بیٹی ڈوئچ

بیٹی ڈوئچ
بیٹی ڈوئچ

کبھی کبھی زندگی میں کوئی بڑا خواب برسوں کی منصوبہ سازی سے نہیں، بلکہ ایک چھوٹے سے فیصلے سے جنم لیتا ہے۔ ایک ایسا فیصلہ جو بظاہر معمولی ہو، مگر انسان کی پوری زندگی کا رخ بدل دے۔ بیٹی ڈوئچ کی کہانی بھی ایسے ہی ایک فیصلے سے شروع ہوتی ہے۔ چار بچوں کی ماں، گھریلو زندگی میں مصروف ایک خاتون، جس نے ایک دن خود کو دوبارہ جسمانی طور پر مضبوط بنانے کے لیے دوڑنا شروع کیا، اور چند ہی برسوں میں اسرائیل کی نمایاں میراتھن رنرز میں شمار ہونے لگی۔
بیٹی ڈوئچ، جن کا پیدائشی نام بیٹریس رابن ہے، 29 اگست 1989 کو امریکا میں پیدا ہوئیں۔ وہ نیو جرسی کے شہر پاسیک میں پروان چڑھیں اور بعد ازاں اسرائیل منتقل ہو گئیں۔ ان کے پاس سکول کاؤنسلنگ میں ماسٹرز کی ڈگری بھی ہے اور نوعمری میں انہوں نے تائیکوانڈو میں بلیک بیلٹ حاصل کی۔ شادی کے بعد ان کی زندگی کا مرکز خاندان اور بچوں کی پرورش بن گیا۔ وہ پانچ بچوں کی ماں ہیں۔کئی برس تک باقاعدہ کھیلوں سے دور رہنے کے بعد 2015 کے دوران انہوں نے محسوس کیا کہ انہیں اپنی جسمانی صحت اور فٹنس پر دوبارہ توجہ دینی چاہیے۔ ان کے شوہر کی جانب سے ایک طویل سائیکل ریس میں حصہ لینا بھی انہیں متاثر کرگیا۔ چنانچہ انہوں نے خود کو ایک ایسے چیلنج کے لیے تیار کرنے کا فیصلہ کیا جس کا اس وقت شاید انہیں بھی اندازہ نہیں تھا کہ میراتھن دوڑ اْس کی شناخت کا حصہ بن جائے گی۔بیٹی نے باقاعدہ تربیت شروع کی۔ وہ صبح سویرے اٹھ کر اس وقت دوڑنے کی مشق کرتی تھیں جب ان کے بچے ابھی سو رہے ہوتے تھے۔ صرف چار ماہ کی تربیت کے بعد انہوں نے 2016 میں تل ابیب میراتھن میں حصہ لیا اور چھٹی پوزیشن حاصل کی۔ یہ ان کی پہلی میراتھن تھی۔لیکن ان کے سفر کی سب سے غیر معمولی بات صرف یہ نہیں تھی کہ انہوں نے ایک گھریلو خاتون کی حیثیت سے میراتھن دوڑنا شروع کی۔ 2017 میں انہوں نے اپنی اگلی تل ابیب میراتھن اس وقت دوڑی جب وہ اپنے پانچویں بچے کے ساتھ سات ماہ کی حاملہ تھیں۔ انہوں نے یہ دوڑ 4 گھنٹے 8 منٹ سے زائد میں مکمل کی۔ ان کے مطابق یہ سب کچھ طبی نگرانی میں کیا گیا۔بیٹی ڈوئچ کی شخصیت کو منفرد بنانے والی ایک اور بات ان کا طرزِ زندگی ہے۔ وہ آرتھوڈوکس یہودی مذہبی پس منظر رکھتی ہیں اور دوڑ کے دوران بھی اپنے مذہبی لباس اور حیا کے اصولوں کو برقرار رکھتی ہیں۔ وہ لمبی آستینوں والی شرٹ، گھٹنوں سے نیچے تک اسکرٹ اور سر ڈھانپنے کے لیے اسکارف استعمال کرتی ہیں۔ ان کے لیے کھیل اور مذہبی اقدار ایک دوسرے سے متصادم نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ چلنے والے پہلو ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خوابوں کے حصول کے لیے اپنی اقدار کو قربان کرنا نہیں چاہتیں۔
دوڑ ان کے لیے صرف جسمانی مقابلہ نہیں رہی بلکہ زندگی کو سمجھنے کا ایک ذریعہ بھی بن گئی۔ ان کے اپنے الفاظ میں دوڑ انہیں شکرگزاری اور مشکلات کا سامنا کرنے کی قوت دیتی ہے۔ اسی سوچ نے انہیں ایک ایتھلیٹ سے آگے بڑھ کر ایک موٹیویشنل اسپیکر بھی بنایا، جو اپنی کہانی کے ذریعے دوسروں کو بڑے خواب دیکھنے اور ان کے لیے مسلسل کوشش کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ان کی محنت نے جلد ہی انہیں نمایاں کامیابیاں دینی شروع کر دیں۔ 2018 میں وہ یروشلم میراتھن میں اسرائیلی خواتین میں پہلے نمبر پر رہیں اور اسی سال اسرائیل کی ہاف میراتھن چیمپئن شپ بھی جیتی۔ 2019 میں انہوں نے ٹائیبیریاس میراتھن جیت کر اسرائیلی قومی میراتھن چیمپئن کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کا 2 گھنٹے 42 منٹ اور 18 سیکنڈ کا وقت اس وقت اسرائیلی خواتین کے بہترین میراتھن نتائج میں شمار ہوا۔ بعد کے برسوں میں بھی انہوں نے ٹائیبیریاس میراتھن میں کامیابیاں حاصل کیں اور 2021 میں برطانیہ میں اپنی ذاتی بہترین میراتھن کارکردگی کو 2 گھنٹے 31 منٹ 39 سیکنڈ تک بہتر کیا۔ان کا سفر ہمیشہ آسان نہیں تھا۔ اولمپکس میں شرکت کا خواب بھی ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ رہا۔ 2020 کے ٹوکیو اولمپکس کے لیے ان کی کوششیں مکمل نہ ہو سکیں، جبکہ 2024 کے پیرس اولمپکس سے متعلق بھی ان کی اْمیدیں سامنے آتی رہی ہیں۔ ان کے لیے مقابلہ صرف دوسرے رنرز کے خلاف نہیں بلکہ وقت، حالات، ذمہ داریوں اور اپنی حدود کے خلاف بھی تھا۔
بیٹی ڈوئچ کی زندگی کی خوبصورتی شاید اسی حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ انہوں نے اپنی شناخت کے کسی ایک حصے کو دوسرے پر قربان نہیں کیا۔ وہ ماں بھی ہیں، کھلاڑی بھی، خواب دیکھنے والی بھی اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے والی خاتون بھی۔ ان کی کہانی اس تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ زندگی کے کسی خاص مرحلے کے بعد بڑے خواب دیکھنا ممکن نہیں رہتا۔ان کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ بعض اوقات انسان کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے صرف تیز دوڑنے کی نہیں بلکہ مسلسل دوڑتے رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ راستہ کتنا طویل ہے، منزل کتنی دور ہے اور مشکلات کتنی زیادہ ہیں، یہ سب اپنی جگہ؛ اصل سوال یہ ہے کہ انسان اپنے اندر موجود صلاحیت پر کتنا یقین رکھتا ہے۔بیٹی ڈوئچ کے لیے میراتھن صرف سڑک پر دوڑ کا نام نہیں۔ یہ زندگی کی ایک علامت بن چکی ہے، جہاں ہر قدم انسان کو اپنی کمزوریوں سے آگے بڑھنے، اپنے خوابوں کو زندہ رکھنے اور مشکلات کے باوجود سفر جاری رکھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ شاید اسی لیے ان کی کہانی دنیا بھر میں ان لوگوں کو متاثر کرتی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے لیے اب بہت دیر ہو چکی ہے۔
بیٹی ڈوئچ کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بعض خواب دیر سے ضرور جاگتے ہیں، مگر اگر انہیں محنت، نظم و ضبط اور یقین کا ساتھ مل جائے تو وہ انسان کو وہاں تک لے جا سکتے ہیں جہاں پہنچنے کا اس نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو۔

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup