”میں آج زندہ ہوں تو صرف آپ کی وجہ سے“ممبئی کے فیملی سروس سینٹر نے 50 سالہ رفاقت مکمل کر لی


”اگر میں آج زندہ ہوں تو صرف آپ کی وجہ سے ہوں۔“
یہ الفاظ فادر کاجیٹن، جو آرچ ڈایوسیس آف بمبئی کے سنیہالیا فیملی سروس سینٹرکے سابق ڈائریکٹر نے کہے۔فادر کاجیٹن نے ایک ایسی نوجوان حاملہ خاتون کا واقعہ سنایا جسے معلوم ہوا کہ اس کا شوہر کسی دوسری عورت کے ساتھ تعلقات میں ہے۔ مایوسی سے مغلوب ہو کر وہ گھر چھوڑ کر اپنی زندگی ختم کرنے کا ارادہ کر چکی تھی۔ راستے میں کسی شخص نے اسے سنیہالیا کے بارے میں بتایا اور مدد لینے کی ترغیب دی۔ بالآخر اس کی ملاقات فادر کاجیٹن سے ہوئی، جنہوں نے اس مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیا۔کئی سال بعد جب دونوں کی دوبارہ ملاقات ہوئی تو اس خاتون نے فادر کاجیٹن سے کہا:
”اگر میں آج زندہ ہوں تو صرف آپ کی وجہ سے ہوں۔“اس کی گواہی نے سنیہالیا کی پانچ دہائیوں پر محیط خدمت کے بنیادی مقصد کو اْجاگر کیا: خاندانوں، شادی شدہ جوڑوں اور افراد کو ایسی جگہ فراہم کرنا جہاں اْن کی بات سنی جائے، اْن کا ساتھ دیا جائے اور انہیں دوبارہ اْمید تلاش کرنے میں مدد ملے۔
8 اگست 1976ء کو قائم ہونے والا سنیہالیا ممبئی میں خاندانوں کو درپیش بڑھتے ہوئے مسائل کے جواب میں وجود میں آیا۔ ان مسائل میں پیشہ ورانہ مشاورت اور کاہنانہ رہنمائی کی ضرورت بھی شامل تھی۔ دوسری ویٹیکن کونسل اور پوپ پال ششم کی تحریر Humanae Vitae سے متاثر ہو کر سینٹر نے بتدریج شادی کی تیاری، خاندانی مشاورت، قدرتی خاندانی منصوبہ بندی، نفسیاتی معاونت اور تربیتی پروگراموں میں اپنی خدمات کو وسعت دی۔
جوبلی کی تقریب کے دوران موجودہ ڈائریکٹر فادر ایشون کاسٹیلینو نے ان تمام سابق ڈائریکٹرز کی خدمات کو یاد کیا جنہوں نے اس سینٹرکے مشن کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ برسوں کے دوران سنیہالیا نے اپنی خدمات میں اضافہ کیا اور پیرش کی سطح پر خاندانی منصوبوں کے ذریعے اپنی موجودگی کو مزید مضبوط بنایا۔اس سینٹر کے بانی ڈائریکٹر فادر ڈاسن امبوسٹا کے ایک ویڈیو پیغام میں آرچ ڈایوسیز آف بمبئی کی اس کوشش کو یاد کیا گیا کہ ایسے شادی شدہ جوڑوں اور افراد کی مدد کی جائے جو خاندانی بحرانوں کا سامنا کر رہے تھے اور جنہیں پیشہ ورانہ اور جامع کاہنانہ معاونت کی ضرورت تھی۔اس جوبلی کی تقریب میں مستقبل پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔ ”دل سے سننا، محبت سے ساتھ دینا، ایمان میں مل کر چلنا“ کے عنوان کے تحت سنیہالیا نے شادی شدہ جوڑوں کی طویل مدتی رفاقت اور معاونت کے لیے نئے منصوبوں کا اعلان کیا۔ان منصوبوں میں 100 رہنما شادی شدہ جوڑوں (Mentor Couples)کی تربیت، 500 نئے شادی شدہ جوڑوں کے ساتھ مسلسل رفاقت اور 100 بین المذاہب شادی شدہ جوڑوں کے لیے خصوصی معاونت شامل ہے۔ مرکز کا منصوبہ آرچ ڈایوسیز بھر میں رہنما جوڑوں کے نیٹ ورک قائم کرنا اور ایک ”بین المذاہب شادی کے لیے رہنما کتاب“ (Interfaith Marriage Companion Handbook) شائع کرنا بھی ہے، تاکہ شادی شدہ جوڑوں اور ان کی رہنمائی کرنے والوں کو مدد فراہم کی جا سکے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممبئی کے آرچ بشپ جان روڈریگس نے سنیہالیا کی 50ویں سالگرہ کو ایک ”پاکیزہ“ اور ”قیمتی“ چیز یعنی میاں بیوی کی محبت کی خوشی قرار دیا۔
انہوں نے کہا:”سونا کسی ایسی چیز کی علامت ہے جو خالص اور بہت قیمتی ہو۔ میرے خیال میں یہ بات بالکل موزوں ہے کہ ہم اس قیمتی چیز کی گولڈن جوبلی منا رہے ہیں: میاں بیوی کے درمیان محبت، جو پاکیزہ ہے اور ہمیں خدا کی خالص محبت کا تجربہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔“
آرچ بشپ نے خاندانوں اور کلیسیا کو درپیش بدلتے ہوئے چیلنجز کو بھی تسلیم کیا، جن میں نئی سماجی حقیقتیں، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور شہروں میں بڑھتی ہوئی تنہائی شامل ہیں۔ انہوں نے کلیسیا پر زور دیا کہ وہ بالخصوص نوجوان نسل کی بات سنے اور ان سے سیکھنے کے لیے اپنے دل اور ذہن کھلے رکھے۔سنیہالیا کے قیام کے زمانے میں ملک کو درپیش بحران کے پس منظر پر غور کرتے ہوئے آرچ بشپ روڈریگس نے امید ظاہر کی کہ موجودہ چیلنجز بھی اسی طرح نئی راہوں اور امکانات کا باعث بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک خوبصورت چیز سامنے آئی تھی۔ ہم خداوند پر بھروسہ رکھتے ہیں کہ جب ہم اس مشکل دور سے گزر رہے ہیں تو اس میں سے بھی کوئی خوبصورت چیز سامنے آئے گی۔سنیہالیا اب اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ فادر ایشون کا وژن شادی کی تیاری کو صرف ایک مرتبہ ہونے والے پروگرام کے بجائے شادی شدہ زندگی کے مسلسل سفر میں رفاقت کے طور پر دیکھتا ہے، تاکہ جوڑوں کو خاندانی زندگی کی خوشیوں اور مشکلات دونوں میں مسلسل معاونت فراہم کی جا سکے۔اپنے پیغام کے اختتام پر آرچ بشپ روڈریگس نے سنیہالیا کو اپنا مشن جاری رکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا:”نرسنگا بجائیں، بگل پھونکیں، گائیں اور خوشی سے پکاریں، اور ان تمام نعمتوں کے لیے خداوند کا شکر ادا کریں جو اُس نے عطا کی ہیں، اور دْعا ہے کہ یہ روشنی ہمیشہ چمکتی رہے۔“

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup