FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی ایشیائی کلیسیا کے لیے سنڈی سفر کی نئی سمت متعین کرتی ہے۔
مورخہ 28 جولائی 2026 کو فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی نے ایشیا میں کیتھولک کلیسیا کے مستقبل کے مشن کے لیے ایک نئی سمت متعین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کلیسیا کو ایک دوسرے کے ساتھ چلنے، گہرائی سے سننے اور تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں خدا کی محبت کے پُل بننے کی ضرورت ہے۔20تا26 جولائی 2026ء تک جاری رہنے والی اس ایک ہفتے کی جنرل اسمبلی میں ایشیا بھر سے 120 سے زائد کارڈینلز، بشپ صاحبان، کاہن صاحبان، مذہبی رہنما، ماہرینِ الہیات، کلیسیائی کارکنوں اور مومنین نے شرکت کی۔ اسمبلی کا موضوع تھا’تْو اس سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا۔“ (یوحنا 1:50)۔
ایشیا میں سنڈی تبدیلی اور پُل اور پُل بنانے والے بننے کا مشن۔ہر چار سال بعد منعقد ہونے والی یہ اسمبلی ایشیا کی کلیسیا کے لیے غوروفکر، روحانی فکر اور مستقبل کے مشن کی سمت متعین کرنے کا ایک اہم موقع ثابت ہوئی۔ شُرکا نے ایشیا کو درپیش مختلف چیلنجز غربت، ہجرت، تنازعات، جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، ڈیجیٹل تبدیلی اور بین المذاہب تعلقات کے مسائل پر غور کیا۔روایتی اجلاسوں کے برعکس، جہاں زیادہ توجہ قراردادوں اور بیانات پر مرکوز ہوتی ہے، جکارتہ اسمبلی میں دعا، روحانی گفتگو اور ٹیبل گفتگوکو مرکزی اہمیت حاصل رہی۔ شُرکا کو ایک دوسرے کی بات سننے اور ایشیا کی مقامی کلیسیاؤں کے عملی تجربات میں روح القدس کی موجودگی کو پہچاننے کی دعوت دی گئی۔اسمبلی کے دوران بارہا اس بات پر زور دیا گیا کہ سنڈی کلیسیا کے لیے صرف نئے ڈھانچوں یا پاسبانی پروگراموں کا نام نہیں بلکہ تبدیلی اور دلی تجدید کا تقاضا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کلیسیا لوگوں کی بات زیادہ توجہ سے سنے، ان کے ساتھ سفر کرے اور اپنے مشن میں سب کی شرکت کو یقینی بنائے۔
ریٹریٹ کے دوران کارڈینل لوئس انتونیوتاگلے نے شُرکا کو یاد دلایا کہ پُل بننے کی دعوت مسیح سے شروع ہوتی ہے، کیونکہ مسیح خدا اور انسان کے درمیان پُل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پُل بنانا عاجزی، کمزوری کو قبول کرنے اور قربانی کا تقاضا کرتا ہے، خصوصاً ایسی دنیا میں جو تقسیم اور تنازعات کا شکار ہے۔پُل بنانے کے اس تصور کو ایک عملی شکل اس وقت ملی جب شُرکا نے جکارتہ کیتھیڈرل اور استقلال مسجد کو ملانے والی فرینڈشپ ٹنل کا دورہ کیا۔ اس دورے نے انڈونیشیا میں بین المذاہب تعاون کے تجربے کو اْجاگر کیا اور اس بات کی علامت بن گیا کہ مکالمہ اخوت اور امن کی جانب ایک موثر راستہ بن سکتا ہے۔جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد اور کتھیڈرل کے درمیان واقع یہ سرنگ اسمبلی کے اس یقین کی علامت بن گئی کہ مذہبی برادریوں کو تقسیم کی بجائے باہمی افہام و تفہیم، تعاون اور امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
اسمبلی نے ایشیا میں سنڈیلٹی کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات پر بھی پیش رفت کی۔ شُرکا نے ایشیا کے لیے سنڈیلٹی رہنما کتابچہ کے ایک فریم ورک پر کام کیا، جس کا مقصد ایک ایسے رہنما کتابچہ کی تیاری ہے جو ڈایوسیس، پیرشز اور کلیسیائی برادریوں کو روزمرہ زندگی میں سنڈی اصولوں پر عمل کرنے میں مدد دے گا۔شُرکا نے اس بات پر زور دیا کہ سنڈیلٹی میں بشپ صاحبان، کاہن صاحبان، مذہبی رہنما اور مومنین کی مشترکہ ذمہ داری شامل ہونی چاہیے اور کلیسیا میں ایسی ثقافت کو فروغ دیا جائے جو سننے، شرکت اور باہمی تعاون پر مبنی ہو۔
اسمبلی کا ایک اہم نتیجہ FABC کے آئین و ضوابط میں ترامیم کی منظوری بھی تھا۔ نظرثانی شدہ ضوابط کا مقصد فیڈریشن کے انتظامی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا، مختلف دفاتر کے کردار کو واضح کرنا اور ایشیا کی بشپس کانفرنسز کے درمیان باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا ہے، جبکہ عالمگیر کلیسیا کے ساتھ تعاون کو بھی مضبوط بنانا ہے۔اسمبلی میں مصنوعی ذہانت (AI) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ترقی جیسے نئے چیلنجز پر بھی غور کیا گیا۔ اختتامی پریس کانفرنس میں کلیسیائی رہنماؤں نے تسلیم کیا کہ مصنوعی ذہانت بشارت، تعلیم، صحت اور ابلاغ کے شعبوں میں نئے مواقع فراہم کر سکتی ہے، تاہم اس کے استعمال کے لیے اخلاقی رہنمائی ضروری ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی ہمیشہ انسانی عظمت کی خدمت میں ہونی چاہیے اور اسے انسانی ضمیر، ہمدردی، دْعا اور باہمی تعلقات کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔ شُرکا نے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے والے گمراہ کن مواد اور معلومات کے غلط استعمال کے خطرات کی طرف بھی توجہ دلائی اور بالخصوص نوجوانوں میں ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔
اپنے اختتامی پیغام میں FABC نے ایشیا کی کلیسیا پر زور دیا کہ وہ اْمید کی برادری کے طور پر مل کر سفر جاری رکھے اور بڑھتی ہوئی تقسیم کا سامنا کرنے والے معاشروں میں مصالحت، مکالمہ اور یکجہتی کی گواہ بنے۔بشپ صاحبان نے مقامی کلیسیاؤں کو دعوت دی کہ وہ ایشیا کو درپیش چیلنجز کا جواب خوف یا تنہائی کے ذریعے نہیں بلکہ مسیح کے اس مشن کے عزم کو تازہ کرتے ہوئے دیں جو مختلف اقوام اور برادریوں کے درمیان پُل تعمیر کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔جکارتہ سے روانہ ہوتے ہوئے شُرکا اپنے ساتھ صرف دستاویزات اور سفارشات ہی نہیں بلکہ یہ مشترکہ یقین بھی لے کر گئے کہ سنڈیلٹی کو محض ایک تصور نہیں بلکہ کلیسیا کی عملی زندگی کا حصہ بننا چاہیے۔FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی نے اس امر کی توثیق کی کہ ایشیا میں کلیسیا کے مستقبل کے مشن کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ مل کر سفر کرے، گہرائی سے سنے اور تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں ”خدا کی محبت کے پُل“ بنے۔
