سیگنس پاکستان اور قومی کمیشن برائے سماجی ابلاغیات کے زیر اہتمام ایوبیہ میں پانچ روزہ میڈیا ٹر یننگ کا انعقاد

 سیگنس پاکستان اور قومی کمیشن برائے سماجی ابلاغیات کے زیر اہتمام ایوبیہ میں پانچ روزہ میڈیا ٹر یننگ کا انعقاد
سیگنس پاکستان اور قومی کمیشن برائے سماجی ابلاغیات کے زیر اہتمام ایوبیہ میں پانچ روزہ میڈیا ٹر یننگ کا انعقاد

مورخہ یکم تا5جون 2026کو کیتھولک یوتھ سنٹر ایوبیہ میں سیگنس پاکستان اور قومی کمیشن برائے سماجی ابلاغیات کی جانب سے پانچ روزہ میڈیا ٹر یننگ کا انعقاد کیا گیا۔جس کا موضوع‘‘ اْمید کے ڈیجیٹل مشنریز ’’ تھا ۔یہ میڈیا ٹریننگ خاص طور پرپاکستان کے تمام ڈایوسیس کے ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز کے لیے تشکیل دی گئی تھی ۔ جس میں 55 نوجوانوں نے بھر پور شرکت کی۔ 

 سیگنس پاکستان اور قومی کمیشن برائے سماجی ابلاغیات کے زیر اہتمام ایوبیہ میں پانچ روزہ میڈیا ٹر یننگ کا انعقاد
سیگنس پاکستان اور قومی کمیشن برائے سماجی ابلاغیات کے زیر اہتمام ایوبیہ میں پانچ روزہ میڈیا ٹر یننگ کا انعقاد


فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد ( چیئر مین ۔ قومی کمیشن برائے سماجی ابلاغیات) نے کیتھولک ابلاغ کاروں اور انفلواینسرزکے ساتھ ملکر پوپ لیو کی پہلی دستاویز MAGNIFICA HUMANITAS کے لئے شمع روشن کی اور اپنے دستِ مبارک سے اس دستاویز کی رونمائی کی اور نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام ذرائع ابلاغ کے ذریعہ انسانی عظمت کو فروغ دیں۔ پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے اس دستاویز میں انسانی عظمت کے تحفظ پر زور دیا ہے اور ساری دنیا کو دعوت دی ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت اور تمام ذرائع ابلاغ کے ذریعہ انسانی عظمت ،انسانی حقوق اور انسانی تہذیب و تمدن کے تحفظ کو اپنی مشترکہ ذمہ داری سمجھیں ۔ بشپ موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کو انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کریں۔ 

 سیگنس پاکستان اور قومی کمیشن برائے سماجی ابلاغیات کے زیر اہتمام ایوبیہ میں پانچ روزہ میڈیا ٹر یننگ کا انعقاد
سیگنس پاکستان اور قومی کمیشن برائے سماجی ابلاغیات کے زیر اہتمام ایوبیہ میں پانچ روزہ میڈیا ٹر یننگ کا انعقاد


 ریورنڈ فادر قیصر فیروز نے پاپائے اعظم لیو کے 60ویں عالمی یوم ابلاغیات کے پیغام میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں انسانی آوازوں اور چہروں کا تحفظ ہماری مشترکہ اور سماجی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا چہرہ مقدس ہے کیونکہ خدا نے آپکو اپنی شکل و صورت پر پیدا کیا ہے۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ بائیبل کے آغاز ہی سے انسان اور خدا کے درمیان ابلاغ کا سلسلہ موجود ہے اور خدا خود سب سے پہلا ابلاغ کار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بائیبل ایک عظیم ابلاغ ہے او یسوع المسیح کامل ابلاغ کارہے ۔جس نے تمثیلات اور کہانیوں کے ذریعے خداکے پیغام کو مؤثر انداز میں لوگوں تک پہنچایا۔
ریورنڈ فادر قیصر فیروز نے انسانی ابلاغ کی ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انسان نے زمانہ قدیم سے اب تک مسلسل ترقی کی ہے؛ پہلے غاروں کی دیواروں اور جانوروں کی کھالوں پر تحریر سے آغاز ہوا، پھر کاغذ ایجاد ہوا اور آج ہم ڈیجیٹل دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں معلومات کی ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک عالمگیر گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے، معلومات دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے پہنچ جاتی ہیں۔انہوں نے کلیسیا میں ابلاغیات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ کلیسیا نے گزشتہ کئی سالوں سے ابلاغیات کے حوالے سے بہت اہم دستاویزات جاری کی ہیں ۔ اسی لیے پوپ جان پال دوم کو ‘‘میڈیا کا پوپ’’ اور پوپ بینیڈکٹ کو ‘‘ڈیجیٹل پوپ’’ کا لقب دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کا استعمال کلیسیاکا پیدائشی حق اور ذمہ داری ہے۔آخر میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کلیسیا کے لیے ذرائع ابلاغ کے استعمال کا مقصد انجیل کی بشارت، مشن، ایمان کا پرچار اور مسیحی اقدار کو جدید میڈیا کے ذریعے مؤثر انداز میں دنیا تک پہنچاناہے، اور آج کے دور میں مصنوعی ذہانت (AI) نے دنیا کے بنیادی ستونوں یعنی مذہب، ثقافت، سیاست اور معیشت سمیت تمام شعبوں کو گہرے طور پر متاثر کیا ہے۔ جس پر غور کرنے اور درست استعمال کے لئے شعوری بیداری کی ضرورت ہے۔ 
دوسرے روز کے دوسرے سیشن میں ریورنڈ فادر قیصر فیروز نے کہا کہ جس طرح مسیح یسوع نے شا گردوں کو چنا جب وہ جال بْن رہا تھے۔ اسی طرح خدا آج ہمیں بھی بْلاتا ہے تاکہ ہم بھی ایک مضبوط نیٹ ورک قائم کریں۔ یہ نیٹ ورک دراصل تعلقات اور رابطوں کا ایک ایسا نظام ہے جس میں ہر انسان کی کہانی ایک گرہ کی حیثیت رکھتی ہے، اور انہی کہانیوں سے مل کر ایک مضبوط عالمگیر جال تشکیل پاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے ہر فرد ایک‘‘ڈیجیٹل مشنری ’’ بن سکتا ہے، لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب اتحاد، ہم آہنگی اور باہمی تعاون موجود ہو، کیونکہ اتحاد کے بغیر کوئی بھی نیٹ ورک قائم نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے شرکاء کو تلقین کی کہ وہ خدا کی دی گئی صلاحیتوں پر فخر کریں اور انہیں مثبت، تعمیری اور بامقصد انداز میں استعمال کریں۔اپنے سیشن کے اختتام پر ریورنڈ فادر قیصر فیروز نے کہا کہ مسیحی اْمید دراصل مسیح خداوند خودہے، جو انسان کو کبھی بھی نااْمیدی میں مبتلا نہیں ہونے دیتا بلکہ ہمیشہ اْمید، روشنی اور حوصلہ عطا کرتا ہے۔ انہوں نے شرکاء کو تاکید کی کہ اس اْمید کے پیغام کو سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں تک پہنچائیں تاکہ دنیا دیکھ سکے کہ مسیحیت، اْمید، محبت اور امن کا پیغام ہے۔
 

 سیگنس پاکستان اور قومی کمیشن برائے سماجی ابلاغیات کے زیر اہتمام ایوبیہ میں پانچ روزہ میڈیا ٹر یننگ کا انعقاد
سیگنس پاکستان اور قومی کمیشن برائے سماجی ابلاغیات کے زیر اہتمام ایوبیہ میں پانچ روزہ میڈیا ٹر یننگ کا انعقاد


ورکشاپ کے تیسرے روز مسز ارم عمران (کوارڈینیٹر ،ریڈیو ویریتاس ایشیاء اْردو سروس) نے آواز کے اُتارچڑھاؤ Variety Vocal) کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے آواز کے مؤثر استعمال کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ آواز کا اتار چڑھاؤ، رفتار، لہجہ، وقفے اور تلفظ کسی بھی پیغام کو مؤثر انداز میں سامعین تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے شرکاء کو تلاوتِ کلامِ پاک کے آداب سے بھی آگاہ کیا اور وضاحت کی کہ کلامِ مقدس کی تلاوت ادب، احترام، واضح تلفظ اور مناسب اندازِ بیان کے ساتھ کی جانی چاہیے تاکہ کلامِ خدا مؤثر طریقے سے مومنین تک پہنچ سکے۔ سیشن کے دوران مسز ارم عمران نے مختلف آواز کی مختلف مشقیں بھی کروائیں جن کے ذریعے شرکاء نے اپنی آواز کے معیار، سانس کے درست استعمال، تلفظ اور اظہارِ خیال کی مہارتوں کو بہتر بنانے کی عملی مشق کی۔
ورکشاپ کے تیسرے روز کے دوسرے سیشن میں مس ثناء جارج(آن لائن پروڈیوسر ،ریڈیو ویریتاس ایشیاء اْردو سروس) نے نیوز رائٹنگ، اسٹوری ٹیلنگ اور وائس اوور کے موضوعات پر ایک معلوماتی اور عملی سیشنمیں رہنمائی کی ۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ مؤثر نیوز رائٹنگ کی بنیاد درست، غیر جانبدار اور حقائق پر مبنی معلومات ہوتی ہے، جبکہ ایک مکمل خبر میں چھ ‘‘ک’’ (کون، کیا، کب، کہاں، کیوں اور کیسے) کے سوالات کے جوابات شامل ہونا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہانی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وضاحت کی کہ ایک مضبوط اور دلچسپ کہانی سامعین کی توجہ برقرار رکھنے اور پیغام کو مؤثر انداز میں پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وائس اوور کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ایک مؤثر وائس اوور کسی بھی میڈیا پروڈکشن کے معیار کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ سیشن کے دوران عملی مثالوں اور مشقوں کے ذریعے شرکاء کو ان مہارتوں سے روشناس کرایا گیا، جس سے ان کی ابلاغی اور صحافتی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ورکشاپ کے چوتھے روز محترمہ ثناء زاہد( سوشل میڈیا مینیجر،پاک سیون ٹی۔وی ) نے شرکاء کو سیٹ کام(Sitcom) اور ٹاک شو (Talk Show)کے بارے میں تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ انہوں نے بتایا کہ سیٹ کام دراصل مزاح پر مبنی ڈرامائی پروگرام ہوتا ہے جس میں روزمرہ زندگی کے واقعات اور کرداروں کے ذریعے ناظرین کو تفریح فراہم کی جاتی ہے۔ ایک کامیاب سیٹ کام کے لیے مضبوط کہانی، دلچسپ کردار، مؤثر مکالمے اور مناسب مزاح نہایت اہم ہوتے ہیں۔انہوں نے ٹاک شو کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ میڈیا کا ایک مؤثر ذریعہ ہے جس کے ذریعے مختلف سماجی، تعلیمی، ثقافتی اور عوامی مسائل پر گفتگو کی جاتی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایک اچھے ٹاک شو کی کامیابی میزبان کی تیاری، موضوع کے انتخاب، سوالات کی نوعیت اور مہمانوں کے ساتھ مؤثر مکالمے پر منحصر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکرپٹ لکھنے کے بعد اْس کا دوبارہ جائزہ لیں تاکہ یہ جان سکیں کہ مقصد پورا ہو رہا ہے یا نہیں۔ سیشن کے دوران انہوں نے عملی مثالوں کے ذریعے سیٹ کام اور ٹاک شو کے درمیان فرق بھی واضح کیا اور شرکاء کو اس بات کی ترغیب دی کہ وہ میڈیا کے ان دونوں فارمیٹس کو سمجھ کر اپنی تخلیقی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کریں۔ 
 اسی روزمسٹر آئزک عامر(کانٹینٹ کیری ایٹر اور فلم میکر ،پاک سیون ٹی۔وی) نے فلم سازی کے بنیادی اصولوں اور تکنیکوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ ایک کامیاب فلم یا ویڈیو کی تیاری کے لیے اچھی کہانی کے ساتھ ساتھ اس کی پیشکش، کیمرہ ورک اور تخلیقی انداز بھی نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے مختلف کیمرہ اینگلز کے بارے میں آگاہی دیتے ہوئے بتایا کہ ہر اینگل ایک خاص تاثر پیدا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ہائی اینگل کردار کو کمزور یا بے بس ظاہر کر سکتا ہے، جبکہ لو اینگل طاقت، اعتماد اور اہمیت کا احساس دلاتا ہے۔ اسی طرح کلوز اپ شاٹ جذبات کو نمایاں کرنے اور وائیڈ شاٹ ماحول اور منظر کو دکھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔انہوں نے ویڈیو ہُک کی اہمیت کے بارے میں بتایا کہ کسی بھی ویڈیو، فلم یا پروگرام کے ابتدائی چند سیکنڈ ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ ایک مضبوط اور دلچسپ ہُک ناظرین کو آخر تک مواد دیکھنے پر آمادہ کرتا ہے۔ انہوں نے شاٹس کے درست انتخاب اوراسکرپٹ کی تیاری کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا۔

 سیگنس پاکستان اور قومی کمیشن برائے سماجی ابلاغیات کے زیر اہتمام ایوبیہ میں پانچ روزہ میڈیا ٹر یننگ کا انعقاد
سیگنس پاکستان اور قومی کمیشن برائے سماجی ابلاغیات کے زیر اہتمام ایوبیہ میں پانچ روزہ میڈیا ٹر یننگ کا انعقاد


میڈیا ٹریننگ کے دوران ریورنڈ فادر قیصر فیروز نے شرکاء کو عملی تجربہ فراہم کرنے کے لیے ایک خصوصی گروپ سرگرمی دی۔ اس مقصد کے لیے تمام شرکاء کو چار مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا تاکہ ہر گروپ ایک مختصر اور مؤثر ویڈیو تیار کر سکے۔ ہر گروپ کو ایک الگ موضوع دیا گیا، جن میں (اْمید کا فروغ)، (انسانیت کے لیے مصنوعی ذہانت کے خطرات)، (انسانی آوازوں اور چہروں کا تحفظ) اور(انسانی وقار کا تحفظ)شامل تھے۔ شرکاء نے تربیت کے دوران حاصل کی گئی مہارتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ان موضوعات پر نہایت معیاری اور تخلیقی ویڈیوز تیار کیں۔ ہر گروپ نے اپنے موضوع کو مؤثر انداز میں پیش کیا اور ایک بامقصد و فکر انگیز پیغام پہنچانے میں کامیاب رہا۔ ان ویڈیوز نے نہ صرف شرکاء کی تخلیقی صلاحیتوں اور ٹیم ورک کا مظاہرہ کیا بلکہ سماجی شعور اور ذمہ دارانہ ابلاغ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
ورکشاپ کے آخری روز ریورنڈ فادر قیصر فیروز نے آرٹ آف اسٹوری ٹیلنگ کے بنیادی رہنما اصولوں پر گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک اچھی کہانی ہمیشہ اپنے پیچھے گہرے اثرات اور یادیں چھوڑ جاتی ہے، جو سامعین کے ذہن اور دل پر دیرپا اثر ڈالتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہترین ویڈیو یا کہانی وہ ہوتی ہے جو دیکھنے اور سننے والے کے حواسِ خمسہ کو چْھولے اور انہیں کسی نہ کسی سطح پر متاثر کرے۔انہوں نے کہا کہ پوپ لیو کہتے ہیں کہ کہ ہمیں ‘‘امید کی کہانیاں’’تلاش کرنی چاہئیں اور انہیں دنیا بھر میں پھیلانا چاہیے، کیونکہ انسان پانی اور روٹی کے بغیر کچھ وقت تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن اْمید کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم سب کی یہ اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے کہ ہم معاشرے میں امید، حوصلہ اور مثبت سوچ کو فروغ دیں اور دوسروں کے ساتھ ْامید بانٹیں۔
اِسی روز تمام گروپس کی تیار کردہ ویڈیوز پیش کی گئیں۔ ریورنڈ فادر قیصر فیروز نے ان ویڈیوز کا تنقیدی جائزہ لیا اور مزید رہنمائی کی ۔ انہوں نے ہر ویڈیو کے مثبت پہلوؤں کو سراہتے ہوئے اس کے مواد، پیغام، فلم سازی کی تکنیک، کیمرہ ورک، ایڈیٹنگ،اداکاری اور مجموعی پیشکش کے حوالے سے مفید آراء اور تجاویز دیں۔ فادر موصوف کے تبصروں نے شرکاء کو اپنی صلاحیتوں کا بہتر انداز میں جائزہ لینے اور مستقبل میں مزید معیاری میڈیا مواد تیار کرنے میں رہنمائی فراہم کی۔
اس موقع پرتمام ڈایوسیز ن ڈائریکٹرز نے بھی اپنی اپنی رپورٹس پیش کیں، جن میں انہوں نے اپنی ڈایوسیس میں میڈیا کے شعبے میں ہونے والی سرگرمیوں، کامیابیوں، چیلنجز اور مستقبل کے منصوبوں سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ ان رپورٹس نے نہ صرف معلومات کے تبادلے کا موقع فراہم کیا بلکہ مختلف ڈایوسیز کے درمیان تعاون، ہم آہنگی اور مشترکہ سیکھنے کے عمل کو بھی فروغ دیا۔
اس میڈیا ورکشاپ میں آنے والے شرکاء نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اسی طرح سے کیا:
۱۔ریورنڈ فادر افضل گلفام نے کہا کہ اس ورکشاپ نے ہمیں یہ شعور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے معاشرے میں امن، ہم آہنگی اور اْمید کی کہانیاں پھیلائیں اور ایک مثبت اور باہمی تعاون پر مبنی نیٹ ورک کا حصہ بنیں۔میں نے میڈیا کے حوالے سے جو کچھ سیکھا ہے یہ گڈ نیوز ٹی وی کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا۔ 
۲۔ریورنڈ فادر صابر لیاقت نے، اسلام آباد۔راولپنڈی ڈایوسیس کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ اس تربیتی ورکشاپ سے یہ جذبہ ساتھ لے کر جا رہا ہوں کہ میڈیا کے ذریعے امن اور امید کا پیغام لو گوں کو زندگی دے سکتا ہے ،کاہن ہوتے ہوئے یہ رسالت عاجزی ، ذمہ داری کے ساتھ اور مؤثر ابلاغ کار بن کر ایسا نیٹ ورک تشکیل دینا ہے جو امن، محبت اور مثبت کہانیوں کو عام کرے۔ 
۳۔مس مسکان ، شرکاء میں سے ایک ،نے کہا کہ ہم نے سیکھا کہ کس طرح سوشل میڈیا کو انجیلی بشارت کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ایوبیہ کے قدرتی مناظر کو قریب سے دیکھا ہے۔میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ قدرتی اور اچھا موحول ہمارے لئے ذہنی اور جسمانی شفا کا باعث ہے۔ موحولیات کے ساتھ گہرا تعلق باطنی سکون اور تازگی کا وسیلہ ہے ۔ 
 شرکاء نے اپنے خیالات اور تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے اس میڈیا ٹریننگ کو ایک مفید، معلوماتی اور حوصلہ افزا تجربہ قرار دیا۔ انہوں نے تربیتی سیشنز، عملی مشقوں اور گروپ سرگرمیوں کو بے حد سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ حاصل شدہ علم اور مہارتوں کواپنی ڈایوسیس کے لیے مؤثر انداز سے استعمال کریں گے۔ انہوں نے کامیاب تربیتی ورکشاپ کے انعقاد پر ریورنڈ فادر قیصر فیروز اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کی نیز تربیت کاروں اور تمام معاون عملے کا شکریہ ادا کیا اور خواہش ظاہر کی کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے۔
ریورنڈ فادر قیصر فیروز نے کلماتِ تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی عملی اور تخلیقی سرگرمیاں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں مثبت اور تعمیری سمت میں آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے شرکاء کی دلچسپی، محنت اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ شرکاء اپنی حاصل کردہ مہارتوں کو ذمہ دارانہ ابلاغ، معاشرتی خدمت اور مثبت پیغام کی ترسیل کے لیے استعمال کریں گے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ میڈیا کے ذریعے اْمید کی کہانیوں کو پھیلانا ایک عظیم خدمت ہے، اس لیے سیکھتے رہیں اور اپنے علم کو دوسروں کے فائدے کے لیے استعمال کریں۔تربیتی ورکشاپ کے آخری دن شرکا کو ایوبیہ کے پہاڑوں، وادیوں ، دریا اور خوبصورت‘‘ جنت آبشار’’ کے قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا۔