ہاتھی: عظمت، شرافت اور رحم کی زندہ تصویر

جب ایک ہاتھی کو کسی علاقے سے بہت دور منتقل کیا جاتا ہے تو اسے ایک بڑے، ہوادار کنٹینر میں رکھا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کنٹینر کے اندر بعض اوقات ننھے چُوزے بھی رکھے جاتے ہیں۔ یہ چُوزے ہاتھی کی فطری نرمی اور محتاط طبیعت کے لیے ہوتے ہیں۔ ہاتھی اپنی دیوہیکل جسامت کے باوجود کسی جاندار کو نقصان پہنچانے سے گریز کرتا ہے۔
چُوزوں سے گھرا ہونے کے بعد ہاتھی پورے سفر کے دوران خاموش اور ساکت کھڑا رہتا ہے۔ یہ خاموشی اُس کے خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے کہ کہیں وہ کسی ننھے جاندار کو نقصان نہ پہنچا دے۔ یہ رویہ ہاتھی کے صبر، اْس کی طاقت اور شرافت کا پہلا امتحان ہوتا ہے۔
سائنسدانوں نے تحقیق کے بعد دریافت کیا کہ ہاتھی کے دماغ میں spindle cells نامی خصوصی اعصابی خلیے موجود ہیں جو ہمدردی، خود آگاہی اور سماجی تعلقات سے وابستہ ہوتے ہیں۔ یہ خلیے صرف چند مخلوقات جیسے انسان اور بندرمیں پائے جاتے ہیں۔ یوں ہاتھی صرف جسمانی طور پر نہیں بلکہ جذباتی طور پر بھی عظیم ہے۔ وہ محسوس کرتا، سمجھتا اور ہر موقع پر رحم کو جبلّت پر ترجیح دیتا ہے۔
صدیوں پہلے لیونارڈو دا ونچی نے ہاتھی کی انہی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ہاتھی عدل، عقل اور اعتدال کی علامت ہے۔ ہاتھی جب دریا میں اُترتا ہے تو شور نہیں مچاتا بلکہ باوقار انداز میں نہاتا ہے، گویا کوئی مقدّس عمل انجام دے رہا ہو۔ وہ بھٹکنے والوں کو راہ دکھاتا ہے، تنہا نہیں چلتا بلکہ ہمیشہ جھنڈ کے ساتھ رہتا ہے اور راستہ ایک رہنما کے پیچھے طے کرتا ہے۔
جب کسی دوسرے جھنڈ کا سامنا ہوتا ہے تو ہاتھی اپنی طاقت کا اظہار نہیں کرتا بلکہ اپنی سونڈ سے نرمی کے ساتھ بغیر نقصان پہنچائے راستہ دیتا ہے۔
سب سے گہرا اور متاثر کن عمل ہاتھی کا اْس وقت ہوتا ہے جب اسے اپنی موت قریب محسوس ہوتی ہے۔ وہ چپ چاپ اکیلا مرنے کے لیے اپنے جھنڈ سے الگ ہو جاتا ہے تاکہ کم عمر ہاتھی اس کے غم سے محفوظ رہیں۔ یہ اُس کی عزّتِ نفس، رحم دلی اور شرافت کو ظاہر کرتا ہے  اور یہ موجودہ انسانوں کے لیے ایک سبق ہے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail