خداوند غریبوں کی پناہ گاہ ہے۔ پوپ لیو چہاردہم

مورخہ 14جون 2026کوغریبوں کے دسویں عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں پوپ لیو چہاردہم نے خدا کو ”غریبوں کی پناہ گاہ“ قرار دیتے ہوئے مسیحیوں پر زور دیا ہے کہ وہ غریبوں کے مرکزی مقام کو دوبارہ دریافت کریں اور انصاف، یکجہتی اور انسانی وقار کے لیے اپنی وابستگی کا جائزہ لیں۔
ویٹیکن نیوز کے مطابق، پوپ لیو چہاردہم نے غریبوں کے دسویں عالمی دن کے لیے اپنا خصوصی پیغام جاری کیا ہے، جو 15 نومبر 2026 کو منایا جائے گا۔
اپنے پیغام میں انہوں نے زبور 14 کے الفاظ ”خداوند غریبوں کی پناہ گاہ ہے“ پر غور کرتے ہوئے کہا کہ یہ زبور ایک ایسے المناک دور میں لکھا گیا تھا جب یروشلیم کی ہیکل تباہ ہو چکی تھی اور لوگ خدا کی حضوری سے محرومی اور شدید مادی و اخلاقی مصیبت کا سامنا کر رہے تھے۔
مقدس انتھونی آف پادوا کی عید کے دن جاری کیے گئے اس پیغام میں پوپ لیو نے کہا کہ زبور 14 آج بھی ہر نسل سے مخاطب ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ زبور کی ابتدائی آیات اُن لوگوں کے درمیان واضح فرق بیان کرتی ہیں جو حکمت کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں اور اُن لوگوں کے درمیان جو اس طرح زندگی بسر کرتے ہیں جیسے اُن سے بڑھ کر کوئی حقیقت موجود ہی نہ ہو۔
پوپ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا:آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرتی ناانصافی وسیع پیمانے پر موجود ہے، جو متکبرانہ بدعنوانی سے جنم لیتی ہے، اور یہ جتنی قابلِ مذمت ہے اتنی ہی امتیازی بھی۔
انہوں نے کہا کہ اس ناانصافی کے اثرات سب سے پہلے غریبوں پر پڑتے ہیں، اور بہت سے معاشروں میں ان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔مزید کہا کہ خدا کی عدم موجودگی لوگوں کو باہمی احترام کے ساتھ ایک دوسرے کے برابر نہیں رکھتی بلکہ ایک کو دوسرے پر فوقیت دے کر غلبے اور جبر کے رشتے میں بدل دیتی ہے۔پوپ لیو نے خبردار کیا کہ غریبوں کی آواز اکثر نہایت باریک اور پیچیدہ طریقوں سے دبا دی جاتی ہے، جبکہ ڈیجیٹل دنیا بعض اوقات تعصبات کو مزید مضبوط اور بے حسی کو گہرا کر دیتی ہے۔
انہوں نے لکھا:غریبوں کے پاس خدا کو پکارنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا، اور وہ اپنے آپ کو اُس کے سپرد کر دیتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ خدا وفادار اور رحم سے بھرپور ہے۔
پوپ لیو نے کہا کہ غریب اکثر دوسروں کی نسبت زیادہ بہتر انداز میں جانتے ہیں کہ زندگی میں واقعی ضروری کیا ہے، کیونکہ وہ بنیادی ضروریات کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔اسی لیے وہ خدا کو اپنی پناہ گاہ کے طور پر پہچاننے اور اُس کے انصاف پر اْمید رکھنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔
موجودہ دور کی غربت پر غور کرتے ہوئے پوپ نے کہا:آج کے غریب وہ لوگ ہیں جو فراموش کر دیے گئے ہیں اور معاشرے کے کنارے پر دھکیل دیے گئے ہیں؛ جن سے صرف روٹی ہی نہیں بلکہ آواز اور شناخت بھی چھین لی گئی ہے۔انہوں نے دْعا کی کہ ایسے لوگ خاص طور پر مسیحیوں اور کلیسیا کے ذریعے مسیح سے ملاقات کریں، کیونکہ کلیسیا میں خود یسوع روٹی اور دوستی عطا کرتے ہیں، روشنی بخشتے ہیں، اْمید کا نیا اْفق کھولتے ہیں، ہر شخص کو نام لے کر پکارتے نیز اْس کا وقار بحال کرتے ہیں۔
پوپ لیو نے زور دیا کہ مسیحیوں کو صرف خدا میں پناہ لینے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ خود بھی غریبوں کے لیے پناہ گاہ بننا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مسیحی برادری اُن بے شمار لوگوں سے بے پروا نہیں رہ سکتی جو آج ہمارے دروازوں پر موجود ہیں لیکن ہماری بے حسی کے باعث نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔امیر شخص اور لعزر کی تمثیل پر مقدس آگسٹین کے تبصرے کا حوالہ دیتے ہوئے پوپ لیو نے تمام مومنین کو دعوت دی کہ وہ اپنی زندگی اور ترجیحات کا جائزہ لیں۔
انہوں نے اپنے رسولی خط Dilexi Te کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ”خدا غریبوں کو خاص ترجیح دیتا ہے“ اور کلیسیا کو ”مبارک بادیوں کی کلیسیا“ بننا چاہیے، ایسی کلیسیا جو چھوٹوں کے لیے جگہ بنائے اور غریبوں کے ساتھ غریب بن کر چلے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر پوپ نے لکھا:ہم گواہی دینا چاہتے ہیں کہ آج بھی حقیقی خوشی کا تجربہ ممکن ہے، اگر ہم خود کو غریبوں کی جگہ رکھیں، اُن کے بارے میں صرف بات کرنے کے بجائے اُن کی بات سنیں۔آخر میں انہوں نے اْمید ظاہر کی کہ غریبوں کا دسواں عالمی دن مسیحیوں کی مدد کرے گا تاکہ وہ اُن بے شمار بھائیوں اور بہنوں کے چہروں کو دوبارہ پہچان سکیں جو خدا میں پناہ ڈھونڈتے ہیں اور ہماری کلیسیائی برادریوں میں اپنے لیے گھر جیسا احساس چاہتے ہیں۔

Daily Program

Livesteam thumbnail