اسلام آباد کچی آبادی کے مسیحی متاثرین کی بحالی فوراً یقینی بنائی جائے۔ فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد

گزشتہ دنوں اسلام آباد راولپنڈی ڈایوسیس میں فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد سے کچی آبادیوں کے خلاف کاروائیوں کو فوراً روکنے اور متاثرین کی باعزت بحالی یقینی بنانے کی اپیل کی۔اسلام آباد کچی آبادیوں میں ممکنہ بے دخلیوں کے تناظر میں فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے کہاکہ دہائیوں سے آباد ہزاروں خاندانوں کو بغیر متبادل رہائش اور واضح پولیسی کے بے گھر کرنا سنگین انسانی مسئلہ بن سکتا ہے۔ اس لئے حکومت اور متعلقہ ادارے فوری طور پر کاروائیاں روک کر متاثرہ افراد کیلئے منصفانہ اور پائیدار حل یقینی بنائیں۔بشپ جی نے اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ پیش رفت کے باعث کچی آبادیوں کے مکین شدید خوف،اضطراب اور ذہنی دباو کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ خاندان برسوں سے ان علاقوں میں آباد ہیں اور دارلحکومت کی سماجی و معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ رہائش کا حق ایک بنیادی انسانی حق ہے اور کسی بھی شہری کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر اور مناسب متبادل  فراہم کیے بغیر بے گھر نہیں کیا جانا چاہیے۔   
فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کی کہ وہ فوری طور پر تمام بے دخلی کی کاروائیاں روک دیں۔جب تک متاژہ کمیونیٹیزسے مشاورت کے ساتھ کوئی جامع منصفانہ اور مستقل حل تیار نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے 2015 کے احکامات پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔