ڈیجیٹل مشن میں صرف مواد نہیں، حقیقی گواہی ضروری ہے۔فادر جان می شین
ایشیا میں کلیسیا کو زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل مواد تیار کرنے سے آگے بڑھ کر اْن لوگوں کے لیے ایک حقیقی اور مستند موجودگی بننے پر توجہ دینی چاہیے جو زندگی میں معنی، تعلق اور ایمان کی تلاش میں ہیں۔ یہ بات فادر جان می شین، ایف۔اے۔ بی۔سی آفس آف سوشل کمیونیکیشن کے ایگزیکٹو سیکریٹری اور ریڈیو ویریتاس ایشیا کے پروگرام ڈائریکٹر نے کہی۔
پہلی ایشین کیتھولک ڈیجیٹل مشنری اسمبلی 2026 سے قبل گفتگو کرتے ہوئے فادر می شین نے کہا کہ موثر ڈیجیٹل بشارت کا آغاز اس بات سے نہیں ہونا چاہیے کہ آن لائن کون سا پیغام شیئر کیا جائے، بلکہ اس بات سے ہونا چاہیے کہ لوگوں کو سْنا جائے اور اْن کے ساتھ چلنے کی کوشش کی جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ پوچھنے سے پہلے کہ ہمیں کیا ابلاغ کرنا چاہیے، ہمیں یہ دیکھناچاہیے کہ لوگ کیا تجربہ کر رہے ہیں اور وہ کس چیز کی تلاش میں ہیں۔اس اسمبلی کا موضوع انفلوئنسرز سے گواہوں تک: ایشیا میں ڈیجیٹل مشن کے لیے سنڈی راستہ ہے۔ یہ اجتماع 10 تا 13 ستمبر 2026 تک فلپائن میں واقع ریڈیو ویریتاس ایشیا کے کیمپس میں منعقد ہوگا، جس میں ایشیا بھر سے کیتھولک ڈیجیٹل ابلاغ کار اور ڈیجیٹل انفلوئنسرز شرکت کریں گے۔
فادر می شین نے ڈیجیٹل مشن کے لیے تین بنیادی مراحل کی نشاندہی کی یعنی سننا، ساتھ چلنا اور گواہی دینا۔انہوں نے کہا کہ ایک ویڈیو، پوڈکاسٹ، بائبل کی تفہیم یا سوشل میڈیا پوسٹ کسی شخص کے ساتھ ملاقات اور تعلق کا دروازہ کھول سکتی ہے، لیکن اصل مقصد صرف مواد، ویوز یا آن لائن سرگرمی میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ لوگوں کے ساتھ تعلق قائم کرنا ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہر اسکرین کے پیچھے ایک انسان موجود ہے جو زندگی میں معنی، تعلق اور بعض اوقات صرف کسی ایسے شخص کی تلاش میں ہوتا ہے جو اْس کی بات سْن سکے۔ریڈیو ویریتاس ایشیا کی مینڈارن سروس اور بائبل اسٹڈی کے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے فادر می شین نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جغرافیائی اور سماجی رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس طرح ان لوگوں کو بھی ایک دوسرے سے جوڑا جا سکتا ہے جنہیں پیرش کی سرگرمیوں میں شرکت، کاہنوں سے ملاقات یا ذاتی طور پر بائبل سٹڈی میں شامل ہونے کے محدود مواقع حاصل ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آن لائن بائبل سٹڈی صرف بائبل کی معلومات دوسروں تک پہنچانے کا ذریعہ نہیں رہتی، بلکہ اْس وقت ایک بامعنی تجربہ بن جاتی ہے جب شرکاء مل کر مقدس صحائف کا مطالعہ کرتے، اپنے تجربات شیئر کرتے، سوالات پوچھتے اور ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل خدمت کو بالمشافہ کلیسیائی اور روحانی خدمت کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل خدمت روایتی کلیسیائی خدمت کا متبادل نہیں بلکہ اس کا معاون اور ایک پْل ہے۔ایشیا کے ثقافتی اور مذہبی تنوع کو بھی ڈیجیٹل مشن میں خاص حساسیت کی ضرورت ہے۔ فادر می شین نے کہا کہ ایشیا میں بہت سی زبانیں اور مختلف ثقافتی پس منظر موجود ہیں، اس لیے پورے براعظم سے موثر انداز میں رابطہ صرف ایک ہی پیغام کو مختلف زبانوں میں ترجمہ کرنے سے ممکن نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ترجمہ اہم ہے، لیکن ثقافتی ہم آہنگی ترجمہ سے کہیں زیادہ گہری چیز ہے۔اْن کے مطابق کلیسیائی اتحاد کا مطلب یکسانیت نہیں بلکہ مختلف برادریوں کو سننا اور ان کے تجربات سے سیکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو ویریتاس ایشیا کی مختلف زبانوں میں خدمات کی بدولت کیتھولک افراد کو ایشیا کی دیگر کلیسیاؤں کی آوازوں اور تجربات سے واقف ہونے کا موقع ملتا ہے۔
اسمبلی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فادر می شین نے کیتھولک اِبلاغ کاروں کو دعوت دی کہ وہ اثر و رسوخ کے حقیقی معنی پر دوبارہ غور کریں۔انہوں نے کہا کہ ایک انفلوئنسر عام طور پر یہ سوچتا ہے کہ کتنے لوگ مجھے فالو کر رہے ہیں، جبکہ ایک گواہ یہ سوچتا ہے کہ میں کس کی خدمت کر رہا ہوں اور میری گواہی کس چیز کے بارے میں ہے۔انہوں نے زور دیا کہ آن لائن اعتبار کا انحصار بالآخر اس زندگی پر ہوتا ہے جو پیغام کے پیچھے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہماری ڈیجیٹل موجودگی خوبصورت ہو لیکن ہماری زندگی انجیل کی تعلیمات کی عکاسی نہ کرتی ہو تو وقت کے ساتھ ہمارے پیغام کی ساکھ ختم ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف مسیح کے لیے مشہور ہونے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ اپنی زندگی کے ذریعے مسیح کو دوسروں کے لیے قابلِ شناخت بنانا چاہیے۔
فادر می شین نے ایشیا کی کلیسیاؤں کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور مقامی آوازوں کو وسیع تر سامعین تک پہنچانے میں FABC-OSC اور ریڈیو ویریتاس ایشیا کے کردار کو بھی اْجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ پلیٹ فارم آتے جاتے رہیں گے، لیکن مشن وہی رہے گا: لوگوں کو مسیح کے قریب لانا اور کلیسیائی اتحاد کو مضبوط بنانا۔ایشین کیتھولک ڈیجیٹل مشنری اسمبلی 2026 میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ ڈیجیٹل دنیا کو کس طرح سنڈیلٹی، ملاقات اور بشارت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس میں خاص طور پر اس تبدیلی پر توجہ دی جائے گی کہ صرف فالوورز حاصل کرنے کی بجائے لوگوں کے ساتھ تعلقات قائم کیے جائیں اور صرف مواد تیار کرنے کے بجائے مسیح کے حقیقی اور مستند گواہ بنا جائے۔
