ٹیکنالوجی انسان کی خدمت کرے، انسان ٹیکنالوجی کا شکار نہ بنے۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 28اگست 2026کوپاپائے اعظم لیو چہاردہم نے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز (IIAS) کے اراکین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی تحقیق جاری رکھیں تاکہ ایسے طریقے اور ذرائع تلاش کیے جا سکیں جن کے ذریعے عوامی انتظامیہ میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو انسانی بنیادوں پر استوار کیا جا سکے، تاکہ یہ ٹیکنالوجی زندگی اور امن کی خدمت کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس بات کا حقیقی خطرہ موجود ہے کہ انسان اپنی ہی تخلیق کردہ ایجادات کا ”شکار“ بن جائے۔انہوں نے کہا کہ ”ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ انسانی خاندان کی بھلائی کو نجی مفادات کی خاطر قربان نہ کیا جائے۔“1930ء میں عظیم معاشی کساد بازاری کے بعد قائم ہونے والے اس ادارے کا مقصد عوامی اداروں کو معاشرے کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق طرزِ حکمرانی کو ڈھالنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
پوپ لیو نے یاد دلایا کہ اس سال کی کانفرنس کا موضوع ڈیجیٹل دور میں دنیا سے یہ اپیل کرتا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال میں مناسب توازن برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اپیل ان کی انسائیکلیکل ”Magnifica humanitas“ میں کی گئی اس اپیل سے ہم آہنگ ہے، جس میں مصنوعی ذہانت کے دور میں انسانی شخص کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے۔پوپ لیو نے کہا کہ آج ہم اس حقیقت کا سامنا کرنے سے گریز نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ ہماری زندگی کے انداز کو گہرائی سے متاثر کرتی ہے اور معاشرتی زندگی کی ہر سطح میں سرایت کر چکی ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت (AI) میں جدت کی جس رفتار سے ترقی ہو رہی ہے، وہ ہمیں یہ سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا مستقبل میں ہم ان مشینوں کو قابو میں رکھنے کے قابل ہوں گے، اور کیا انسانیت کو اپنی ہی تخلیق کردہ ایجادات کا شکار بننے کا خطرہ لاحق ہے؟
پوپ لیونے خصوصی طور پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ”آج کے سنگین مسائل میں سے ایک یہ حقیقت ہے کہ انسانی زندگی سے متعلق فیصلے مشینوں کے سپرد کیے جا رہے ہیں۔“اس تشویشناک صورتحال کے پیش نظر انہوں نے کانفرنس کے شرکاء کی ان کوششوں کو سراہا جن کے ذریعے ”ان ٹیکنالوجی کے آلات کے مقابلے میں انسانی ذہانت کی ناقابلِ تلافی اہمیت“ کو دوبارہ اْجاگر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ عوامی حکام کو اس شعبے میں ایسے فیصلے کرنے میں مدد دیں جو پوری انسانیت کی بھلائی کے لیے ہوں۔پوپ لیو نے ان اہم ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے ایک اخلاقی ضابطہ وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بدقسمتی سے یہ ٹیکنالوجی بڑے معاشی اور تکنیکی اداروں کے ہاتھوں میں زیادہ سے زیادہ مرکوز ہوتی جا رہی ہے، جبکہ ریاست کے لیے ان پر مؤثر نگرانی اور کنٹرول قائم رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ”میں آپ کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ آپ اپنی تحقیق جاری رکھیں تاکہ ایسے طریقے اور ذرائع تلاش کیے جا سکیں جن کے ذریعے عوامی انتظامیہ میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو انسانی بنیادوں پر استوار کیا جا سکے، تاکہ یہ زندگی اور امن کی خدمت کرے۔“
پوپ لیونے تسلیم کیا کہ ان کی ذمہ داری آسان نہیں ہے اور بعض اوقات مایوسی انہیں گھیر سکتی ہے۔ تاہم، انہوں نے انہیں یقین دلایا کہ وہ خدا سے دْعا کرتے ہیں کہ وہ انہیں ثابت قدم رکھے تاکہ وہ عزم اور حوصلے کے ساتھ اس عظیم اور باوقار خدمت کو جاری رکھ سکیں۔
