مستقبل امن کے علمبردار مردوں اور خواتین کا ہے۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم

مورخہ 13اپریل 2026کوپاپائے اعظم لیو چہاردہم نے اپنے الجزائر کے پہلے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ خدا تمام قوموں کے لیے امن چاہتا ہے ایسا امن جوانصاف اور انسانی وقار کا اظہارہواور الجزائر کے عوام کو ترغیب دی کہ وہ اپنی تہذیبی وراثت میں خدا کو مرکزی مقام دیتے رہیں۔اپنی پہلی عوامی تقریب میں پوپ لیو نے الجزائر میں واقع شہداء کی یادگار Maqam Echahid کا دورہ کیا، جو 1954 سے 1962 تک جاری رہنے والی الجزائر کی جنگِ آزادی کے شہداء کی یاد میں قائم کی گئی ہے۔
اس یادگار پر پھول چڑھانے کے بعد پوپ لیونے اپنے ابتدائی کلمات میں الجزائر کے دورے کا موقع ملنے پر شکرگزاری کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ پہلے بھی مقدس آگسٹین کے روحانی فرزند کے طور پریہاں آ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ سب کے درمیان سب سے بڑھ کر ایک بھائی کے طور پر موجود ہیں اور اس ملاقات کے ذریعے محبت اور قربت کے رشتوں کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔یادگار کے سامنے موجود تقریباً دو ہزار افراد کو دیکھتے ہوئے پوپ لیو نے الجزائر کے مومنین کو”مضبوط اور نوجوان قوم“قرار دیا اور کہا کہ ان کی زندگی میں دوستی، اعتماد اور یکجہتی محض الفاظ نہیں بلکہ زندہ اقدار ہیں جو ان کی اجتماعی زندگی کو طاقت اور حرارت دیتی ہیں۔
ملک کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ الجزائر کی تاریخ روایات سے بھرپور ہے لیکن اس میں درد اور تشدد کے ادوار بھی شامل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی اعلیٰ ظرفی اور حوصلہ کی بدولت آپ نے ان آزمائشوں پر کامیابی سے قابو پایا ہے۔انہوں نے الجزائر کی تاریخ اور آزادی کے لیے قربانی دینے والوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ خدا ہر قوم کے لیے امن چاہتا ہے ایسا امن جو صرف تنازع کی عدم موجودگی نہ ہو بلکہ انصاف اور وقار کا مظہر ہو۔
انہوں نے زور دیا کہ ایسا امن صرف معافی کے ذریعے حاصل ہو سکتا ہے، جو انسان کومصالحت کے جذبے کے ساتھ مستقبل کا سامنا کرنے کے قابل بناتی ہے۔اْن کے مطابق حقیقی آزادی اس وقت حاصل ہوگی جب ہمارے دلوں میں امن قائم ہو جائے گا۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ معاف کرنا آسان نہیں، لیکن دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے تنازعات کے تناظر میں کہا کہ ہم نسل در نسل نفرت میں اضافہ نہیں کر سکتے۔پوپ لیو نے تاکید کی کہ مستقبل امن کے علمبردار مردوں اور عورتوں کا ہے۔ آخرکار انصاف ہمیشہ ناانصافی پر غالب آئے گا اور تشدد آخری فیصلہ نہیں ہوگا۔
ایک ایسے ملک میں جہاں مختلف ثقافتیں، مذاہب اور طرزِ زندگی موجود ہیں، پوپ  لیونے باہمی احترام کی اہمیت پر زور دیا اور اْمید ظاہر کی کہ الجزائر عالمی سطح پر استحکام اور مکالمہ کو فروغ دیتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ الجزائر کی اپنی تاریخ، ثقافت اور ایمان ہے، اورخدا پر ایمان آپ کی وراثت میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جو ہر فرد کی زندگی کو روشن کرتا ہے، خاندانوں کو سہارا دیتا ہے اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے۔
پوپ لیو نے کہا کہ خدا سے محبت رکھنے والا معاشرہ حقیقی معنوں میں امیر ہوتا ہے اور یہی الجزائر کے مومنین کا قیمتی سرمایہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری دنیا کو ایسے ایمان والے مرد و عورتوں کی ضرورت ہے جو انصاف اور اتحاد کے لیے پیاس رکھتے ہوں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسانیت کو بھائی چارے اور مفاہمت کی ضرورت ہے، اور یہ ہمارا”مقدس فرض“ہے کہ ہم یقین کے ساتھ اعلان کریں کہ ہم سب ایک خدا کے فرزند ہونے کے ناطے آپس میں بھائی بہن ہیں۔
پوپ لیو نے  یسوع مسیح کے اس اہم سوال کا بھی حوالہ دیا:
اگر انسان ساری دنیا حاصل کر لے مگر اپنی جان کھو دے تو اْسے کیا فائدہ؟(متی 16:26)
انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو اس یادگار پر خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے، انہوں نے اس سوال کا جواب اپنی قربانی سے دیاانہوں نے اپنی قوم کی محبت میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔آخر میں انہوں نے کہا کہ ان کی مثال الجزائر کے عوام کو مضبوط بنائے اور یاد دلائے کہ حقیقی آزادی وراثت میں نہیں ملتی بلکہ اسے ہر روز نئے سرے سے اختیار کرنا پڑتا ہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر پوپ لیو نے مبارک بادیوں کے الفاظ دہرائے:
مبارک ہیں وہ جو روح میں غریب ہیں، کیونکہ آسمان کی بادشاہی انہی کی ہے۔ مبارک ہیں وہ جو غمگین ہیں، کیونکہ وہ تسلی پائیں گے۔ مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں، کیونکہ وہ زمین کے وارث ہوں گے۔ مبارک ہیں وہ جو راستبازی کے بھوکے اور پیاسے ہیں، کیونکہ وہ سیر ہوں گے۔ مبارک ہیں وہ جو رحم دل ہیں، کیونکہ ان پر رحم کیا جائے گا۔ مبارک ہیں وہ جن کے دل پاک ہیں، کیونکہ وہ خداکو دیکھیں گے۔ مبارک ہیں وہ جو صلح کراتے ہیں، کیونکہ وہ خدا کے بیٹے کہلائیں گے۔ مبارک ہیں وہ جو راستبازی کے سبب ستائے جاتے ہیں، کیونکہ آسمان کی بادشاہی انہی کی ہے۔ (متی 5:3-10)