عمل شروع کیا، نے کیتھولک مسیحیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ سِبل کے ایمان، بہادری اور بے غرضی کی گواہی پر غور کریں اور دْعا کریں کہ انہیں خدا کی خادمہ (Servant of God)کے طور پر تسلیم کیا جائے۔
سِبل اور اْن کے شوہر، ڈاکٹر ایبڈن کلیمنٹ کتھیگاسو، نے جاپانی قبضے کے دوران ایپوہ اور پاپان میں طبی مراکز چلائے۔ وہ شہریوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ ملایائی عوامی جاپان مخالف فوج (Malayan People’s Anti-Japanese Army)کے ارکان کا علاج بھی کرتے اور انہیں پناہ فراہم کرتے تھے۔
جب جاپانی افواج نے مزاحمتی کارکنوں کی مدد کرنے والوں کی تلاش تیز کر دی تو سِبل نے بارہا فرار ہونے کے مواقع مسترد کیے، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ان کے فرار سے دوسرے لوگ خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ 1943 میں گرفتاری کے بعد بھی انہوں نے مزاحمتی کارکنوں کی جانب سے انہیں چھڑانے کی کوشش کو مسترد کر دیا، کیونکہ انہیں خوف تھا کہ اس سے دوسرے افراد کی شناخت ظاہر ہو جائے گی اور اْن کی جانیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔
ان کی قید اگست 1945 میں جاپان کے ہتھیار ڈالنے تک جاری رہی۔ اس دوران انہیں کیمپیتائی یعنی جاپانی فوجی پولیس، کی جانب سے شدید تشدد اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود انہوں نے ان لوگوں کے بارے میں کوئی معلومات ظاہر نہیں کیں جن کی انہوں نے مدد کی تھی۔
ان کی زندگی کا ایک نہایت دردناک واقعہ7 1نومبر 1943 کو پیش آیا، جب ان کی چھ سالہ بیٹی ڈان (Dawn)کو قتل کرنے کی دھمکی دی گئی تاکہ سِبل سے مزاحمتی کارکنوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔ سِبل نے اپنی بیٹی کے لیے مقدسہ مریم سے دْعا کی، جبکہ ڈان نے اپنی والدہ کو بہادر رہنے اور دوسروں سے غداری نہ کرنے کی تلقین کی۔
آگسٹین نے سِبل کی پُرمصروف دْعائیہ زندگی کو بھی اْجاگر کیا۔ جیل میں وہ پاک روزری پڑھتی تھیں، صلیب کے راستے چودہ مقام کی عبادت کرتیں تھیں اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو بھی دْعا کے لیے جمع کرتی تھیں۔ ان کی یادداشتوں پر مبنی کتاب No Dram of Mercy میں بیان کیا گیا ہے کہ قید کے دوران دْعا ان کے لیے طاقت کا ایک اہم ذریعہ بن گئی تھی۔
سِبل کا انتقال جون 1948 میں 49 برس کی عمر میں septicemia (خون میں شدید انفیکشن)کے باعث ہوا، جو دورانِ قید پہنچنے والے زخموں سے متعلق تھا۔ انگلینڈ میں اْن کے کئی آپریشن اور علاج ہوئے، لیکن وہ اپنے تشدد کے نتیجے میں لگنے والے زخموں سے مکمل طور پر صحت یاب نہ ہو سکیں۔
ان کی بہادری کو اس سے پہلے بھی تسلیم کیا جا چکا تھا، جب انہیں 1947 میں جارج میڈل (George Medal) سے نوازا گیا۔ انہیں ایپوہ کے سینٹ مائیکل چرچ کے قبرستان میں دفن کیا گیا ہے، جہاں جنوری 2025 سے ہر ماہ کی 12 تاریخ کو ایک دعائیہ گروہ ان کی قبر پر جمع ہوتا ہے۔یہ ماہانہ اجتماع کیتھولک مسیحیوں کے لیے ان کی تقدیس کی کوشش کے لیے دْعا کرنے اور ان کے ایمان و ایثار کی مثال پر غور کرنے کا موقع بن چکا ہے.
سِبل کی گواہی آج بھی صرف ان تکالیف کی وجہ سے یاد نہیں کی جاتی جو انہوں نے برداشت کیں، بلکہ اس انتخاب کی وجہ سے بھی یاد کی جاتی ہے جو انہوں نے دوسروں کو بچانے کے لیے اپنی جان اور سلامتی کی قیمت پر کیا۔ کلیسائی رہنماؤں کے مطابق، ان کی زندگی قربانی کے اُس مسیحی تصور کی عکاسی کرتی ہے جو خدا اور اپنے پڑوسی سے محبت میں جڑا ہوا ہے۔
