بچے کی تعلیمی تربیت

بچے کی اخلا قی اور تعلیمی تعمیر گھر کی تربیت سے ہوتی ہے۔اکثر والدین اپنے بچوں کی کامیاب زندگی کے لیے اچھی تعلیم کو اہمیت دیتے ہیں۔کچھ والدین سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے ڈھیر ساری دولت جمع کرلی تو پھر ان کی اولاد کا مستقبل محفوظ ہو جائے گالیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔وراثت میں ملنے والی ڈھیر ساری دولت عموماً اولاد کو بگاڑنے کا سبب زیادہ بنتی ہے۔تاہم جو والدین بچوں کو اچھے اخلاق اور اعلیٰ تعلیم کی مضبوط بنیادیں فراہم کر دیتے ہیں۔ان کے بچے نہ صرف والدین کانام روشن کرتے ہیں بلکہ سکھ چین کی زندگی بسر کرتے ہیں۔والدین اچھی تربیت کے ذریعے بچوں میں کتابوں سے محبت اور تعلیم سے لگن پیدا کر سکتے ہیں۔یاد رکھیں کہ بچے کی تعلیم میں سب سے پہلا قدم اس کے اور کتابوں کے درمیان رشتہ پیدا کرنا ہوتاہے۔اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ بچے کو اسکول میں داخل کروانے کے بعد اور اس کے لیے ایک ٹیوٹر کا انتظام کرکے ان کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے،لیکن ایسا نہیں ہے۔
بچہ جب اس عمر کو پہنچ جائے کہ وہ چیزوں کو پہچاننے لگے،لیکن ابھی اس کی عمر اسکول جانے کی نہ ہوتو اس دور میں والدین بچے کے سامنے رنگین اور بڑی بڑی تصاویر والی کتابیں رکھیں۔بچہ تجسس کے باعث ان کی ورق گردانی کرے گا اور تصویروں کو دلچسپی سے دیکھے گا۔اس طرح بچے اور کتاب کے مابین وہ تعلق قائم ہونا شروع ہو گا جو اس کے مستقبل کو مضبوط بنیادیں فراہم کرے گا۔بچہ جب کچھ بڑا ہو جائے تو اسے کتاب میں لکھی ہوئی کہانیاں پڑھ کر سنائیں۔اس دوران بچے کے ساتھ بچہ بننے کے اصول پر کام کریں۔جب دیکھیں کہ بچہ کتاب میں تصاویر کے ساتھ لکھی ہوئی کہانیوں کو سننے میں دلچسپی لینے لگا ہے،تب اسے سمجھائیں کہ وہ کتاب میں لکھی باتوں کو از خود پڑھنے کی کوشش کرے۔یہ رویہ بچے اور کتاب کے درمیان ایسا رشتہ قائم کردے گا کہ وہ نہ صرف تعلیم کے حصول میں دلچسپی لے گا بلکہ نصابی اور غیر نصابی،دونوں کتابوں کو شوق سے پڑھے گا۔بچے کے اسکول میں داخلے کے بعد والدین یہ نہ سمجھیں کہ بس اب ہماری ذمہ داری ختم ہوگئی۔ دراصل اب ہی تو والدین کی ذمہ داریوں کا دوسرا مرحلہ شروع ہو تا ہے۔ابتدائی جماعتوں میں بچے کو والدین اور اساتذہ کی طرف سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب بچے کورے  کاغذ کی مانند ہوتا ہے۔اس پر جو بھی درج کیا جائے وہ اْس کے دماغی صفحات پر ذخیرہ ہونا شروع ہو جا تا ہے۔اس دوران بچے کے ذخیرہ الفاظ میں اضافے اور ان الفاظ کی درست تلفظ کے ساتھ ادائی کے لیے بچے پر انفردی توجہ دینا ضروری ہے۔لفظوں کے ہجے کروا کرا نہیں یا دداشت میں محفوظ رکھنے کے لیے بچے کو اپنی نگرانی میں پریکٹس کروائیں۔اسے چند الفاظ بتائیں اور کہیں کہ اگر وہ ان کے درست ہجے کرلے گا تو اسے شاباشی کے ساتھ ساتھ انعام بھی ملے گا۔دوسرے دن بچے سے پوچھیں کہ کل ہم نے کن کن لفظوں کے ہجے کیے تھے۔یقینی بات ہے کہ جن بچوں کے والدین اپنے اولاد کو وقت دیتے ہیں،اْن کی تعلیمی سرگرمیوں میں اْن کی راہنمائی کرتے ہیں ایسے بچے ہی زندگی میں ترقی کرتے ہیں اور ملک و قوم کا نام روشن کرتے ہیں۔جبکہ ایسے بچے جن کے والدین صرف پیسے کمانے میں وقت لگاتے ہیں اور بچوں کو نظرانداز کرتے ہیں وہ اپنے مستقبل کو بنانے کی بجائے بگاڑ لیتے ہیں۔پھر ایسے ہی بچے قوم کی ترقی میں روکاوٹ بنتے ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ اپنا تھوڑا سا وقت دے کر قوم کے اس قیمتی سْرمائے کو محفوظ کر لیا جائے۔

 

Add new comment

5 + 1 =