سوشل میڈیا منزل نہیں، گہرے انسانی روابط کا نقطہ آغاز ہونا چاہیے۔ مابانٹا فینومینو،ماہرِ ابلاغ
فلپائن کی معروف ماہرِ ابلاغ اور فلم ساز پائی مابانٹا فینومینو نے خبردار کیا ہے کہ صرف مختصر اور تیزی سے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل مواد پر انحصار ایک ایسی ثقافت کو فروغ دے سکتا ہے جو سطحی اور آسانی سے گمراہ ہونے والی ہو۔اْن کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کو مسیحی پیغام رسانی کے لیے لوگوں کو گہرے انسانی روابط اور حقیقی ملاقاتوں کی طرف لے جانے کا ذریعہ ہونا چاہیے، نہ کہ خود آخری منزل بن جانا چاہیے۔ریڈیو ویریتاس ایشیا کو ایشین کیتھولک ڈیجیٹل مشنری اسمبلی سے قبل ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے پائی مابانٹا فینومینو نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے عام لوگوں کے لیے ابلاغ کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ اب لوگ صرف مواد دیکھنے یا سننے والے نہیں رہے بلکہ خود بھی مواد تخلیق کر سکتے ہیں، اس میں حصہ لے سکتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ مکالمہ کر سکتے ہیں۔تاہم انہوں نے زور دیا کہ ڈیجیٹل ابلاغ اْسی وقت بامعنی بنتا ہے جب وہ انسانی وقار، ڈیجیٹل انصاف، حقیقی برادری اور اجتماعی بھلائی کو فروغ دے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو ہمیشہ نقطہ آغاز رہنا چاہیے۔ انہوں نے مختصر ڈیجیٹل مواد کا موازنہ ایک ایسے ابتدائی لقمہ سے کیا جو لوگوں کو مزید گہری اور بامعنی گفتگو اور تعلق کی طرف راغب کرے۔پائی مابانٹا فینومینو نے خبردار کیا کہ اگر لوگ صرف مختصر اور تیزی سے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل مواد تک محدود رہیں تو اس سے ایک ایسی ثقافت جنم لے سکتی ہے جو سطحی، بے صبر اور آسانی سے یقین کرنے والی ہو۔ انہوں نے مواد تخلیق کرنے والوں اور اسے دیکھنے والوں دونوں پر زور دیا کہ وہ اسکرین سے آگے بڑھ کر بامقصد گفتگو اور حقیقی زندگی میں ایک دوسرے سے ملاقات اور تعلق کو اہمیت دیں۔
کلیسیا کے میڈیا کارکنوں اور نوجوانوں کے لیے انہوں نے کہا کہ حقیقی اور موثر ڈیجیٹل گواہی کے لیے ذمہ دارانہ ابلاغ ضروری ہے۔ اس کا مقصد صرف زیادہ لائکس، فالوورز یا وائرل مواد حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے ڈیجیٹل ابلاغ کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ بے آواز لوگوں کی آواز کو بلند کرنے والے، تبدیلی کے لیے آواز اْٹھانے والے اور مقصد کے ساتھ کہانیاں بیان کرنے والے بنیں۔ ان کے مطابق، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو محروم اور نظرانداز کیے گئے لوگوں کے مسائل اجاگر کرنے، ناانصافی کو چیلنج کرنے اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔انہوں نے ڈیجیٹل مشنریوں کو یہ بھی یاد دلایا کہ ابلاغ صرف اپنی ذات کے اظہار کا نام نہیں، بلکہ یہ سچائی، انصاف، امن اور تخلیق کی حفاظت کو فروغ دینے کی ایک ذمہ داری بھی ہے۔
انہوں نے ڈیجیٹل مشنریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے آپ کو مرکز بنانے سے باہر نکلیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایسی کہانیاں بیان کی جانی چاہئیں جو غیر معمولی تجربات کے ساتھ ساتھ روزمرہ زندگی کے عام لمحات میں بھی خدا کی موجودگی کو نمایاں کریں۔انہوں نے کیتھولک ابلاغ کاروں پر زور دیا کہ وہ صرف داد حاصل کرنے کے لیے تجارتی انداز کے مواد تخلیق کرنے تک محدود نہ رہیں۔ اس کی بجائے اپنی صلاحیتوں کو اس طرح استعمال کریں کہ ایشیا بھر میں لوگ خدا کے زندہ چہرے کو پہچان سکیں اور اس سے ملاقات کا تجربہ کر سکیں۔
پائی مابانٹا فینومینو ابلاغِ عامہ کی حکمتِ عملی کی ماہر، فلم ساز اور معلمہ ہیں۔ وہ اس وقت سگنس فلپائن کی صدر اورسگنس ایشیاکی منتخب بورڈ رکن ہیں۔ اس سے قبل وہ کمیونیکشن فاونڈیشن برائے ایشیا کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں اور کلیسیا کے میڈیا کارکنوں اور نوجوانوں کے لیے علاقائی سطح پر میڈیا تربیتی پروگراموں کی قیادت کر چکی ہیں۔ان کے یہ خیالات ایشین کیتھولک ڈیجیٹل انفلوئنسر اسمبلی 2026 سے قبل سامنے آئے ہیں، جس کا موضوع ہے:”انفلوئنسرز سے گواہوں تک: ایشیا میں ڈیجیٹل مشن کے لیے ہم آہنگی کا راستہ“۔یہ اجتماع 10 تا 13 ستمبر 2026 کو فلپائن کے شہر فئیر ویو میں واقع ریڈیو ویرتاس ایشیا کے کیمپس میں منعقد ہوگا۔ اس کا اہتمام ایف۔اے۔بی۔سی دفتر برائے کمیونیکیشن اور ریڈیو ویریتاس ایشیامشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔
