سچا دوست وہی جو مشکل وقت کاساتھی ہو!
ایک شخص کا ایک بیٹا تھا جو اکثر رات دیر سے گھر آتا تھا۔ جب بھی اْس سے اْس کے والد پوچھتے کہ وہ کہاں تھا، تو وہ فوراً جواب دیتا:ابا جی! میں اپنے دوست کے ساتھ تھا۔یہ جواب روز کا معمول بن چکا تھا اور باپ خاموشی سے سنتا رہتا تھا، لیکن اس کے دل میں ایک سوال ہمیشہ رہتا تھا کہ آخر یہ کیسا دوست ہے جس کے ساتھ اتنا وقت گزرتا ہے؟
ایک دن بیٹا معمول سے بھی زیادہ دیر سے گھر آیا۔ رات کافی گزر چکی تھی۔ اس بار باپ نے سنجیدگی سے کہا کہ بیٹا! آج ہم تمہارے اْس دوست سے ضرور ملیں گے۔
بیٹا گھبرا گیا اور فوراً بولا:ابا جی! اس وقت؟ رات کے دو بجے ہیں، کل چلتے ہیں۔
لیکن باپ نے سختی سے کہا نہیں، ابھی چلتے ہیں۔ میں تمہارے دوست کودیکھنا چاہتا ہوں۔بیٹے کے پاس کوئی چارہ نہ تھا، وہ اپنے والد کے ساتھ چل پڑا۔
جب وہ دونوں اْس دوست کے گھر پہنچے تو باپ نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ کافی دیر تک کوئی جواب نہ آیا۔ آخر کار بالکونی سے ایک بزرگ نے سر نکال کر پوچھا:
جی؟ اس وقت کون ہے اور کیوں آئے ہیں؟
بیٹے نے کہا:میں اپنے دوست سے ملنے آیا ہوں۔
بزرگ نے جواب دیا:وہ تو سو رہا ہے، صبح آ جانا۔بیٹے نے کہا:چاچا! براہِ کرم اْسے جگا دیں، مجھے ضروری کام ہے۔
لیکن پھر بھی جواب آیا:نہیں، اْسے آرام کرنے دو، صبح آنا۔
بیٹا حیران تھا، لیکن وہاں سے واپس لوٹ آیا۔
اب باپ نے کہا کہ چلو، اب ہم میرے ایک پرانے دوست کے پاس چلتے ہیں، جس کا نام خیر دین ہے۔
وہ دونوں ایک دور دراز گاؤں کی طرف روانہ ہوئے۔ فجر کے قریب وہ اْس کے گھر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا، مگر کوئی جواب نہ آیا۔
باپ نے آواز دی:میں اللہ دین ہوں!پھر بھی خاموشی رہی۔ کوئی دروازہ نہ کھلا۔بیٹے کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آ گئی، جیسے وہ کہنا چاہتا ہو کہ دیکھ لیا آپ کے دوست کو؟
لیکن اْسی لمحے لاٹھی کی آواز آئی، دروازے کی زنجیر کھلی اور ایک بوڑھا شخص باہر آیا۔ اْس نے فوراً اپنے دوست کو گلے لگا لیا اور کہا:میرے دوست! معذرت چاہتا ہوں، دیر اس لیے ہوئی کہ جب تم نے 27 سال بعد رات کے اس پہر دروازہ کھٹکھٹایا تو مجھے لگا تم کسی مشکل میں ہو۔ میں نے سوچا شاید تمہیں پیسے کی ضرورت ہو، اس لیے پیسے نکال لیے۔ پھر خیال آیا شاید تمہیں کسی مددگار کی ضرورت ہو، اس لیے ایک شخص بھی ساتھ لے آیا۔ اور پھر سوچا شاید تم کسی فیصلے کے لیے آئے ہو، اس لیے اپنی پگ بھی ساتھ لے آیا ہوں۔ اب بتاؤ تمہیں کیا ضرورت ہے؟
یہ سن کر بیٹا خاموش ہو گیا۔ اْس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
اْس کے باپ نے نرمی سے کہا:بیٹا! یہی اصل دوستی ہے۔ دوست وہ نہیں جو صرف وقت گزارنے کے لیے ہو، بلکہ وہ ہوتا ہے جو ایک آواز پر سب کچھ چھوڑ کر مدد کے لیے آ جائے۔حقیقی دوست وہی ہے جو مشکل وقت میں ساتھ دے، نہ کہ صرف وقت گزارنے یا تفریح کے لیے موجود ہو۔