”محبت کی تہذیب“ کی تعمیر کے لیے جرات اور عاجزانہ قیادت ضروری ہے۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم

مورخہ 19جون 2026کوپوپ لیو چہاردہم نے ”بورگو لودھاتو سی ڈائیلاگز“ کے پہلے اجلاس میں شرکاء پر زور دیا ہے کہ وہ اخلاقی قیادت کے ایک نئے نمونے کو فروغ دیں اور بڑھتی ہوئی غیر انسانی سوچ کے مقابلے میں ”محبت کی تہذیب“ کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔
 یہ دو روزہ اجلاس کاسٹل گاندولفو میں واقع ”بورگو لودھاتو سی“ میں منعقد ہوا، جہاں انسانیت کو درپیش اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان موضوعات میں مصنوعی ذہانت اور انسانی وقار پر اس کے اثرات، صحت مند بڑھاپا، کھیلوں کے ذریعے سفارتی تعلقات اور ماحولیاتی پائیداری شامل تھے۔
یہ اقدام ”بورگو لودھاتو سی“ کے وسیع تر مشن کا حصہ ہے، جسے پوپ فرانسس کے 2015ء کے شہرہ آفاق خط ”لودھاتو سی“ سے متاثر ہو کر کاسٹل گاندولفو میں واقع پاپائی ولاز میں ”جامع ماحولیات“ کے مرکز کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ اس مکالمے میں مختلف ممالک اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین، قائدین اور عملی میدان سے وابستہ افراد نے شرکت کی تاکہ اس بات پر غور کیا جا سکے کہ کس طرح اخلاقی قیادت ماحولیاتی، سماجی اور معاشی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو نے اس اجتماع کو ”ایک ایسے عمل کا پہلا قدم“ قرار دیا جس کا مقصد ایک ایسی دنیا میں اخلاقی قیادت کو نئے سرے سے سمجھنا اور اس کی تجدید کرنا ہے جو بکھری ہوئی اور اپنی تاریخی جڑوں کو فراموش کرتی دکھائی دیتی ہے۔
اپنے خط ”Magnifica Humanitas“ میں پیش کیے گئے بعض موضوعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوپ لیونے موجودہ دور کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے مکالمہ کی اہمیت پر زور دیا۔
 انہوں نے کہا:
”ہم مشترکہ بھلائی اور ہر انسان کے لیے باوقار زندگی کے فروغ کے لیے نئے راستوں کی تلاش کر رہے ہیں۔ ہم اپنے زمانے کے تمام مردوں اور عورتوں کے ساتھ مکالمہ کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ ہم سب انسانیت کے مسائل، سوالات اور اْمیدوں میں شریک ہیں۔“
پوپ لیو نے بڑھتی ہوئی ”روحانی اور ثقافتی نابینائی“ کے خطرے سے خبردار کیا جو معاشروں کو ان کی تاریخی یادداشت سے جدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ”جھوٹی عملیت پسندی“ لوگوں کو اپنی تاریخ کی جڑوں سے کاٹنے پر اْکسا رہی ہے، گویا ماضی سے قطع تعلق کرکے ایک ”نئی تخلیق“ کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔انہوں نے یہ تنبیہ بھی کی کہ بعض اوقات اخلاقی اصولوں کی بات کرنے والے لوگ بھی ”تاریخی انکار“ کا شکار ہو جاتے ہیں اور یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ بیسویں صدی کے المناک واقعات دوبارہ رونما نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ مکالمہ کلیسیا کے ”سنڈی“ وژن سے متاثر ہیں، جو مختلف آوازوں کو ایک جگہ جمع کرکے مشترکہ مسائل پر اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے مختلف پس منظر اور مہارت رکھنے والے شرکاء کی اس عزم پر تعریف کی کہ وہ ماحولیاتی، سماجی اور معاشی تجدید کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔
ٹیکنالوجی اور معاشی ترقی سے پیدا ہونے والے اخلاقی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے پوپ لیو نے معاشرے کے دو متضاد تصورات کا موازنہ کیا۔
انہوں نے کہا:”اگر ہم’’برجِ بابل‘‘کی تعمیر کے فتنے میں مبتلا ہو جائیں، جو منافع کی پرستش کی علامت ہے اور کمزور افراد کی قیمت پر انسانیت کو نقصان پہنچاتی ہے، تو غیر انسانی رویوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے برعکس مسیحیوں کو ”نئے یروشلم“ یعنی محبت کی تہذیب کی تعمیر میں حصہ ڈالنے کے لیے بلایا گیا ہے۔“
پوپ لیو نے وضاحت کی کہ ایسی تہذیب کسی ایک عظیم یا غیر معمولی عمل سے وجود میں نہیں آتی، بلکہ روزمرہ زندگی میں وفاداری، محبت اور خدمت کے چھوٹے لیکن مستقل اعمال سے پروان چڑھتی ہے۔
انہوں نے کہا:”محبت کی تہذیب کسی ایک شاندار اقدام سے جنم نہیں لے گی، بلکہ اْن بے شمار چھوٹے اور ثابت قدم اعمال سے وجود میں آئے گی جو انسانیت کو غیر انسانی رجحانات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک مضبوط دیوارثابت ہوتے ہیں۔“پوپ لیو نے اس بات کو بھی اہم قرار دیا کہ یہ اجلاس ”بورگو لودھاتو سی“ کے قدرتی ماحول اور پاپائی باغات میں منعقد ہوا، جہاں شرکاء کو ”خدا کی تخلیق اور خالق کی خوبصورتی“ سے متاثر ہونے اور مقامی تجربات کو عالمی ذمہ داری کے ساتھ جوڑنے کا موقع ملا۔
آخر میں پوپ لیو نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اْمید ظاہر کی کہ کاسٹل گاندولفو میں شروع ہونے والا یہ سفر آئندہ بھی مختلف ملاقاتوں اور اقدامات کے ذریعے جاری رہے گا، تاکہ دنیا میں انصاف، انسانی وقار اور محبت پر مبنی ایک نئی تہذیب کی بنیاد مضبوط کی جا سکے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail