انسان کو زندگی کا انتخاب کرنا ہوگا اور مایوسی، سمجھوتے یا ضروری فیصلوں کو دیر سے کرنے کے رویّے سے بچنا ہوگا۔پوپ لیو چہاردہم
مورخہ 23مئی 2026کواٹلی کے شہر اسیرا کے اپنے پاسبانی دورے کے دوران، پوپ لیو چہاردہم نے”لینڈ آف فائرز“کے نام سے مشہور علاقے کے میئرز اور مقامی باشندوں سے خطاب کرتے ہوئے سب کو مل کر حالات بدلنے کی دعوت دی۔انہوں نے کہامیرے عزیز دوستو! آج یہاں میں میری موجودگی کا اصل مقصد یہی ہے کہ اُس وقار اور ذمہ داری کے احساس کی تصدیق اور حوصلہ افزائی کی جائے جو ہر ایماندار دل میں اُس وقت جاگتا ہے جب زندگی اْبھرتی ہے مگر فوراً ہی موت کے خطرے میں گھِر جاتی ہے۔
انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بار پھر اُس خطے میں آئے ہیں جس کی خوبصورتی کو کوئی ناانصافی مٹا نہیں سکتی۔پوپ لیونے کہا کہ زندگی میں ہم یہ سیکھتے ہیں کہ جتنی زیادہ کوئی خوبصورتی نازک ہوتی ہے، اُتنا ہی وہ ہماری توجہ اور ذمہ داری کی طالب ہوتی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ کچھ دیر پہلے انہوں نے کیتھیڈرل میں اُن خاندانوں سے ملاقات کی جن کے عزیز آلودگی کی وجہ سے متاثر ہوئے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں اس آلودگی نے اس علاقے کو”لینڈ آف فائرز“یعنی”آگ کی سرزمین“کے نام سے بدنام کر دیا۔ یہ نام یہاں موجود بھلائی اور اچھائی کے ساتھ انصاف نہیں کرتا، لیکن اس نے جرائم اور لاپرواہی کی سنگینی کو دنیا کے سامنے ضرور ظاہر کیا ہے۔
پوپ لیو نے بشپ صاحبان، کاہنانہ برادری، سسٹرز صاحبات اور مومنین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پوپ فرانسس کے ماحولیات سے متعلق دستاویز ”لودھاتوسی“کے پیغام کو قبول کیا۔انہوں نے کہاکہ مل کر چلنا، خود غرضی پر قابو پانا، مخالفت اور دھمکیوں کے باوجود سچائی کی گواہی دینا،یہی وہ کام ہے جو خداوند ہم سے چاہتا ہے اور جس کی رْوح ہمیں تحریک دیتی ہے۔پوپ لیونے زور دیا کہ اس سرزمین میں ”زندگی موجود ہے اور وہ موت کا مقابلہ کرتی ہے؛ انصاف موجود ہے اور وہ غالب آئے گا۔“تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ انسان کو زندگی کا انتخاب کرنا ہوگا اور مایوسی، سمجھوتے یا ضروری فیصلوں کو دیر سے کرنے کے رویّے سے بچنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ قسمت پر چھوڑ دینا، شکایتیں کرنا اور دوسروں پر الزام ڈالنا غیرقانونیت کی افزائش گاہ اور ضمیر کی ویرانی کی شروعات ہیں۔
پوپ لیو نے اپیل کی کہ ہم میں سے ہر شخص ذمہ داری قبول کرے، انصاف کو اختیار کرے اور زندگی کی خدمت کرے! مشترکہ بھلائی چند افراد کے کاروباری مفادات یا ذاتی فائدوں سے زیادہ اہم ہے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ اس سرزمین نے بہت بھاری قیمت ادا کی ہے، اپنے کئی بچوں کو دفن کیا ہے اور معصوم بچوں کی تکلیف دیکھی ہے۔ یہ درد ہمیں ایک نئے عہد کے گواہ بننے کی دعوت دیتا ہے۔ایسا دور جو انکار یا فراموشی کا نہیں بلکہ اخلاقی عمل اور زندہ یادداشت کا زمانہ ہو۔پوپ لیو نے کہا کہ آج دنیا کو ایسی ”ماحولیاتی ثقافت“کی ضرورت ہے جو صرف وقتی مسائل کے حل تک محدود نہ ہو بلکہ چیزوں کو دیکھنے کا ایک نیا انداز ہو۔انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بڑوں، شہریوں، رہنماؤں، مزدوروں، مالکان، ایمانداروں اور روحانی رہنماؤں سب کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔ہر شخص کے پاس دینے کے لیے کچھ نہ کچھ ہے، لیکن سب سے پہلے انسان کو یہ سیکھنا ہوگا کہ وصول کیسے کیا جاتا ہے۔پوپ لیو نے کہا کہ مسیحیوں کے لیے اصل راستہ یسوع کے ساتھ چلنا اور ہر عمر میں اُس کے زیادہ وفادار شاگرد بننا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ زمین اور انسانیت کی شفا کے لیے اقتصادی، سماجی اور مذہبی سوچ میں حقیقی تبدیلی ضروری ہے۔انہوں نے لوگوں، اداروں اور تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ تعلیم اور سماجی بھلائی کے میدان میں پہلے سے موجود اچھے کاموں کو مزید مضبوط کریں۔
پوپ لیونے اُن”پہلے گواہوں“کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے جرات کے ساتھ اس سرزمین کی برائیوں کو بے نقاب کیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ طاقت اور دولت کی خواہش نے زمین، پانی، ہوا اور انسانی تعلقات کو آلودہ کیا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فضول خرچی، ضیاع اور زہر آلودگی ایک ایسے ترقیاتی ماڈل سے پیدا ہوئے ہیں جس نے ہمیں مسحور تو کیا مگر ہمیں زیادہ بیمار اور غریب بنا دیا۔آخر میں پوپ لیو نے لوگوں کو دعوت دی کہ وہ تعلقات، مشترکہ بھلائی، اپنی سرزمین اور ایک دوسرے کے استقبال کو زیادہ اہمیت دیں۔ ہمیں رات کے نگہبانوں کی طرح بیدار رہنا ہے۔تاکہ ہم اُن لوگوں میں شامل ہو ں جو ایک نئی صبح کو دیکھیں گے۔