FABC کے سیکریٹری جنرل کا جنرل اسمبلی سے قبل پیغام: ایشیا کی کلیسیا تنہائی میں رہ کر اپنا مشن پورا نہیں کر سکتی۔

کارڈینل تارسیسیو ایساؤ کیکوچی، ایس وی ڈی
کارڈینل تارسیسیو ایساؤ کیکوچی، ایس وی ڈی

ایشیا کی کیتھولک کلیسیا جب 20 تا 26 جولائی تک انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کی بارہویں جنرل اسمبلی کی تیاری کر رہی ہے، تو کارڈینل تارسیسیو ایساؤ کیکوچی، ایس وی ڈی، سیکریٹری جنرل FABC، نے کلیسیا پر زور دیا ہے کہ وہ معاشرے کے ساتھ اپنے تعلق کو مزید مضبوط بنائے، کیونکہ تنہائی میں رہ کر وہ اپنے مشن کو پورا نہیں کر سکتی۔ریڈیو ویریتاس ایشیا (RVA) کو جنرل اسمبلی سے قبل دیے گئے اپنے خصوصی پیغام میں، جاپان کے شہر ٹوکیو کے آرچ بشپ اور FABC کے سیکریٹری جنرل کارڈینل کیکوچی نے اسمبلی کے موضوع”سنڈی تبدیلی اور ایشیا میں پْل اور پْل تعمیر کرنے والے بننے کا مشن“پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ موضوع کلیسیا کو دعوت دیتا ہے کہ وہ ایشیا کی مختلف ثقافتوں، مذاہب اور برادریوں کے ساتھ مل کر سفر کرے۔انہوں نے کہا کہ ایشیا کے متنوع معاشروں میں کیتھولک کلیسیا اکثر ایک اقلیتی برادری کی حیثیت رکھتی ہے۔
کارڈینل کیکوچی نے کہا کہ ہم، یعنی کیتھولک کلیسیا، تنہائی میں وجود نہیں رکھتی۔ ہمارا تعلق معاشرے، دیگر مذہبی برادریوں، مختلف ثقافتوں اور ایشیا کی گوناگوں زبانوں سے ہے۔انہوں نے کہا کہ یہی حقیقت کلیسیا سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ سنڈیلٹی کو صرف داخلی معاملات تک محدود نہ سمجھے بلکہ اِسے دنیا کے ساتھ تعلق اور شراکت کا ذریعہ بھی بنائے۔ان کے مطابق جب سنڈیلٹی کی بات کی جائے تو صرف کلیسیا کے اندرونی تعلقات پر توجہ دینا کافی نہیں، بلکہ بیرونی دنیا کے ساتھ تعلقات کو بھی اسی اہمیت سے دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ یہی ایشیا کی حقیقی صورتِ حال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایشیا میں مکالمہ ہمیشہ سے کلیسیا کے مشن کی ایک بنیادی خصوصیت رہا ہے۔کارڈینل کیکوچی نے سنڈیلٹی کو ایشیائی تناظر میں سنڈی تبدیلی اور پْل تعمیر کرنے کے مشن کو دعوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کلیسیا کو مسلسل غور و فکر کرنا چاہیے کہ وہ ایشیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے سماجی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی حالات کا کس طرح ایمانداری اور حکمت کے ساتھ جواب دے سکتی ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ ایشیا کو تشدد، غربت اور بیماری جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس خطے میں موجود اْمید اور نئے مواقع کی بھی نشاندہی کی۔انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی میں بشپ صاحبان اِس بات پر غور کریں گے کہ روح القدس آج ایشیا کی کلیسیاؤں کو کس سمت بْلا رہا ہے۔ وہ اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ موجودہ سماجی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی حالات کلیسیا کو کس طرح متاثر کر رہے ہیں اور وہ سنڈی انداز میں ان کا موثر اور وفادارانہ جواب کیسے دے سکتی ہے۔

fabc_secretary_general
fabc_secretary_general

کارڈینل کیکوچی نے زور دیا کہ سنڈیلٹی کو صرف ایک نظریہ یا انتظامی اصلاح کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سنڈیلٹی کوئی مجرد تصور یا محض ادارہ جاتی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک ایسی طرزِ زندگی ہے جو کلیسیا کے مشن اور ہماری گواہی کو تشکیل دیتی ہے۔ان کے مطابق ایک حقیقی سنڈی کلیسیا وہ ہے جو خود بھی پْل بنے اور دوسروں کو بھی پْل بنانے کی ترغیب دے۔
انہوں نے کہا کہ ایشیا کے مشکل حالات میں کلیسیا کی خواہش ہے کہ وہ مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کے درمیان ایسے پْل قائم کرے جن کے ذریعے سب مل کر چل سکیں، ایک دوسرے کا سہارا بنیں، محبت، اَمن، مفاہمت، ہم آہنگی، باہمی تعاون، مہربانی اور قبولیت کے جذبے کے ساتھ دْعا اور خدمت میں شریک ہوں۔کارڈینل کیکوچی نے مزید کہا کہ کلیسیا کا مقصد صرف مسائل کے حل پیش کرنا نہیں بلکہ سب لوگوں کو اس عمل میں شریک کرنا ہے تاکہ مشترکہ طور پر ایسے حل تلاش کیے جا سکیں جو انصاف پر مبنی اور دیرپا ہوں۔انہوں نے کہا کہ کلیسیا صرف پْل تعمیر کرنے والی نہیں بلکہ سب کو مل کر پْل تعمیر کرنے کی دعوت دینے والی برادری ہے۔ سنڈی مشن کا تقاضا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایسے حل تلاش کریں جو انسانی عظمت کے تحفظ اور باہمی محبت کو فروغ دیں۔
ایک ہفتے پر مشتمل FABC کی بارہویں جنرل اسمبلی میں ایشیا بھر سے بشپ صاحبان شرکت کریں گے، جہاں وہ اِس بات پر غور کریں گے کہ خطے کی متنوع اور سماجی ضروریات کا جواب دیتے ہوئے کلیسیا کس طرح اتحاد، شراکت اور مشن کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔