خوشی کا اصل راز: ایک پروفیسر اور غباروں کی حیرت انگیز کہانی

ایک دن ایک پروفیسر نے اپنی کلاس کے تمام طلبہ کو ایک دلچسپ سرگرمی کے لیے بلایا۔ انہوں نے ہر طالب علم کو ایک ایک غبارہ دیا۔ طلبہ نے خوشی خوشی غبارے لیے، انہیں اچھی طرح پھلایا اور پھر اپنے اپنے نام اْس پر لکھ دیے۔
اس کے بعد پروفیسر نے سب طلبہ سے کہا کہ وہ اپنے غبارے کلاس روم یا ہال میں پھینک دیں۔ چند ہی لمحوں میں پورا ہال رنگ برنگے غباروں سے بھر گیا۔ ہر غبارہ دوسرے سے مل کر ایک اْلجھا ہوا سا منظر پیش کر رہا تھا۔
پھر پروفیسر نے کہا:اب آپ کے پاس پانچ منٹ ہیں۔ ہر شخص اپنا اپنا غبارہ تلاش کرے۔
جیسے ہی وقت شروع ہوا، طلبہ فوراً غباروں کے ہجوم میں کود پڑے۔ ہر کوئی جلدی جلدی اپنے نام والا غبارہ ڈھونڈنے لگا۔ کوئی ایک طرف جا رہا تھا، کوئی دوسری طرف۔ دھکم پیل اور جلد بازی میں سب نے کوشش کی، لیکن وقت ختم ہونے تک کوئی بھی اپنا غبارہ تلاش نہ کر سکا۔
کمرہ خاموش ہو گیااور طلبہ مایوسی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
پھر پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا:اب ایک اور طریقہ آزماتے ہیں۔ اس بار آپ جس غبارے کو بھی اْٹھائیں، اْس پر لکھے ہوئے نام والے شخص کو تلاش کریں اور اْسے اْس کا غبارہ دے دیں۔
طلبہ نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا، لیکن ہدایت کے مطابق کام شروع کر دیا۔ ہر شخص نے ایک غبارہ اْٹھایا، نام دیکھا اور اس کے مالک کو ڈھونڈ کر دے دیا۔
یہ عمل بہت سادہ تھا۔ نہ زیادہ بھاگ دوڑ، نہ اْلجھن۔ صرف تھوڑی سی توجہ اور تعاون کی ضرورت تھی۔اور حیرت انگیز طور پر صرف پانچ منٹ کے اندر ہر طالب علم کو اْس کا اپنا غبارہ مل گیا۔سب خوش تھے، اور کمرہ ایک مثبت توانائی سے بھر گیا۔
پروفیسر دوبارہ مسکرائے اور کہایہ غبارے دراصل خوشیوں کی علامت ہیں۔ جب ہم صرف اپنی خوشی کے پیچھے بھاگتے ہیں تو وہ ہمیں کہیں نہیں ملتی، کیونکہ ہر چیز اْلجھ جاتی ہے۔ لیکن جب ہم دوسروں کی خوشی کا خیال رکھتے ہیں، ان کی مدد کرتے ہیں، تو اسی عمل میں ہمیں اپنی خوشی بھی خود بخود مل جاتی ہے۔اصل خوشی خود غرضی میں نہیں بلکہ دوسروں کی خدمت اور تعاون میں چھپی ہوتی ہے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail