پاکستانی کیتھولک بشپ صاحبان نے پوپ لیو کو پاکستان آنے کی دعوت دے دی


مورخہ 15مئی 2026کو اپنے ایڈ لیمینا زیارت کے دوران پاکستان کے بشپ صاحبان نے ویٹی کن میں پاپائے اعظم لیو چہاردہم سے خصوصی ملاقات کی۔جس میں پاکستان کی کلیسیا کی چیلنجز اور مشکلات کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔ پاکستانی بشپ صاحبان نے پاپائے اعظم کو پاکستانی قالین کا تحفہ پیش کیا جسے پاپائے اعظم نے بہت پسند کیا اور پاکستانی بشپ صاحبان کا شکریہ ادا کیا۔
 پاکستان کیتھولک بشپس کانفرنس کے صدر اور حیدرآباد ڈایوسیس کے بشپ، عزت مآب بشپ سیمسن شکردین نے پاپائے اعظم کو پاکستان آنے کی دعوت دی،اس پر پاپائے اعظم نے آمادگی کا اظہار کیا اور بشپ صاحبان کو یقین دلایا کہ وہ مستقبل میں پاکستان کا ضرور دورہ کریں گے۔  
 بشپ سیمسن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ویٹی کن کی زیارت اور پاپائے اعظم سے ملاقات ہم تمام بشپ صاحبان کے لیے حوصلہ افزا ئی اورایمانی تجدید کا باعث ہے اور اس سے ہمیں مستقبل کے لیے نئی بصیرت اور نئی اْمیدملی ہے۔ملاقات کے دوران انہوں نے بتایا کہ بشپ صاحبان نے ویٹی کن کے مختلف ڈائے کیسٹریز میں اپنی رپورٹس پیش کیں اور کلیسیائی عہدِداران کی جانب سے مثبت ردِعمل موصول ہوا۔


پاکستان میں کلیسیا کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے عزت مآب بشپ سیمسن شکردین نے کہا کہ کلامِ خدا  کا پرچار کرنا مقامی کیتھولک کلیسیاکے اہم ترین چیلنجز میں سے ایک ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لوگ اب بھی کم تعلیم یافتہ ہیں مگر ایمان میں مضبوط ہیں۔ وہ غریب ضرور ہیں مگر بہت محنتی لوگ ہیں اور ہمیشہ سخت محنت کرتے ہیں۔تاہم ان تمام مشکلات کے باوجود عزت مآب بشپ سیمسن شکردین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی کلیسیا مستقبل کے بارے میں پُراْمید ہے۔
 انہوں نے کہا کہ ہمیں اْمید ہے کہ پاکستانی کلیسیا آہستہ آہستہ ضرور ترقی کرے گی۔اس کے لیے ہمیں نوجوانوں کی تعلیم و تربیت  کے لیے تعلیمی اداروں کو مضبوط کرنا ہو گا۔