کیتھولک ڈیجیٹل مشن کو ناصرف ناظرین بلکہ برادریاں تشکیل دینی چاہئیں۔فادر فیلمار کاستروڈیز فیل، جنرل مینیجر۔آر۔وی۔اے
مورخہ 8ستمبر2026کو ریڈیو ویریتاس ایشیا (RVA) کے جنرل مینیجر، فادر فیلمار کاستروڈیز فیل، ایس وی ڈی نے کہا کہ کیتھولک میڈیا کو محض مواد تیار کرنے سے آگے بڑھتے ہوئے حقیقی ڈیجیٹل برادریاں تشکیل دینے پر توجہ دینی چاہیے، جہاں لوگ ایک دوسرے کی بات سن سکیں، اپنی کہانیاں بیان کر سکیں اور ایمان میں مل کر آگے بڑھ سکیں۔
ایشیا کیتھولک ڈیجیٹل انفلوئنسر اسمبلی 2026 سے قبل آر وی اے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فادر فیلمار نے کہا کہ ڈیجیٹل بشارت کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ سامعین محض ناظرین یا فالوورز نہیں بلکہ حقیقی انسان ہیں، جن کے تجربات اور بصیرتیں ایمان سے متعلق گفتگو کو مزید بامعنی بنا سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ کے سامعین حقیقی انسان ہیں، جن کے مختلف تجربات اور قیمتی بصیرتیں ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے مواقع اور ماحول پیدا کیے جائیں جہاں لوگ اپنا ردِعمل دے سکیں، سوالات پوچھ سکیں، اپنی کہانیاں بیان کر سکیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر دْعا کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے لوگوں میں وابستگی اور اپنائیت کا احساس پیدا کرنے کے لیے بظاہر معمولی اقدامات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، جیسے تبصروں کو پڑھنا اور ان کا جواب دینا، نئے ناظرین کا خیرمقدم کرنا، نئے سبسکرائبرز کو خوش آمدید کہنا اور پیغامات کے جوابات دینا۔انہوں نے کہا کہ میرے لیے ڈیجیٹل بشارت کا مطلب یہ ہے کہ مسیح کو نرمی اور محبت کے ساتھ لوگوں کی روزمرہ گفتگو، مشکلات، خوشیوں اور سوالات میں شامل کیا جائے۔
فادر فیلمار نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موثر ڈیجیٹل مواد کو اپنے ہدفی سامعین کی زبان میں ہونا چاہیے اور ان کے تجربات کی عکاسی کرنی چاہیے۔ سیبوانو زبان بولنے والے سامعین، بشمول بیرونِ ملک مقیم فلپائنیوں کے ساتھ رابطے کے اپنے تجربہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب لوگوں کو اپنے خیالات اور تجربات بیان کرنے کے مواقع دیے جاتے ہیں تو خود مواد بھی زیادہ بامعنی اور مؤثر بن جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نقطہ نظر اسمبلی کے اس پیغام کی عکاسی کرتا ہے جس میں ”انفلوئنسرز سے گواہوں تک“ سفر کی دعوت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق کیتھولک ابلاغ کرنے والوں کو اپنی کامیابی کو صرف فالوورز، لائکس یا وائرل ویڈیوز کی تعداد سے نہیں ناپنا چاہیے، بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا ان کا ابلاغ لوگوں کو مسیح سے ملاقات اور قربت کا موقع فراہم کر رہا ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں محض لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے نہیں بلایا گیا، بلکہ جو کچھ ہم نے دیکھا، تجربہ کیا اور جس پر ایمان لائے ہیں، اس کی گواہی دینے کے لیے بلایا گیا ہے۔
ایشیا کیتھولک ڈیجیٹل انفلوئنسر اسمبلی 2026، جس کا موضوع ”انفلوئنسرز سے گواہوں تک:ایشیا میں ڈیجیٹل مشن کے لیے سنڈی طریقہ کار“ ہے، 10 تا 13 ستمبر تک فلپائن کے شہر فیئر ویو میں ریڈیو ویریتاس ایشیا کے مرکز میں منعقد ہوگی۔
فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز کے دفتر برائے سماجی ابلاغ اور ریڈیو ویریتاس ایشیا کے زیرِ اہتمام ہونے والی اس چار روزہ اسمبلی میں ایشیا بھر سے کیتھولک ڈیجیٹل ابلاغ کرنے والے اور ڈیجیٹل انفلوئنسرز شرکت کریں گے۔ اس اجتماع کا مقصد تعاون کو مضبوط بنانا اور ڈیجیٹل مشن کے لیے ایک زیادہ سنڈی طرزِ عمل کو فروغ دینا ہے۔فادر فیلمار نے کہا کہ وہ اْمید رکھتے ہیں کہ آر وی اے، ایشیا کی کلیسیاؤں کے درمیان اشتراک اور اتحاد کا ایک مضبوط پلیٹ فارم بن سکے گا، جہاں صرف مواد ہی نہیں بلکہ وسائل، تربیت، ٹیکنالوجی، کہانیاں اور کیتھولک ابلاغ کاروں کے لیے مواقع بھی ایک دوسرے کے ساتھ بانٹے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ایشیا کے پاس ایشیا اور اس سے آگے کی دنیا کوکہنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ آر وی اے ایک دوسرے کو سننے اور مل کر یسوع کی کہانی بیان کرنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔
