دْعا اور خدمت سے بھرپور زندگی ہر عمر میں بامعنی رہتی ہے۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 20فروری 2026کو پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے روم کے ڈایوسیزن کاہنوں کے ساتھ ایک نشست میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے روحانی رہنمائی، کلیسیائی خدمت، کاہنانہ ذمہ داریوں اور انٹرنیٹ کے استعمال سمیت مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی۔
اس نشست کا تعارف روم کے وِکر جنرل کارڈینل بالدو رینا نے کروایا، جنہوں نے چار مختلف عمر کے گروہوں کی نمائندگی کرنے والے کاہنوں کو سوالات کے لیے پیش کیا۔ان میں ایک نوجوان کاہن بھی شامل تھا جسے گزشتہ مئی میں پوپ لیو نے خود کاہنانہ خدمت کے لیے مقرر کیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آج کی دنیا میں نوجوان کاہن اپنے ساتھیوں کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں۔
پوپ لیو نے سب سے پہلے انہیں تاکید کی کہ وہ اُن خاندانوں کی حقیقت کو سمجھیں جہاں سے آج کے بہت سے نوجوان آتے ہیں، کیونکہ اکثر خاندان سنگین بحرانوں سے گزر چکے ہیں، جہاں والدین غیر حاضر ہوتے ہیں یا طلاق اور دوبارہ شادی جیسے حالات موجود ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے نوجوان تنہائی اور رد کیے جانے کا تجربہ بھی کر چکے ہیں۔اس لیے کاہنوں کو چاہیے کہ وہ ان کی زندگی کی حقیقت کو سمجھیں۔اْن کے قریب رہیں، اْن کا ساتھ دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے کاہن کی گواہی نہایت اہم ہے، کیونکہ وہ ایک بامقصد زندگی کی مثال پیش کرتی ہے۔پوپ لیو نے کاہنوں کو یہ بھی نصیحت کی کہ وہ صرف اُن نوجوانوں پر اکتفا نہ کریں جو پہلے ہی گرجا گھر آتے ہیں، بلکہ نئے طریقوں اور سرگرمیوں کے ذریعے مزید نوجوانوں تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ہمیں منصوبہ بندی کرنی ہوگی، نئے اقدامات کرنے ہوں گے، خود آگے بڑھنا ہوگا، نوجوانوں کو دعوت دینی ہوگی، اْن کے ساتھ گلیوں میں جانا ہوگا نیز کھیل، فن اور ثقافتی سرگرمیوں جیسے مختلف مواقع فراہم کرنے ہوں گے۔
پوپ لیو کے مطابق دوسروں کو جاننے کی کنجی دوستی کا انسانی تجربہ ہے، کیونکہ آج بہت سے نوجوان شدید تنہائی اور الگ تھلگ زندگی گزار رہے ہیں۔
پوپ لیو چہاردہم نے روم کے کاہنوں سے گفتگو میں کہا کہ وبا کے بعد اور اسمارٹ فون کے بڑھتے استعمال کی وجہ سے نوجوانوں میں تنہائی بہت بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان حقیقی انسانی تعلقات کی خوبصورتی سے دْور ہو رہے ہیں۔ اس لیے کلیسیا کو انہیں دوستی، اشتراک اور رفاقت کا نیا تجربہ دینا چاہیے اور اسی کے ذریعے انہیں یسوع سے متعارف کروانا چاہیے۔ اس خدمت کے لیے وقت اور قربانی ضروری ہے، خاص طور پر اُن نوجوانوں کے لیے جو منشیات، جرائم اور تشدد میں پھنسے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کاہنوں کو نصیحت کی کہ وہ جس کمیونٹی میں خدمت کر رہے ہیں اْسے گہرائی سے جانیں اور لوگوں کی حقیقی زندگی کو سمجھیں۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے وعظ تیار کرنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایمان کو صرف انسان ہی بانٹ سکتا ہے، مشین نہیں۔
انہوں نے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دھوکے سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ اصل خدمت دْعا کی زندگی اور خدا کے ساتھ وقت گزارنے سے آتی ہے، نہ کہ صرف لائکس اور فالوورز سے۔
پوپ لیو نے کاہنوں کو آپس میں دوستی اور بھائی چارہ بڑھانے کی تاکید کی اورکلیریکل حسدسے بچنے کو کہا جو تعلقات کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے مسلسل مطالعہ، مل کر دْعا اور ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ تنہائی سے بچا جا سکے۔
اپنے پیغام کے اختتام میں انہوں نے بڑھاپے، بیماری اور زندگی کی قدر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مسیحی گواہی یہ ہونی چاہیے کہ زندگی ہر حال میں قیمتی ہے۔ کاہنوں کو بیمار اور بزرگ افراد کی ملاقات، پاک ماس کی ادائیگی اور بیماروں کو مسح کرنے کی خدمت جاری رکھنی چاہیے، کیونکہ دْعا اور خدمت سے بھرپور زندگی ہر عمر میں بامعنی رہتی ہے۔