فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز کے اختتامی پاک ماس میں کارڈینل فیراؤ کی کلیسیا کو خدا کی حضوری پہچاننے کی دعوت
کارڈینل فلپ نری فیراؤ نے کہا کہ ایشیا کی کلیسیا کو انجیل کی منادی سے پہلے اپنے معاشروں اور اقوام کے درمیان پہلے سے کارفرما خدا کی حضوری کو پہچاننا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات 26 جولائی کو فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی کی اختتامی پاک ماس کے دوران کہی۔جکارتہ کے کیتھیڈرل آف آور لیڈی آف دی اسمپشن میں وعظ کرتے ہوئے FABC کے صدر نے کہا کہ کلیسیا کا سنڈ کا سفر اس عاجزی سے شروع ہوتا ہے کہ وہ ایشیا کی متنوع ثقافتوں اور برادریوں میں خدا کی جانب سے پہلے سے بوئے گئے خزانے کو دریافت کرے۔
متی کی انجیل میں پوشیدہ خزانے، قیمتی موتی اور مچھلی پکڑنے کے جال کی تمثیلوں پر غور کرتے ہوئے کارڈینل فیراؤ نے بشپ صاحبان، کاہن صاحبان، مذہبی رہنماؤں اورمومنین شرکا کو دعوت دی کہ وہ ایک ہفتے تک جاری رہنے والی جنرل اسمبلی کو محض اجلاسوں کا سلسلہ نہ سمجھیں۔انہوں نے کہا کہ پوری جنرل اسمبلی کے دوران ہمارے سامنے یہ سوال رہا کہ ایشیا کی کلیسیا کس طرح پْل اور پْل بنانے والی کلیسیا بن سکتی ہے۔کارڈینل کے مطابق اس سوال کا جواب اس حقیقت کو پہچاننے سے شروع ہوتا ہے کہ خدا کی بادشاہی پہلے ہی موجود ہے اور کلیسیا کا مشن خدا کی حضوری کو دریافت کرنا اور اسے پروان چڑھانا ہے، نہ کہ یہ سمجھنا کہ جہاں خدا موجود نہیں وہاں اسے لے کر جانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایسی جگہوں پر خدا کو نہیں لے کر جاتے جہاں وہ موجود نہیں۔ اس کے بجائے ہم اس خدا کو پہچاننا سیکھتے ہیں جو پہلے ہی موجود ہے اور پہلے ہی اپنا کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہی تصور سنڈیلٹی کے مرکز میں ہے، جو کلیسیا کو روح القدس کی آواز غور سے سننے کی دعوت دیتا ہے۔ روح القدس نہ صرف مقدس صحائف اور مقدسات کے ذریعے بلکہ غریبوں کی فریاد، مقامی اقوام کی دانائی، خاندانوں کے ایمان، نوجوانوں کی امیدوں، تارکین وطن کی مشکلات اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی روحانی جستجو کے ذریعے بھی کلام کرتا ہے۔کارڈینل فیراؤ نے ایشیا کو ایسی بابرکت سرزمین قرار دیا جہاں بھرپور ثقافتیں، قدیم روحانی روایات اور نوجوان آبادی موجود ہے، تاہم براعظم کو غربت، جبری نقل مکانی، مسلح تنازعات، سیاسی تقسیم، امتیازی سلوک اور ماحولیاتی تباہی جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ان کے مطابق یہ حالات خدا کی مسلسل حضوری کو نظروں سے اوجھل نہیں کرنے چاہئیں بلکہ کلیسیا کو سننے، مکالمے اور عاجزی کے ساتھ معاشرے سے جڑنے کی دعوت دیتے ہیں۔انہوں نے ان رویوں سے بھی خبردار کیا جو سنڈ کے سفر میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کلیرکل ازم، حد سے زیادہ مرکزیت، خوف، باہمی رقابت اور یہ سوچ کہ تمام جوابات صرف ایک فرد یا گروہ کے پاس ہیں، کلیسیا کے اندر اشتراک اور شرکت کو کمزور کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر فیصلہ سازی محدود اور بند رہے گی تو حقیقی شرکت فروغ نہیں پا سکتی، اور اگر بعض آوازوں کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہے تو اشتراک بھی مضبوط نہیں ہو سکتا۔
انجیل کی تمثیل کی طرف دوبارہ اشارہ کرتے ہوئے کارڈینل فیراؤ نے کہا کہ وہ شخص جس نے پوشیدہ خزانہ حاصل کرنے کے لیے اپنا سب کچھ بیچ دیا، آج کلیسیا کے لیے درکار تبدیلی کی مثال پیش کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خزانہ اتنا قیمتی ہے کہ اسے حاصل کرنے کے لیے باقی سب کچھ چھوڑ دینا بھی قابلِ قدر ہے۔ انہوں نے کلیسیا پر زور دیا کہ وہ ان رویوں اور ڈھانچوں کو ترک کرے جو خدا کے کام میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی کے اختتام پر کارڈینل فیراؤ نے شرکا کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ جنرل اسمبلی کی روح کو اپنی مقامی کلیسیاؤں تک لے کر جائیں۔انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی کے دوران ہونے والی گفتگو، روحانی امتیاز اور تیار کی گئی دستاویزات اسی وقت ثمر آور ہوں گی جب انہیں روزمرہ کلیسیائی و روحانی زندگی میں عملی شکل دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شرکا کو ایسی کلیسیا کی تعمیر کے عزم کے ساتھ اپنے علاقوں میں واپس جانا ہے جو زیادہ گہرائی سے سنتی ہو، روح القدس کی رہنمائی کے لیے کھلی ہو اور غریبوں، زخمی دلوں اور امید کے متلاشی افراد کے ساتھ قریبی رفاقت میں چلتی ہو۔
اگرچہ اختتامی پاک ماس نے ایک ہفتے تک جاری رہنے والی جنرل اسمبلی کا اختتام کیا، تاہم کارڈینل فیراؤ نے شرکا کو یاد دلایا کہ یہ ایشیا کی کلیسیا کے لیے ایک نئے مشن کا آغاز بھی ہے، تاکہ وہ سنڈیلٹی کی زندگی کے ذریعے حقیقی معنوں میں پْل بنانے والی کلیسیا بن سکے۔
